ترجیح ملک یا آئی پی ایل؛ گمبھیر بھی دورۂ ویسٹ انڈیز نہ کھیلنے کے خواہاں، انجری کا بہانہ

بھارتی پریمیئر لیگ نے دولت کے پجاری کھلاڑیوں کو اندھا کر دیا ہے۔ کرس گیل اور لاستھ مالنگا کا اپنے ممالک کی جانب سے کھیلنے کے بجائے آئی پی ایل کو ترجیح دینا اس بات کا مظہر تھا کہ کھلاڑی اب ملک کے بجائے پیسے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ اور اب 'اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے' کے مصداق خود بھارتی کھلاڑی بھی قوم کی نمائندگی کو اہمیت نہیں دے رہے۔

دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے بھارت کے کپتان منتخب کیے گئے گوتم گمبھیر کو اب یاد آ رہا ہے کہ انہیں عالمی کپ 2011ء کے فائنل میں کندھے میں انجری ہو گئی تھی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں 6 ہفتے آرام کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنے 'زخمی' کندھے کو کچھ آرام دے سکیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اسی 'زخمی' کندھے کے ساتھ وہ پورا آئی پی ایل کھیلے اور 2.4 ملین ڈالرز بھی کمائے لیکن جیسے ہی ملک کی جانب سے کھیلنے کا معاملہ آیا فورا ہی تکالیف نمایاں ہونا شروع ہو گئیں۔

گوتم عالمی کپ کے فائنل میں کندھے کی تکلیف کا شکار ہوئے تھے

گمبھیر سے قبل سہواگ بھی اپنی انجری کے باوجود آئی پی ایل میں کھیلتے رہے اور دونوں کھلاڑیوں کا یہ رویہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

گوتم گمبھیر کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے ٹرینر اینڈریو لائپس نے انہیں چار سے چھ ہفتے آرام کا مشورہ دیا ہے۔ اور انہوں نے یہ رپورٹ بی سی سی آئی کو جمع بھی کروائی ہے۔ حیرتناک بات یہ ہے کہ یہ رپورٹ اس دن جمع کرائی گئی ہے جب گوتم ممبئی انڈینز کے خلاف میچ کھیل رہے تھے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری این سرینواسن کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ گوتم اپنے دائیں کندھے میں شدید تکلیف محسوس کر رہے ہیں اور یہ چوٹ انہیں سری لنکا کے خلاف 2 اپریل کو کھیلے گئے عالمی کپ 2011ء کے فائنل میں لگی تھی۔ متعدد اسکینز سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ انجری سنجیدہ نوعیت کی ہے اس لیے انہیں چار سے چھ ہفتے تک گیند پھینکنے اور بلے بازی نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

اس طویل خط میں انجری کی نوعیت اور دیگر حوالوں کے ساتھ بی سی سی آئی کو قائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ گوتم کو آرام کا موقع دے۔

اگر گوتم گمبھیر بھی ویسٹ انڈیز کا دورہ نہیں کرتے تو بھارت اپنے تین ماہر اوپنرز کے بغیر کیریبین سرزمین پر اترے گا۔ کیونکہ وریندر سہواگ بھی کندھے کی انجری سے صحت یاب ہو رہے ہیں جبکہ سچن ٹنڈولکر کو طویل طرز کی کرکٹ کے لیے مختصر طرز میں آرام دیا جا رہا ہے۔

بھارت پہلے ہی کپتان مہندر سنگھ دھونی، سچن ٹنڈولکر، وریندر سہواگ اور ظہیر خان جیسے سینئر کھلاڑی کی خدمات سے محروم رہے گا جن کو انجریز اور آرام دینے کی غرض سے ویسٹ انڈیز نہیں بھیجا جائے گا۔ اس وقت ویسٹ انڈیز جانے والی ٹیم میں چند ہی کھلاڑی ہیں جو وہاں کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں بیشتر کھلاڑی اپنے کیریئر کے ابتدائی مراحل میں ہیں یا پھر ویسٹ انڈیز میں اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کریں گے۔

بھارت کے دورۂ ویسٹ انڈیز کا باضابطہ آغاز 4 جون کو پورٹ آف اسپین میں واحد ٹی ٹوئنٹی کے ذریعے ہوگا جس کے بعد دونوں ٹیمیں 5 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں اور 3 ٹیسٹ میچز میں آمنے سامنے ہوں گی۔

بھارت اس وقت ایک روزہ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں دوسری اور ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ ویسٹ انڈیز ایک روزہ میں آٹھویں اور ٹیسٹ میں ساتویں درجے پر ہے۔ درجہ بندی کے تعین کے طریقہ کار کے مطابق اگر سرفہرست ٹیم نچلے درجے کی ٹیموں سے شکست کھاتی ہے تو اسے بہت زیادہ پوائنٹس سے محروم ہونا پڑتا ہے اس لیے بھارت ویسٹ انڈیز کے خلاف کسی ایک میچ میں بھی شکست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بھارتی دستے میں اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی اور ویسٹ انڈین دستے میں اہم کھلاڑیوں کی واپسی سیریز کو دلچسپ بنا سکتی ہے۔

Facebook Comments