بنگلادیشی کھلاڑی شہادت حسین اپنی خادمہ پر تشدد کے الزام میں گرفتار

بنگلادیشی تیز گیندباز شہادت حسین کو آج ڈھاکا کورٹ کے سامنے پیش ہونے کے بعد اپنی خادمہ پر مبینہ جسمانی تشدد کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اسی الزام کے تحت شہادت حسین کی بیوی کو بھی دو دن قبل رشتے داروں کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔
شہادت حسین نے آج صبح منصفِ شہر محمد یوسف حسین کی عدالت میں ضمانت کی عرضی پیش کی ہے۔ ان میاں بیوی پر عورتوں اور بچوں پر تشدد کے انسداد کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے پولیس کو 12 اکتوبر تک اپنی رپورٹ جاری کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
پچھلے مہینے چھ ستمبر کو شہادت حسین نے میرپور پولیس کو اپنی خادمہ کی گمشدگی کی شکایت درج کرائی تھی۔ اُسی رات ایک مقامی صحافی خوندکار معظم الحق کو وہ گیارہ سالہ خادمہ زخمی حالت میں سڑک پر ملی تھی، جسے وہ میرپور تھانے لے آئے تھے۔ وہاں خادمہ کے بیان کے بعد شہادت حسین اور اُن کی بیوی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا اور لڑکی کو ڈھاکا میڈیکل کالج ہستپال میں علاج معالجے کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔
شہادت حسین اُس کے اگلے دن سے غائب تھے تاآنکہ انہوں نے آج اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دیا۔ بنگلادیشی کرکٹ بورڈ نے تیرہ ستمبر کو اُنہیں مقدمے کے حل ہونے تک معطل کر دیا تھا۔ شہادت نے عالمی کرکٹ میں بنگلادیش کی نمائندگی کرتے ہوئے آخری بار مئی میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ کھیلا تھا، جس میں وہ اپنے گھٹنے کے زخمی ہو جانے کے باعث کچھ مہینوں کے لیے کرکٹ سے کنارہ کَش ہو گئے تھے۔

Facebook Comments