"محمد عامر کا سامنا کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں"، اسٹورٹ براڈ

انگلینڈ کے کھلاڑی اسٹورٹ براڈ نے کہا ہے کہ انگلستانی ٹیم ماضی کو بھلانے کے لیے تیار ہے اور اگر اگلے سال اُس کا ٹکراؤ 2010 میں لارڈز ٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزا یافتہ پاکستانی کھلاڑی محمد عامر کے ساتھ ہوا، تو وہ اُن سے کسی عام حریف ہی کی طرح برتاؤ کرے گی۔
ہم آگاہ کرتے چلیں کہ تئیس سالہ عامر اگلے ماہ متحدہ عرب امارات میں وقوع پذیر ہونے والی انگلستان کے خلاف سیریز میں نہیں کھیل پائیں گے کیونکہ پاکستانی ٹیم کے انتخاب کنندگان نے انہیں ٹیسٹ مقابلوں اور پاکستان اے کے وارم اپ مقابلوں کے لیے منتخب نہیں کیا ہے۔ تاہم، اس بات کی کافی امید ہے کہ محمد عامر اگلے سال گرمیوں میں ہونے والے انگلستان کے دورے میں ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
اسٹوارٹ براڈ کہتے ہیں کہ وہ محمد عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں نے اُن کے [محمد عامر کے] چند انٹرویو دیکھے ہیں اور وہ اپنے کیے پر پشیمان اور کرکٹ میں واپسی کے لیے بے چین نظر آتے ہیں۔ ایمانداری کی بات کہوں تو بطور کھلاڑی آپ کو اس سے خاص فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس کا سامنا کر رہے ہیں۔ آپ بس اپنے کھیل پر توجہ دیتے ہیں۔"
لارڈز ٹیسٹ کے وقت اٹھارہ سال کی عمر والے محمد عامر اُسی مقابلے کے دوران کرکٹ تاریخ کے سب سے تیز ترین پچاس وکٹیں لینے والے بالر بنے ہی تھے ایک برطانوی اخبار اُن کی نو بال کی اسپاٹ فسکنگ منظرِ عام پر لے آیا تھا اور اُن پر مقدمے کے بعد چھ مہینے کی قید کی سزا اور ہر قسم کی کرکٹ پر پانچ سالہ پابندی اور لاگو کر دی گئی تھی۔ جیل کی قید سے تو وہ تین مہینوں بعد ہی رہا ہو گئے تھے لیکن اُن کی پابندی میں کوئی تخفیف نہیں کی گئی۔
اُس بدنام ٹیسٹ کے سالوں بعد لارڈز کے میدان پر پاکستان کا اگلا ٹیسٹ اگلے سال 14 جولائی سے شروع ہو گا اور اگر عامر کو اُس ٹیسٹ میں کھیلنے کے لیے منتخب کیا گیا تو یقیناً وہ مقابلہ بہت زیادہ توجہ کا مرکز بنے گا۔ تاہم بروڈ کہتے ہیں کہ ایشز کے دوران انگلینڈ بڑے اور اہم مقابلوں میں ذاتیات کو کنارے پر رکھنا سیکھ چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں، "میرے خیال سے اس سیزن میں انگلینڈ سے غلطیاں اس بنا پر سرزد ہوئی تھیں کہ ہمیں اس بات کی بہت فکر تھی کہ آسٹریلیا اور دیگر ٹیمیں کیا کر رہی ہیں۔ یقیناً ہم اب غلطیوں سے سبق سیکھ چکے ہیں اور اب ہماری توجہ اسی بات پر مرکوز ہو گی کہ ہم اپنے ڈریسنگ روم میں کیا کر رہے ہیں۔"
قابلِ ذکر ہے کہ پانچ سال قبل لارڈز کے جس بدنامِ زمانہ ٹیسٹ مقابلے میں محمد عامر، اُن کے ساتھی گیندباز محمد آصف اور پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ اسپاٹ فکسنگ کے جرم کے مرتکب ہوئے تھے، اُسی ٹیسٹ میں اسٹوارٹ بروڈ نے اپنی پہلی سینچری اور جوناتھن ٹراٹ کے ساتھ مل کر آٹھویں وکٹ کے لیے 332 رنز کی ریکارڈ شراکت داری بنائی تھی۔ لیکن اسپاٹ فکسنگ کے رسوائی بھرے قضیے کے سامنے اُن کی یہ کامیابیاں پسِ پشت چلی گئی تھیں۔

Facebook Comments