یونس خان اپنی ’’زبان‘‘ کی وجہ سے ایک بار پھر مشکل میں

’’اگر مجھے سلیکٹ نہیں کیا جاتا تو کیا خود کو گولی ماردوں؟‘‘، یونس خان کا یہ وہ تاریخی جملہ ہے جس کو نہ صرف میڈیا میں بہت جگہ ملی تھی بلکہ خود یونس خان سے بھی باز پرس کی گئی تھی، لیکن اِس طرح کا بیان نہ یونس خان کی جانب سے پہلی بار آیا تھا اور نہ آخری بار، کیونکہ موجودہ دور میں یہ وہ واحد کھلاڑی ہے جو بغیر لگے لپٹے ہر بات کہنے کی جسارت رکھتا ہے۔

گزشتہ دنوں بھی کچھ ایسا ہی واقعہ ہوا، دورہ زمبابوے کے لیے جب یونس خان کو ایک روزہ کرکٹ کے لیے منتخب نہیں کیا گیا تو نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران بلے باز نے سلیکٹرز پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُن کو منتخب نہیں کیا گیا تو ایک روزہ ٹیم مشکلات کا شکار رہے گی۔

بس اِس بیان کے آنے کے فوری بعد پاکستان کرکٹ بورڈ متحرک ہوئی، نا صرف بیان کا نوٹس لیا بلکہ تادیبی کارروائی کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

منگل کو پریس کانفرنس میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین شہریار خان سے یونس خان کے حالیہ بیان کے حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اِس طرح کے بیان ثابت کرتے ہیں کہ ایک روزہ کرکٹ میں خراب کارکردگی کے سبب سابق کپتان مایوسی ہیں، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ بڑے کرکٹر اور اچھے آدمی ہیں۔

شہریار خان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں اُن سے بات کی جائے گی، اُنہیں سمجھایا جائے گا اور ہر طرح کی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اُن کے بیانات پر ایکشن لینے کا بھی سوچ رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایکشن دو طرح کے ہوتے ہیں ایک بہت سخت اور دوسرا معتدل، ان دونوں کے درمیان بورڈ کو کوئی پوزیشن لینی ہوگی۔

جب شہریار خان سے پوچھا گیا کہ آپ نے پاکستان سپر لیگ کی تقریب میں یونس خان کو کیوں مدعو نہیں کیا؟ تو شہریار خان نے یونس خان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ پاکستان سپر لیگ کی تقریب میں انھیں مدعو نہیں کیا گیا تھا، اگر بورڈ نے دعوت نہیں دی ہوتی تو وہ خود یونس خان سے معافی مانگتے۔

واضح رہے کہ یونس خان نے گزشتہ تین سالوں میں 29 ایک روزہ میچوں میں قومی ٹیم کی نمائندگی کی ہے جس میں اُن کی اوسط 18.32 رہی ہے۔

 

Article Tags

Facebook Comments