کیا انگلستان اسپن چیلنج سے نمٹ پائے گا؟

جب 2012ء میں متحدہ عرب امارات میں انگلستان کو پاکستان کے ہاتھوں تینوں ٹیسٹ میں شکست کا سامنا ہوا، تو ایلسٹر کک، این بیل، جیمز اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ بھی انگلستان کے دستے کا حصہ تھے اور آج جب ایک مرتبہ پھر ان صحراؤں میں پاکستان کا مقابلہ کرنے کے لیے انگلش اسکواڈ موجود ہے تو ان چاروں کو تو خوب اندازہ ہوگا کہ انہیں کس مشکل امتحان کا سامنا ہے۔

گو کہ دنیائے کرکٹ کے لیے یہ ایشیز کی طرح ہنگامہ خیز اور پرجوش سیریز نہیں ہوگی، لیکن انگلستان کے لیے شاید یہ آسٹریلیا کے مقابلے سے بھی بڑا امتحان ثابت ہو۔ پاکستان کا اپنے "نئے گھر" متحدہ عرب امارات میں ریکارڈ شاندار ہے، پچھلے پانچ سالوں سے وہ یہاں پر کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہارا حالانکہ 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد پاکستان کرکٹ کا زوال یقینی تھا لیکن مصباح کی قیادت نے نہ صرف پاکستان کو دنیائے کرکٹ میں زندہ رکھا بلکہ کامیابی کے راستے پر بھی گامزن کیا۔ اب مصباح 41 سال کے ہوچکے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ یہ سیریز ان کے غیر معمولی کیریئر کا آخری لمحہ بھی ہو سکتی ہے۔ مصباح اب تک 58 ٹیسٹ مقابلوں میں 4 ہزار رنز بنا چکے ہیں جن میں سے 3880 رنز انہوں نے اپنی تیسویں سالگرہ کے بعد بنائے ہیں۔

یہ بات تو طے ہے کہ اس مرتبہ انگلستان 2012ء کے مقابلے میں کمزور باؤلنگ اور بہتر بیٹنگ لائن رکھتا ہے۔ پچھلی سیریز میں انگلستان کے لیے وکٹیں لینا کوئی بڑا مسئلہ نہیں لگ رہا تھا۔ وکٹوں میں باؤنس موجود نہ ہونے کے باوجود اسٹورٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن کی جوڑی 22 وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئی جبکہ اسپنرز گریم سوان اور مونٹی پنیسر کے حصے میں 27 وکٹیں آئیں۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح پچھلی بار بھی انگلینڈ نے دو اسپنرز کو کھلانے کا فیصلہ اس وقت لیا جب تک یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں نہ ہوگئی کہ اسپنرز کو کھلانا ہی دانشمندی ہے۔ اندازہ لگائيے کہ مونٹی نے اپنی 14 وکٹیں آخری دو ٹیسٹ مقابلوں ہی میں لیں۔

joe-root-ian-bell

اس مرتبہ بھی براڈ اور اینڈرسن دستے کا حصہ ہیں، ان کا ساتھ دینے کے لیے بین اسٹوکس بھی موجود ہیں جن کی ریورس سوئنگ صلاحیت اور بیٹنگ کی استعداد ان کی ٹیم میں شمولیت کی ضامن ہے۔ براڈ اور اینڈرسن بھی اسٹوکس کو اپنے تجربوں سے آگاہ کرنے کے لیے موجود ہیں اس لیے تیز گیندبازی کے شعبے میں تو انگلستان کو زيادہ پریشانی نہیں دکھائی دیتی لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس بار نہ ہی سوان ہیں اور نہ ہی مونٹی۔ گریم سوان کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں، مونٹی فی الحال ٹیم سے باہر ہیں بلکہ دسمبر 2013ء سے اب تک کوئی ٹیسٹ ہی نہیں کھیلا۔ اگر وہ دستے میں شامل ہوتے تو شاید ان کی اسپن گیندبازی امارات کی پچوں پر فائدہ مند ثابت ہوتی، لیکن شاید!

بہرحال، سوان اور مونٹی کی عدم موجودگی میں اس بار اسپن گیندبازی کی ذمہ داری ناتجربہ کار کاندھوں پر ہے۔ معین علی صرف16 ٹیسٹ مقابلوں کے ساتھ موجودہ دستے کے سب سے تجربہ کار اسپن گیندباز ہیں۔ ابھی تک تو وہ چار تیز گیندبازوں کے ہمراہ ایک معاون باؤلر کی حیثیت سے ہی کھیلتے رہے ہیں،اور اسپن کے لیے مددگار میدانوں میں بھی ابھی تک کوئی ایسی کارکردگی پیش نہیں کرسکے جو سرخیوں کا حصہ بنی ہو لیکن اب ان کا بہت بڑا امتحان ہے۔ یہاں معین علی کا ساتھ عادل رشید بھی دے سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے آج تک کوئی ٹیسٹ مقابلہ نہیں کھیلا یعنی اگر انہیں ایک ٹیسٹ بھی کھلایا گیا تو یہ ان کے کیریئر کا آغاز ہوگا۔ کیا انگلستان یہ خطرہ مول لے سکتا ہے؟ معلوم نہیں۔

اب ذرا پاکستان کی اسپن گیندبازی کو دیکھیں۔ یاسر شاہ، 10 ٹیسٹ مقابلوں میں 61 وکٹیں، جن میں آسٹریلیا کے خلاف یہاں کھیلی گئی گزشتہ سیریز میں صرف 17 کے اوسط سے 12 وکٹیں لی تھیں، وہ بھی محض دو ٹیسٹ مقابلو ںمیں۔ ان کے ساتھ بائیں ہاتھ کے ذوالفقار بابر ہوں گے، جنہوں نے اسی سیریز میں 14 آسٹریلوی بلے بازوں کو شکار کیا تھا۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انگلش بلے بازوں کو کتنے بڑے خطرے کا سامنا ہے۔

گزشتہ ٹیسٹ سیریز میں انگلستان کے بلے باز پاکستان کے سعید اجمل اور عبد الرحمٰن کی اسپن گیندبازی کے سامنے بری طرح ناکام ہوئے تھے۔ تین مقابلوں کی سیریز میں اہم ترین بلے باز این بیل کا اوسط محض 8.50، کیون پیٹرسن کا 11.16 اور ایون مورگن کا 13.66 تھا۔ لہٰذا، اس بار بھی انگلستان کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے، اور اگر وہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کی مضبوط اسپن گیندبازی کے سامنے اچھا کھیل پیش کر گئے تو یہ ایک قابلِ ذکر کامیابی کہلائے گی۔

Facebook Comments