کراچی نے قومی ٹی ٹوئنٹی میں چوکرز کی شکل اختیار کرلی

اِس بار کراچی کے پاس قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کا چیمپئن بننے کا پانچواں موقع تھا مگر ماضی کی طرح اِس بار بھی ہاتھ آئی فتح کو مخالف ٹیم کے حوالے کرنے کا اعزاز کراچی نے اپنے ہی پاس رکھا اور فائنل میں پشاور ریجن کے ہاتھوں 7 وکٹوں سے شکست کا مزہ چکھا۔

ٹورنامنٹ میں متعدد بار کامیابی سے ہدف کا تعاقب کرنے کی وجہ سے پشاور نے اِس بار بھی ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ آغاز شاندار تھا کیونکہ پہلے ہی اوور میں پشاور کو شاہزیب حسن کی صورت پہلی کامیابی میسر آگئی۔ جس کے بعد خرم منظور کا ساتھ دینے خالد لطیف آئے جو پورے ٹورنامنٹ میں اچھی فارم میں نظر آئے۔ مگر فائنل میں چھٹے ہی اوور میں عمران خان جونئیر نے خالد لطیف کی وکٹ اُس وقت لی جب وہ 23 رنز پر موجود تھے۔ اُس وقت ٹیم کا اسکور 53 تھا۔ مگر کراچی کو اصل نقصان اُس وقت ہوا جب اچھی بلے بازی کرنے والے خرم منظور 41 رنز بناکر رن آوٹ ہوگئے جس کے بعد ٹیم مشکلات کا شکار ہوئی اور 105 رنز پر آدھی ٹیم پویلین لوٹ گئی تھی۔ شاید آفریدی اِس بار بھی ناکام رہے اور 17 گیندوں پر محض 15 رنز ہی بناسکے۔ اِس موقع پر لگ رہا تھا کہ شاید کراچی 150 بھی نہ کرسکے مگر کپتان سرفراز احمد کی ذمہ دارانہ بلے بازی کے نتیجے میں کراچی 177 رنز بنانے میں کامیاب رہا۔ سرفراز نے 47 رنز بنائے اور ناقابل شکست رہے تھے۔

پشاور کی جانب سے عمران خان جونئیر نے 3 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا جبکہ عمران خان جونئیر دو وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔

پشاور نے ہدف کے تعاقب کا آغاز تو شاندار انداز میں کیا تھا اور ایک بار پھر رفعت اللہ نے نہ صرف ہدف کا تعاقب آسان بنادیا بلکہ فتح میں کلیدی کردار بھی ادا کیا۔ انہوں نے 23 گیندوں پر دو چھکے اور 6 چوکوں کی مدد سے 43 رنز بنائے۔ مگر اُن کے آوٹ ہوتے ہی ٹیم لڑکھڑاگئی اور نویں اوور میں 66 رنز پر 3 کھلاڑی آوٹ ہوگئے تھے۔  اِس موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ شاید کراچی کے نصیب کھلنے جارہے ہیں اور وہ پہلی بار ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کا چیمپئن بننے جارہا ہے۔ مگر محمد رضوان اور افتخار احمد کو ایسا ہرگز منظور نہیں تھا اور اُنہوں نے مشکل وقت میں 110 رنز کی شراکت دار قائم کرتے ہوئے ناممکن کو ممکن بنادیا اور انیسویں اوور کی آخری گیند پر 178 رنز کا ہدف باآسانی 7 وکٹوں سے اپنے نام کرکے لگاتار دوسری بار ایونٹ اپنے نام کرلیا۔ محمد رضوان نے34 گیندوں پر ایک چھکے اور 8 چوکوں کی مدد سے 58 رنز بنائے جبکہ افتخار احمد نے 57 رنز کی شاندار باری کھیلنے کے لیے چار چھکوں اور دو چوکوں کے ساتھ ساتھ 40 گیندوں کا سہارا لیا۔

ناتجربہ کاری کراچی کو لے ڈوبی کیونکہ ٹیم میں شاہد آفریدی اور انور علی کے علاوہ کوئی ایسا گیندباز نہیں تھا جو وکٹیں لینے میں مہارت رکھتا ہو اور یہی وجہ ہے کہ رومن رئیس، عبدالامیر اور سلمان زیب نے 10 رنز سے زیادہ کی اوسط سے رنز دیے۔

میچ میں بہترین بلے بازی کرنے پر محمد رضوان کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا جبکہ ٹورنامنٹ میں شاندار گیندبازی کرنے کے نتیجے میں پشاور ریجن کے عمران خان جونئیر کو ٹورنامنٹ کا بہترین بولر قرار دیا گیا جنہوں نے ہیٹ ٹرک کے ساتھ 16 کھلاڑیوں کا شکار کیا۔

Facebook Comments