تیسرے ٹی ٹوئنٹی کی منسوخی نے بھارت میں نئی بحث چھیڑدی

اگرچہ جنوبی افریقہ نے ابتدائی دو ٹی ٹوئنٹی میچوں میں بھارت کو زیر کرکے سیریز اپنے نام کرلی تھی، مگر اِس کے باوجود شائقین کرکٹ تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ دیکھنا چاہتے تھے لیکن شاید بارش کو یہ ہرگز منظور نہیں تھا کیونکہ بارش کے سبب بغیر کوئی بال کھیلے تیسرا میچ منسوخ کردیا گیا تھا۔

لیکن میچ کی منسوخی نے جہاں ایک طرف شائقین کرکٹ کو مایوس کیا وہیں کرکٹ ایسوسی ایشن کو شرمندہ بھی کردیا کیونکہ محض آدھے گھنٹے کی بارش کی وجہ سے میچ کو منسوخ کرنا پڑا۔

اِس منسوخی نے بھارت میں ایک نئی بحث چھیڑدی ہے اور بحث کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چونکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل بھی ایڈن گراونڈ میں ہونا ہے، مگر اِس کی زمین کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ ذرا سی بارش بھی میچ کو متاثر کردیتی ہے اور اگر اِس کو ٹھیک نہیں کیا گیا تو خدشہ ہے کہ فائنل کا مزہ بھی کہیں خراب نہ ہوجائے۔

غلطی کے خمیازے کے لیے کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال (کیب) کے سپر وائزر بسواروپ دے نے پہلی فرصت میں کیوریٹر پروبیر مکھرجی کو عہدے سے برطرف کردیا اور اِس کی وجہ یہ بتائی کہ اب مکھرجی عمر رسیدہ ہوگئے ہیں اور ہمیں اب ہمیں کسی جوان کیوریٹر کو یہ ذمہ داری دے دینی چاہیے تاکہ حالات کے مطابق انتظامات ممکن ہوسکیں۔

مگر بھارت کرکٹ ٹیم کے دائرکٹر روی شاستری نے اِس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں نے میچ سے پہلے وکٹ بھی دیکھی تھی اور گراونڈ کا جائزہ بھی لیا تھا اور اُن کے مطابق انتظامات بہت شاندار تھے، لیکن اگر عین موقع پر بارش ہوجائے تو کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا۔ لیکن ساتھ ہی اُنہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ مایوسی شائقین کرکٹ کو ہوئی ہوگی جو میدان میں میچ دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

میچ کی منسوخی نے سب سے زیادہ شرمندہ سابق بھارت کپتان سارو گنگولی کو کیا جو اگلے ہی ہفتے کیب کا چارج سنبھالنے جارہے اور اُنہوں نے میچ سے قبل سارے انتظامات کا جائزہ لیا تھا۔ میچ کی منسوخی پر گنگولی کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک ہے کہ میچ کا انعقاد نہیں ہوسکے جس کا ذمہ دار کوئی ایک نہیں بلکہ ہم سب ہیں۔

تقسیم انعامات اور ٹرافی کی تقریب سے بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی نے بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایڈن گارڈن ایسا میدان ہے جہاں آپ بار بار میچ کھیلنا اور دیکھنا چاہتے ہیں، اور جب عین موقع پر میچ منسوخ ہوجائے تو افسوس زیادہ ہی ہوتا ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان ایک روزہ سیریز کا آغاز 11 اکتوبر سے ہورہا ہے۔

Facebook Comments