دھونی نے تنقید کا جواب دیدیا، جنوبی افریقہ جیتا ہوا میچ ہار گیا

جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بدترین شکست ہو یا پہلے ایک روزہ میچ میں ہاتھ میں آئے میچ کو کھو دینے کا معاملہ ہو، بھارت میں اِن تمام شکستوں کا قصور وار کپتان ایم ایس دھونی کو قرار دیا جارہا تھا، بلکہ سابق کھلاڑی اجیت اگرکار نے تو دھونی کو ٹیم پر بوجھ ہی قرار دے دیا، مگر بڑا کھلاڑی وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں پرفارم کرے اور دھونی نے دوسرے ایک روزہ میچ میں ناقابل شکست 92 رنز بناکر جنوبی افریقہ کو اہم میچ میں 22 رنز سے شکست دینے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔

بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور محض 104 رنز پر جب آدھی ٹیم پویلین لوٹ گئی تو فیصلہ غلط لگنے لگا مگر دھونی نے شاندار اننگ کھیل کر اپنے فیصلے کو درست ثابت کیا اور دھونی کے ناقابل شکست 92 رنز کی بدولت بھارت بمشکل 247 رنز بنانے میں کامیاب ہوا۔

بھارتی ٹیم کو اننگ کے آغاز میں ہی پہلے میچ میں 150 رنز بنانے روہت شرما کی صورت میں بڑا نقصان ہوا، وہ صرف تین رن بناکر کگیسو رباڈا کا شکار ہوئے۔ جب ٹیم کا اسکور 59 تک پہنچا تو مورنے مورکل نے شکر دھون کو چلتا کیا۔ انہوں نے 23 رنز بنائے تھے۔  اگلے آنے والے والے بلے باز ویرات کوہلی نے وکٹ پر موجود اجنکیا رہانے کے ساتھ شراکت داری قائم کرنا ہی شروع کی تھی کہ کوہلی رن آوٹ ہوگئے، اِس وقت ٹیم کا اسکور 82 تھا۔

ایک طرف وکٹیں گر رہیں تو دوسری طرف رہانے ٹیم کو سہارا دیے ہوئے تھے مگر وہ بھی 51 رنز بناکر آوٹ ہوگئے۔ جب وہ آوٹ ہوئے تو ٹیم کا اسکور 104 تھا۔ لیکن بھارت کو مزید دھچکہ اُس وقت لگا جب اگلے آنے والے بلے باز رائنا بغیر کوئی رن بنائے آوٹ ہوگئے۔

اِس موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ بھارت شاید ہی 200 کا ہندسہ عبور کرپائے مگر دھونی نے ذمہ دارانہ بلے بازی کرکے سب کے خیالات کو غلط ثابت کیا اور اننگ کی آخری گیند پر چھکا مار کر ٹیم کو 247 تک پہنچادیا۔ آخر میں آنے والے تمام ہی بلے بازوں نے اُن کا ساتھ دیا۔

اگرچہ بھارتی وکٹوں کو دیکھتے ہوئے 247 کا ہدف بہت زیادہ نہیں تھا اور جنوبی افریقہ کے شاندار آغاز کو دیکھنے کے بعد ہدف مزید آسان لگ رہا تھا کہ 134 رنز پر جنوبی افرہق کے صرف 2 کھلاڑی آوٹ ہوئے تھے۔

مگر پھر جلد بازی کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے بلے بازوں نے ایک کے بعد ایک غلط شاٹ کھیلا اور ہاتھ میں آیا ہوا میچ بھارت کے سپرد کردیا۔

اگر جنوبی افریقہ کے بلے باز صرف ایک اور دو رنز پر ہی انحصار کرتے تو میچ باآسانی جیت جاتے مگر جلد بازی نے سارے منظر نامے کو تبدیل کردیا اور شاندار فیلڈنگ کے سبب بھارت سنسنی خیز مقابلہ 22 رنز سے جیت گیا یوں پانچ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہوگئی ہے۔

بھارت کی جانب سے سب سے شاندار گیند بازی اکشر پٹیل نے کی جنہوں نے اپنے کیرئیر کی سب سے اچھی گیند بازی کرتے ہوئے اکشر پٹیل نے کی جنہوں نے اپنے کیرئیر کی سب سے اچھی گیند بازی کرتے ہوئے 39 رنز دیکر تین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا، جبکہ بھوونیشور کمار نے بھی تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

ناقابل شکست 92 رنز بنانے اور وکٹ کے پیچھے شاندار وکٹ کیپرنگ کرتے ہوئے 4 کیچ پکڑنے پر دھونی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا۔

دونوں ممالک کے درمیان تیسرا ایک روزہ میچ 18 اکتوبر کو راجکوت میں کھیلا جائے گا۔

 

Facebook Comments