قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کا دوسرا دن ایبٹ آباد، پشاور، سیالکوٹ، بہاولپور اور ملتان کے نام رہا

قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کا دوسرا دن بھی جوش و خروش سے بھرپورگزرا جہاں ایبٹ آباد، پشاور، سیالکوٹ اور بہاولپور نے فتوحات سمیٹیں۔

اگر بات کی جائے گروپ اے کی ٹیموں کی تو بہاولپور ریجن نے کراچی وائٹس کو شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 42 رنز سے شکست دے دی۔ ڈائمنڈ کرکٹ گراونڈ اسلام آباد میں کھیلے جانے والے میچ میں کراچی نے ٹاس جیت کر بہاولپور کو پہلے بلے بازی کی دعوت دی جس کا بہالپور نے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ فیصل مبشر اور معین الدین کی نصف سنچریوں کی بدولت بہاولپور نے 20 اوورز میں 174 رنز بنائے۔ جواب میں کراچی وائٹس ابتداء سے مشکل میں دکھائی دی۔ شہریار غنی اور احسن علی کے سوا کوئی بھی بلے باز نے بہاولپور کے گیندبازوں کے سامنے مزاحمت نہ کرسکا۔ شہریار نے 28 گیندوں پر 32 رنز بنائے تو احسن علی 27 گیندوں پر 28 رنز ۔ بقیہ بلے بازوں کی ناکامی کی بدولت کراچی کی پوری ٹیم صرف 132 رنز پر ڈھیر ہوگئی ۔ بہاولپور کی جانب سعادت منیر سب سے کامیاب گیند باز رہے جنہوں نے 3 کھلاڑیوں کی پویلین کی رہ دکھائی جبکہ کامران حسین اور ظاہر صدیقی کے حصے میں دو، دو وکٹیں آئی۔

اِس طرح بہاولپور کو اِس میچ میں 42 رنز سے فتح نصیب ہوئی۔ فیصل مبشر کو آل راونڈ کارکردگی کی بنیاد پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جنہوں نے 47 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے 56 رنز بنائے جبکہ 4 اوورز میں 29 رنز کے عوض ایک وکٹ بھی لی تھی۔

گروپ اے کے دوسرے میچ میں سیالکوٹ ریجن بڑے اپ سیٹ کو بمشکل روکنے میں کامیاب رہی اور حیدرآباد ریجن کو صرف چار سے شکست دینے میں کامیاب رہی۔ حیدرآباد نے ٹاس جیت کر گیند بازی کا فیصلہ کیا اور میچ کا آغاز ہوتے ہی فیصلہ بالکل ٹھیک ثابت ہوا کیونکہ حیدرآباد کے گیندبازوں نے صرف 7 رنز پر سیالکوٹ کے دو بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھادی ۔اِس مشکل حالات میں بلال آصف اور کپتان شعیب ملک کی ذمہ دارانہ بلے بازی نے سیالکوٹ کو سہارا دیا اور مقررہ اوورز میں ٹیم کا اسکور 163 تک پہنچادیا۔ بلال آصف نے 38 گیندوں پر 1 چھکے اور 7 چوکوں کی مدد سے 53 رنز بنائے جبکہ شعیب ملک نے 3 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 28 گیندوں پر 52 رنز کی جارح مزاج اننگ کھیلی۔

163 رنز کے جواب میں حیدرآباد کا آغاز اچھا تھا اور تقریباً تمام ہی بلے بازوں نے ہدف کے تعاقب میں ٹیم کی مدد کی۔شعیب لغاری نے سب سے زیادہ 29 رنز بنائے ۔ لیکن اِ ن کارکردگی کے باوجود ایک وقت ایسا آگیا تھا جب حیدرآباد کے محض 123 رنز پر 7 کھلاڑی آوٹ ہوگئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ سیالکوٹ بڑے مارجن سے میچ باآسانی جیت جائے گا۔ مگر میچ کا رُخ اُس وقت تبدیل ہوا جب آخری نمبر پر آنے والے نعمان علی اور بابر خان نے 15، 15 رنز بناتے ہوئے میچ کو آخری اوور تک لے گئے مگر بدقسمتی سے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنا ر نہ کرواسکے۔

سیالکوٹ کی جانب سے سب سے کامیاب بولر بلال آصف تھے جنہوں نے 4 اوور ز میں صرف 11 رنز دیکر 3 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا جبکہ احمد بٹ نے بھی 3 وکٹیں لیں مگر 50 رنز دیتے ہوئے مہنگے باولر ثابت ہوئے۔

بلال آصف کو 56 رنز اور 3 وکٹیں لینے کی وجہ سے میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

