’جاوید میانداد لیجنڈری بلے باز ہیں، اُن سے مقابلہ جائز نہیں‘

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایاناز بلے باز یونس خان کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بنانے والے ہیں جو اب تک جاوید میانداد کے پاس ہے، مگر ریکارڈ توڑنے کے باوجود بھی اُن کا میانداد سے مقابلہ ہرگز جائز نہیں کہ میانداد ایک لیجندری کھلاڑی ہیں اور ہمیشہ سے اُن کے لیے مثال رہے ہیں۔

اپنے حالیہ بیان میں یونس خان نے کہا مجھے خوشی ہوگی کہ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ بنانے والا کھلاڑی بن جاوں اور اگر سچ کہوں تو میں نے اِس حوالے سے کبھی نہیں سوچا تھا۔

یونس خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ صرف رنز کے میدان میں میانداد سے آگے نکل سکتے ہیں، لیکن بطور کھلاڑی وہ ہمیشہ میانداد سے پیچھے رہیں گے، میانداد نہ صرف ایک لیجندری کھلاڑی ہیں بلکہ لاکھوں دلوں کی آواز بھی ہیں۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ اپنی جگہ، مگر اُن کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ وہ ٹیم کی فتح میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں اور اپنے ریکارڈز کے بجائے ملک کے لیے کھیلنے کو ترجیح دیتے رہیں۔ یونس خان کا مزید کہنا تھا کہ جولائی میں پالی کیلے کے میدان میں سری لنکا کے خلاف آخری ٹیسٹ میچ میں وہ میانداد کا ریکارڈ توڑ سکتے تھے مگر مصباح کی تیز بلے بازی کے سبب ہم میچ جیت گئے لیکن اُنہوں نے ایک بار بھی مصباح سے یہ نہیں کہا وہ تیز نہ کھیلے اور مجھے ریکارڈ توڑنے کا موقع دے کیونکہ میں کبھی بھی ذاتی مفاد کے لیے نہیں کھیلا۔ اِس ٹیسٹ میں یونس خان پاکستان کی جانب چوتھی اننگ میں پاکستان کی جانب سے 171 رنز بنائے۔ اِس سے پہلے صرف چار بار ایسا ہوا ہے جب ٹیسٹ میچ کی آخری اننگ میں کسی بلے باز نے سینچری اسکور کی ہو۔ سینچری اسکور کرنے والوں میں آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پانٹنگ، بھارت کے سابق کپتان سنیل گاوسکر، جنوبی افریقہ کے سابق کپتان گریم اسمتھ اور ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان رام نریش سروان شامل ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف سیریز کے حوالے سے یونس خان کا کہنا تھا کہ یقینی طور پر پاکستان کے لیے یہ سیریز بہت اہمیت کی حامل ہے، ہم کوشش کریں گے کہ اِس میں شاندار کارکردگی پیش کرتے ہوئے سیریز اپنے نام کریں۔

واضح رہے کہ یونس خان کو جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے کے لیے محض 19 رنز درکار ہیں اور قوی امکان ہے کہ وہ یہ ریکارڈ انگستان کے خلاف کل سے شروع ہونے والی سیریز میں باآسانی توڑدیں گے۔

جاوید میاندان نے 1976 سے 1993 تک جاری رہنے والے کیرئیر میں 124 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی جس میں 8832 رنز بنائے۔ جبکہ یونس خان نے 101 ٹیسٹ میچوں میں 30 سنچریوں کی مدد سے 8814 بنائے ہیں۔

یونس خان کے لیے گزشتہ ایک سال شاندار رہا ہے۔ پہلے متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا کے خلاف دو میچوں کی سیریز میں 468 رنز بنائے جس کی بدولت 20 سالوں میں پہلے بار آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے میں پاکستان کامیاب رہا۔

Facebook Comments