یکطرفہ مقابلہ لیکن ڈرامائی دن، آسٹریلیا پھر جیت گیا

لارڈز کے تاریخی میدان پر ایک انتہائی یکطرفہ مقابلے کے بعد کامیابی تو آسٹریلیا کے نصیب میں رہی لیکن دن بہت ڈرامائی تھا۔ پہلے ہی اوور میں ڈیوڈ وارنر باؤنسر کھیلنے میں ناکامی کے ساتھ اپنا ہاتھ تڑوا بیٹھے اور پھر میچ کے اہم ترین مرحلے پر انگلستان کے بین اسٹوکس'آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ' آؤٹ قرار پائے۔ جس کے بعد مقابلہ انگلستان کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسلنے لگا یہاں تک کہ آسٹریلیا نے باآسانی 64 رنز سے کامیابی حاصل کرلی اور سیریز میں اپنی برتری کو دوگنا کرلیا۔

سیریز کے دوسرے ایک روزہ مقابلے میں انگلستان نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا اور جلد ہی اسٹیون فن نے ڈیوڈ وارنر کو زخمی کرکے انہیں باہر جانے پر مجبور کردیا۔ لیکن جو برنس کی وکٹ حاصل کرنے کے بعد انہیں جائے قرار ملتی نہیں دکھائی دی۔ پہلے کپتان اسٹیون اسمتھ اور جارج بیلی نے 99 رنز کی شراکت داری قائم کی اور پھر آنے والے بلے بازوں نے بھی بہترین حصے ڈالے اور آسٹریلیا کو 309 رنز تک پہنچایا۔

اسٹیون اسمتھ 87 گیندوں پر 70 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں بیٹسمین رہے جبکہ بیلی نے 54 رنز بنائے۔ آخری لمحات میں مچل مارش کی 64 رنز کی دھواں دار اننگز نے خوب ماحول جمایا۔ ان کی اننگز محض 31 گیندوں پر 8 چوکوں اور 3 چھکوں پر مشتمل تھی۔ گلین میکس ویل نے 49 رنز بنائے جبکہ شین واٹسن نے 39 رنز اسکور کیے۔

انگلستان کی جانب سے بین اسٹوکس نے 3 وکٹیں حاصل کیں، البتہ 9 اوورز میں 60 رنز بھی دیے۔ دو کھلاڑیوں کو اسٹیون فن نے آؤٹ کیا جبکہ ایک، ایک وکٹ عادل رشید اور معین علی کو ملی۔

انگلستان کو 49 اوورز میں 310 رنز کا مشکل ہدف ملا جو اس وقت تک تو دسترس میں دکھائی دیتا تھا جب تک آدھے یعنی 25 اوورز ہوئے تھے لیکن 26 ویں اوور میں بین اسٹوکس کے متنازع آؤٹ نے مقابلے کا منظرنامہ ہی بدل کر رکھ دیا۔

مچل اسٹارک نے اوور کی چوتھی گیند پر پھینکی، جسے اسٹوکس نے سیدھا گيندباز کے ہاتھ میں کھیلا۔ کیونکہ وہ اس وقت کریز سے باہر تھے اس لیے اسٹارک نے آؤ دیکھا نہ تاؤ واپس تھرو پھینکا۔ گیند سیدھا وکٹوں کی جانب جاتی دکھائی دے رہی تھی اور اسٹوکس کے بھی خاصی قریب تھی اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان سے گیند کو ہاتھ سے روکنے کی غلط سرزد ہوگئی۔ اسٹارک نے امپائر کی اور امپائر کمار دھرماسینا اور ٹم رابنسن نے باہم مشورہ کرنے کے بعد تیسرے امپائر جو ولسن سے رجوع کیا۔ جنہوں نے کچھ غور و خوض کے بعد اسٹوکس کی واپسی کا پروانہ جاری کردیا۔ ایون مورگن اور دیگر کھلاڑیوں کی امپائر سے بحث اور آسٹریلیا کے کھلاڑیوں سے منہ ماری بھی ہوئی۔ یہاں تک کہ تماشائیوں کے آوازوں کے درمیان اسٹوکس میدان بدر ہوئے۔

وکٹ بھی گئی اور ذہن بھی بٹ گیا، انگلستان پھر مقابلے میں واپس نہ آ سکا۔ اگلے ہی اوور میں میکس ویل نے جوس بٹلر کو صفر کی ہزیمت سے دوچار کیا اور 43 ویں اوور تک پہنچتے پہنچتے پوری ٹیم 245 رنز پر آؤٹ ہو چکی تھی۔ نویں وکٹ پر مورگن نے لیام پلنکٹ کے ساتھ 55 رنز کی شراکت داری قائم کی لیکن آسٹریلیا کے لیے خطرہ پھر بھی نہ بن سکے اور بالآخر 85 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی بنے۔ مورگن کے علاوہ واحد قابل ذکر اننگز جیمز ٹیلر کی تھی، جنہوں نے 43 رنز بنائے۔

آسٹریلیا کی جانب سے پیٹ کمنز 4 وکٹوں کے ساتھ سب سے نمایاں شکاری رہے۔ ان کے علاوہ دو وکٹیں میکس ویل کو ملی اور ایک، ایک اسٹارک، ناتھن کولٹر-نائل اور مارش کے نام رہی۔

مارش کو زبردست آل راؤنڈ کارکردگی، اور مقابلے کا رخ پلٹ دینے والی اننگز کھیلنے، پر بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔

اب دونوں ٹیمیں 8 ستمبر کو اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر میں تیسرے ایک روزہ مقابلے میں شریک ہوں گی۔ انگلستان کے لیے اب شکست کا کوئی موقع نہیں ہے۔ آسٹریلیا کے ہاتھوں مسلسل 9 ایک روزہ مقابلوں میں شکست کے بعد اب ایک اور سیریز داؤ پر لگ گئی ہے اس لیے اولڈ ٹریفرڈ میں لازمی کامیابی حاصل کرنا ہوگی، ورنہ عالمی چیمپئن آسٹریلیا ابتدائی تین مقابلوں میں ہی سیریز لے اڑے گا۔

Facebook Comments