گروپ اے ہی ایک اور میچ میں ملتان ریجن نے کامران اکمل کی شاندار نصف سنچری کی بدولت راولپنڈی ریجن کو باآسانی 8 وکٹوں سے شکست دے دی۔ راولپنڈی نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا مگر یہ فیصلہ اُس کے حق میں نہ گیا۔ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے راولپنڈی کی پوری ٹیم محض 132 رنز ہی بناسکی۔ اگرچہ ہی بلے بازنے اچھا آغاز کیا مگر کوئی بھی وکٹ پر دیر تک نہیں ٹھہر سکا۔ راولپنڈی کی جانب سے سب سے زیادہ رنز اویس ضیاء نے بنائے جنہوں نے 20 گیندوں پر برق رفتار 33 رنز بنائے۔

ملتان کی جانب سے سب ہی گیندبازوں نے راولپنڈی کو جلدی آوٹ کرنے کے برابر کاحصہ ڈالا۔ راحت علی، ذوالفقار بابر، ماجد علی اور کاشف نوید نے دو، دو کھلاڑیوں کو آوٹ کیا جبکہ دو کھلاڑی رن آوٹ ہوئے۔

اِس مختصر ہدف کے تعاقب کے لیے ملتان کے بلے باز جارحانہ انداز میں میدان میں اترے اور محض اٹھارویں اوور میں یہ ہدف صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر باآسانی حاصل کرلیا۔ ملتان کی جانب سے سب سے کامیاب بلے باز کامران اکمل رہے جنہوں نے 35 گیندوں پر 51 رنز بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا جبکہ عمران فرحت، صہیب مقصود اور نوید یاسین نے بالترتیب 24، 24 اور 28 رنز بنائے۔

گروپ بی کےپہلے میچ میں ایبٹ آباد ریجن نے ٹیم ایفرٹ کے ذریعے لاہور وائٹس کو 83 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے دی۔

لاہور نے ٹاس جیت کر ایبٹ آباد کو بلے بازی کی دعوت دی جسے ایبٹ آباد کے بلے بازوں نے غنیمت جانتے ہوئے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور ٹیم کے اسکور کو محض 3 وکٹوں کے نقصان پر 198 تک لے گئے۔ ایبٹ آباد کی اننگ کی خاص بات یاسر حمید اور کپتان یونس خان کی نصف سنچریاں تھیں۔ یاسر حمید نے 43 گیندوں پر 2 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے 67 رنز بنائے جبکہ یونس خان نے 61 رنز بنانے کے لیے 39 گیندوں ، 1 چھکے اور 8 چوکوں کی مدد لی۔

اگرچہ یہ ہدف مشکل دکھائی دےرہا تھا اور ایسا گمان انتداء سے ہی ہورہا تھا کہ لاہور کو میچ جیتنے کے لیے سخت محنت درکار ہوگی مگرلاہور جس بڑے مارجن سے شکست ہوئی اِس کا تصور بالکل بھی نہیں تھا۔31 رنز بنانے والے محمد حفیظ کے سوا کوئی کھلاڑی ایبٹ آباد کے گیندبازوں کا مقابلہ نہیں کرسکا۔

اگرچہ جنید خان اور یاسر شاہ نے دو، دو کھلاڑیوں کو آوٹ کیا مگر لاہور کو محض 115 پر ڈھیر کرنے کا تاج اِن بڑے ناموں کو نہیں جاتا بلکہ بائیں ہاتھ سے اسپن باولنگ کرنے والے خالد عثمان کو جاتا ہے جنہوں نے 4 اوورز میں محض 26 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

گروپ بی کا دوسرا میچ نسبتاً لو اسکورنگ میچ رہا جس میں پشاور ریجن نے فیصل آباد باآسانی 5 وکٹوں سے شکست دی۔

فیصل آباد نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا جو غلط ثابت ہوا اور پوری ٹیم 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر صرف 133 رنز ہی بناسکے۔ کپتان مصباح الحق کے علاوہ کوئی بھی بلے باز ٹیم کو اچھے ٹارگٹ تک لیجانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ مصباح نے 33 گیندوں پر 2 چھکوں اور 3 چوکوں کی وجہ سے 38 رنز بنائے۔

پشاور کی جانب سے سب سے کامیاب باولر عمران خان رہے جنہوں نے 4 اوورز میں صرف 20 رنز دیکر 4 وکٹیں حاصل کیں۔

ہدف کے تعاقب کے لیے پشاور کی ٹیم نے اچھا آغاز لیا اور افتخار احمد کی نصف سنچری کی بدولت پشاورنے یہ میچ 5 وکٹوں سے اپنے نام کرلیا جبکہ اننگ کی 7 گیندیں ابھی باقی تھیں۔میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پانے والے افتخار احمد نے 2 چھکوں اور 4 چوکوں کی بدولت 51 رنز بنائے۔

Facebook Comments