کون کون سیمی فائنل میں پہنچا؟ فیصلہ ہوگیا

اتوار کو گروپ بی کے اہم ترین میچ میں عمران خان جونئیر کی شاندار ہیٹ ٹرک کی بدولت کراچی ریجن کو شکست دیتے ہوئے پیشاور ریجن نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا۔

جب میچ کا آغاز ہوا تو پشاور نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا اور گیند بازوں نے یہ فیصلہ ٹھیک ثابت کیا اور پشاور کی ٹٰیم کو 156 رنز تک محدود کرلیا۔ کراچی کی جانب سے سب سے زیادہ رنز خالد لطیف نے بنائے جنہوں نے 2 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 34 گیندوں پر 40 رنز بنائے۔ اننگ کی خاص بات بائیں ہاتھ سے گیند بازی کرنے والے عمران خان کی ہیٹ ٹرک تھی۔

جب پشاور کی بلے بازی کا آغاز ہوا تو کراچی کو پہلی وکٹ تو صرف 11 کے اسکور پر حاصل ہوگئی تھی مگر پھر اصرار اللہ کی جارح مزاج اننگ کی بدولت میچ کراچی کے ہاتھ سے نکل گیا اور پشاور نے 7 وکٹوں سے باآسانی میچ اپنے نام کرلیا۔

اسراراللہ کے 52 گیندوں پر 82 رنز اور عمران خان کی 4 وکٹوں کی بدولت دونوں کھلاڑیوں کو میچ کا بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔

_______________________________________________________________________

دوسرے میچ میں ایبٹ آباد ریجن نے محمد نعیم کی شاندار گیند بازی کی بدولت اسلام آباد ریجن کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔

ایبٹ آباد نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جسے محمد نعیم نے 5 وکٹیں لے کر بالکل ٹھیک ثابت کیا اور اِس شاندار کارکردگی کی بدولت اسلام کی پوری ٹیم انیسویں اوور میں محض 146 تک محدود رہی۔

اِس کم اسکور کر ایبٹ آباد کے بلے بازوں نے غنیمت جانا اور فخر زمان کی شاندار جارح مزاج اننگ کی بدولت میچ کو چھ وکٹوں سے جیت لیا۔ فخر زمان نے ایک چھکے اور 14 چوکوں کی بدولت 39 گیندوں پر 78 رنز بنائے۔

لیکن میچ کے بہترین کھلاڑی کے لیے انتخاب ہوا پانچ وکٹیں لینے والے محمد نعیم کا۔

_______________________________________________________________________

گروپ بی کے تیسرے میچ میں مقابلہ ہوا لاہور ریجن وائٹس اور فیصل آباد ریجن کا جو لاہور ریجن نے محمد عرفان کی شاندار باولنگ کے نتیجے میں 6 وکٹوں سے جیت لیا۔

فیصل آباد نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا مگر بلے بازوں نے کپتان کے فیصلے کی بالکل حمایت نہیں کی اور صرف 3 کھلاڑی کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی دہرے ہندسے تک نہیں پہنچ سکا۔ اگر یہ کہا جائے کہ راحیل امیر نے فیصل آباد کی عزت رکھ لی تو ہرگز غلط نہیں ہوگا جنہوں نے کل 140 میں سے 87 رنز بنائے جن کے لیے اُنہوں نے 6 چھکوں اور 3 چوکوں کے ساتھ ساتھ 55 گیندوں کا سہارا لیا اور یہی وجہ ہے کہ میچ ہارنے کے باوجود راحیل امیر کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

لاہور کی جانب سے ہدف کا تعاقب منظم انداز میں کیا گیا اور انیسویں اوور میں ہی فتح اپنے نام کرلی۔ تمام ہی کھلاڑی نے حصہ بقدر جثہ کے مصداق ٹیم کی فتح میں اپنا کردار ادا کیا۔

_______________________________________________________________________

اب بات کرتے ہیں گروپ اے کے میچوں کی جہاں سیالکوٹ نے بہاولپور کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا۔

سیالکوٹ کے گیندبازوں نے شروع سے ایسی ڈھاک بٹھائی کہ بہاولپور کے بلے باز کچھ بھی نہ کرسکے۔ صورتحال تو ابتداء سے ہی خراب تھی کہ 22 رنز پر آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی۔

یہ تو بھلا ہو کامران حسین کا جن کے 43 رنز کی بدولت ٹیم 96 رنز تک پہنچی ورنہ ابتدائی صورتحال دیکھ کر تو یہ لگ رہا تھا کہ شاید بہاولپور 50 رنز بھی نہ بناسکے۔ سیالکوٹ کی جانب سے سب سے کامیاب بولر حسن علی رہے جنہوں نے صرف 11 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ یہی وہ کارکردگی تھی جس کی بنیاد پر اُن کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

بس 96 رنز کے ہدف کو مختار احمد اور نعمان انور نے محض آٹھویں اوور میں ہی حاصل کرتے ہوئے ٹیم کو سیمی فائنل تک پہنچادیا۔

_______________________________________________________________________

گروپ اے کے دوسرے میچ میں حیدرآباد اعصاب شکن میچ میں راولپنڈی ریجن کو دو وکٹوں سے شکست دینے میں کامیاب ہوگئی۔

راولپنڈی نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور ٹیم ایفرٹ کے ذریعے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 158 رنز بنائے۔ راولپنڈی کی جانب سے کامیاب بلے باز عمر امین رہے جنہوں نے 8 چوکوں کی مدد سے 40 گیندوں پر 52 رنز بنائے۔ جبکہ حیدرآباد کی جانب سے نعمان علی 3 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جن کو میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا ہے۔

راولپنڈی کے مقابلے میں نسبتاً کمزور حیدرآباد کے بارے میں خیال یہی تھا کہ شاید وہ اِس حدف کا تعاقب نہ کرسکے مگر حیدرآباد کے بلے بازوں نے ایسی سوچ رکھنے والوں تمام ہی لوگوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے میچ کو بیسوے اوور کی پانچویں گیند پر 2 وکٹوں سے اپنا نام کرلیا۔

حیدرآباد کی فتح میں عظیم گھمن کے 41 رنز، فیصل اطہر کے 31 رنز اور شعیب گھمن کے 34 رنز نے مرکزی کردار ادا کیا۔

ٹورنامنٹ کے راونڈ میچز اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں اور پیر سے سیمی فائنل کا آغاز ہورہا ہے۔ جس میں پہلا مقابلہ ملتان ریجن اور کراچی بلیوز کے درمیان پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شام 4 بجے کھیلا جائے گا جبکہ اِسی میدان پر دوسرا سیمی فائنل پشاور ریجن اور سیالکوٹ ریجن کے درمیان رات 8 بجے کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments