آشون کے علاوہ کسی میں وکٹ لینے کی صلاحیت نہیں: شعیب اختر

پاکستان کے سابق تیز گیندباز اور رفتار کے بے تاج بادشاہ شعیب اختر نے کہا ہے کہ اس وقت نہ صرف بھارت کی گیندبازی کمزور ہے بلکہ ملک کو ایسے باؤلرز کی کمی کا بھی سامنا ہے جو حریف بلے بازوں کو دباؤ میں لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے ابتدائی دو مقابلوں میں ناکامی کا منہ دیکھنے والی بھارتی باؤلنگ لائن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے راولپنڈی ایکسپریس نے کہا کہ اس وقت بھارت کے پاس صرف ایک ایسا گیندباز ہے جو وکٹ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ ہے روی چندر آشون۔ ان کے علاوہ کوئی ایسا باؤلر نظر نہیں آتا، چاہے فاسٹ ہو یا اسپن، جس میں یہ قابلیت موجود ہو۔

پہلے ٹی ٹوئنٹی میں 200 کا ہدف حاصل کرنے میں ناکامی اور پھر سیریز میں دو-صفر کی شکست پر شعیب اختر کا کہنا تھا کہ بھارت کی شکست کی اصل وجہ یہی ہے کہ نہ تو اُس کے پاس ایسے تیز گیند باز ہیں جو وقتاً فوقتاً وکٹیں لے سکیں اور نہ ہی ایسے اسپنرز ہیں جو بلے بازوں کو رنز بنانے سے روک سکیں۔شعیب کا مزید کہنا تھا کہ محمد شامی کی انجری اور اُمیش یادو کو موقع نہ دینے کے بعد یہ کمزوری مزید کُھل کر سامنے آ گئ ہے کہ اِن دونوں گیند بازوں کے علاوہ تیسرا کوئی تیز گیند باز ہے ہی نہیں، جو متاثر کرسکے۔

شعیب اختر نے کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی میں کامیابی کے لیے بھارت کو اپنی منصوبہ بندی تبدیل کرنا ہوگی، اور ساتھ ساتھ دھونی کو کھلاڑیوں کے انتخاب پر غور و خوض کی ضرورت ہے۔ "میں یہ سمجھتا ہوں کہ امباتی رائیڈو کی جگہ اجنکیا راہانے کو موقع دینا چاہیے۔"

ایک روزہ سیریز سے قبل "نیک مشورہ" دیتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ فتح کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے بھارت کو تین اسپن گیندباز کھلانے چاہئیں کیونکہ یہی اسپنرز اس کی اصل طاقت ہیں اور بھارت کی وکٹیں ان کے لیے مددگار بھی ہوتی ہیں۔

دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں عوام کی ہلڑ بازی پر شعیب اختر کا کہنا تھا کہ وہ تماشائیوں کے غم و غصے کو سمجھتے ہیں، جب ٹیم اتنا برا کھیلے تو جذبات ابھرتے ہیں لیکن میدان میں بوتلیں پھینکنا اور مقابلے میں رکاوٹ ڈالنا کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اس سے بھارت اور یہاں کے عوام کا دنیا بھر کو غلط تاثر گیا ہے۔

سیریز کا تیسرا و آخری ٹی ٹوئنٹی کل یعنی 8 اکتوبر کو کلکتہ میں کھیلا جائے گا

Facebook Comments