"ہار سے مایوس، لیکن ناامید نہیں"، روی شاستری

جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کراری شکست کے بعد بھارتی ٹیم کے ڈائریکٹر روی شاستری نے کہا ہے کہ وہ ہار سے مایوس ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ حالیہ ناکامیوں کا تجربہ اگلے سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں بھارتی ٹیم کے کام آئے گا۔
بھارت اور جنوبی افریقہ کے مابین تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ جمعرات کو بارش کے باعث منعقد نہیں ہو سکا تھا۔ میچ کی منسوخی کے بعد روی شاستری نے خبرنگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، "سب کی طرح میں بھی اس نتیجے سے مایوس ہوں۔ اگرچہ ہم جیتنے کے لیے ضرور کھیلتے ہیں لیکن اس شکست سے میری راتوں کی نیند حرام نہیں ہو گی۔ اس سیریز سے مجھے ٹی ٹوئنٹی عالم کپ سے پہلے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔"
بھارت اپنے پہلی ٹی ٹوئنٹی میں 200 کا ہدف دے کر بھی ہار گیا تھا جب کہ دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں وہ پہلے کھیلتے ہوئے صرف 92 رنز ہی بنا سکا جو اپنے ہی میدانوں پر بھارت کا سب سے کم ٹی ٹوئنٹی اسکور ہے۔
اُنہوں نے کہا، "پہلا مقابلہ قریبی تھا لیکن دوسرے مقابلے میں ہم بہت کمزور ثابت ہوئے۔ دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں ہم بہتر کھیل سکتے تھے لیکن کھیلے نہیں۔ کھلاڑی بھی اس پر مایوس ہیں۔ سیکھنے کے لیے بہت کچھ ملا ہے۔ آگے ایک بڑا سیزن ہے۔ اور ٹیم کے لیے یہ ایک اچھا تجربہ ہے۔ ہم بھلے ہی سیریز ہار چکے ہوں، لیکن میں اسے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے لیے ایک عمدہ تجربہ سمجھتا ہوں۔ ہماری ٹیم نوجوان ہے اور ہم ابھی بہترین امتزاج تلاش کر رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم سے کھیلنے سے بہتر کوئی تیاری یا مشق نہیں ہو سکتی کیونکہ جنوبی افریقہ کسی بھی دوسری ٹیم سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلتی ہے۔"
روی شاستری نے بھارتی ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست کی ذمہ داری اس بات پر ڈالی ہے کہ اُن کی ٹیم کو زیادہ ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلنے کا موقع نہیں ملتا۔ انہوں‌ نے کہا، "آپ کو تینوں فارمیٹوں میں صحیح توازن بنانا ہو گا۔ بھارت نے دوسری ٹیموں کے مقابلے میں بہت کم ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے ہیں۔ آخری میچ ہم نے زمبابوے کے خلاف کھیلا تھا اور اُس کے بعد سے ہم دو ہی مقابلے مزید کھیلے ہیں۔ کرکٹ کو آگے بڑھانے کے لیے درست توازن بے حد ضروری ہے۔"
پانچ ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کے آغاز سے پہلے جنوبی افریقہ کو للکارتے ہوئے شاستری نے کہا کہ بھارتی ٹیم ایک روزہ مقابلوں میں بہت بہتر شکل میں نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا، "ہم نے دو ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کا پورا تجزیہ کیا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ جنوبی افریقہ سے کیا توقع رکھنی ہے۔ ون ڈے میں ہمیں اپنے کھیل کی بخوبی سمجھ ہے اور اس میں ہم کافی بہتر ٹیم ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ مقابلے اچھے ہوں گے۔"
شاستری نے یہ بھی بتایا کہ وہ کپتان مہیندر سنگھ دھونی پر سے دباؤ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی فارم میں لوٹ سکیں۔ انہوں نے دھونی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا، "ہمیں معلوم ہے کہ فارم میں ہونے پر دھونی کیا کارنامے کر سکتے ہیں۔ یہ بات پوری کرکٹ دنیا جانتی ہے اور مجھے اس بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔"
ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ اگلے سال مارچ میں ہو گا اور ابھی اس کے انعقاد میں چھ مہینے باقی ہیں۔ شاستری کہتے ہیں کہ  دستے میں جگہ پانے کے لیے کھلاڑیوں کی فارم سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہو گی۔ انہوں نے کہا، "ابھی کافی ایک روزہ کرکٹ مقابلے باقی ہیں۔ ہمیں آسٹریلیا میں کچھ ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلنے ہیں اور پھر سری لنکا کی ٹیم بھارت کا دورہ کرے گی۔ ایشیا کپ بھی ہیں۔ کافی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلی جائے گی۔ نوجوانوں اور سینیر کھیلاڑیوں کے لیے کافی مواقع ہیں لیکن فارم سب سے اہم ہو گی۔"
بھارتی ٹیم اب پانچ ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں جنوبی افریقہ کا سامنا کرے گی، جس کا پہلا مقابلہ گیارہ اکتوبر اتوار کے دن کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments