فیوچر ٹورز پروگرام کا ازسرنو جائزہ شروع

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے دوطرفہ فیوچر ٹورز پروگرام (ایف ٹی پی) کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ دبئی میں ہونے والے اپنے بورڈ اور کمیٹی اجلاس میں آئی سی سی نے گزشتہ سال ہونے والی انتظامی اصلاحات کے بعد پہلی بار باہمی ایف ٹی پی کا جائزہ لینا شروع کیا ہے، جو مرکزی ایف ٹی پی کی جگہ نافذ کیا گیا تھا۔

گو کہ اس فیصلے سے مرکزی ایف ٹی پی ڈھانچے کی جانب واپسی کا امکان پیدا ہوچلا ہے، لیکن شاید فوری طور پر نتائج سامنے نہ آ سکیں۔ اجلاس میں ایف ٹی پی کے مسائل، سیاق و سباق سمیت مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا۔

آئی سی سی بورڈ کے ممبرز یہ جان چکے ہیں کہ فیوچر ٹورز پروگرام سے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے اور کس قسم کا پروگرام ہمارے انفرادی اور اجتماعی مفاد کے لئے سود مند ہو گا۔ فیوچر ٹورز پروگرام کا ڈھانچہ تمام اراکین کی رضا مندی سے تیار کیا جائے گا۔ اجلاس میں کرکٹ کو مجموعی طور پر منظم انداز سے آگے بڑھانے، کھیل کو بہتر کرنے اور اس کی مقبولیت کو برقرار رکھنے پر بات چیت کی گئی۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ کچھ مزید بات چیت کے بعد معاملے پر مزید غور کے لئے ایک مسودہ آئی سی سی بورڈ کو بھیجا جائے تاہم فوری طور پر اس پر عمل درآمد کا کوئی امکان نہیں ہے البتہ آئی سی سی کے مستقبل کے اجلاسوں میں یہ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

ممالک کے درمیان دو طرفہ ٹورنامنٹس سے حاصل کردہ نتائج کے حوالے سے حالیہ انٹرویو میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ رچرڈسن نے جن تحفظات کا اظہار کیا تھا ان پر بھی آئی سی سی بورڈ اراکی کے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں بھارت کی جانب سے اپنے ہی ملک میں زیادہ مقابلے کھیلنے جیسے معاملات پر بھی غور کیا گیا جبکہ دو طرفہ ٹورنامنٹس کو تین ملکی سیریز میں تبدیل کرنے کے حوالے سے مشورے بھی سامنے آئے۔ اس کے علاوہ اس بات کو بھی دیکھا گیا کہ کہ رکن ممالک کرکٹ کے کس فارمیٹ کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔

آئی سی سی کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں مستقبل کی دو طرفہ کرکٹ کو بہتر بنانے کے لیے بات چیت کی گئی۔ اب آئی سی سی انتظامیہ اپنی تجاویز بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چیئرمین کو بھیجنے سے قبل اجلاس میں سامنے آنے والے مختلف پہلوؤں پر مشاورت کرے گی۔

واضح رہے کہ "بگ تھری" کے اثر و رسوخ کو قبول کرے سے پہلے بین الاقوامی کرکٹ کونسل پانچ سال کا ایف ٹی پی خود مرتب کرتا تھا جس کے دوران تمام ممالک کو کم از کم ایک مرتبہ ایک دوسرے کے خلاف کھیلنا ہوتا تھا۔ لیکن اب دو ممالک باہمی مالی فائدے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق سیریز طے کرتے ہیں۔ جس سے کھیل کا توازن اچھا خاصا بگڑ چکا ہے۔ اگر کسی طرح پرانے طریقے کو واپس لایا جائے تو اس سے بڑے ممالک کی اجارہ داری میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

Facebook Comments