ابوظہبی ٹیسٹ کا تیسرا دن بھی بلے بازوں کے نام رہا

ٹیسٹ کرکٹ کا اصل مزہ تو تب ہی آتا ہے جب بلے باز اور گیند باز کو برابر کا موقع میسر آئے، اِس طرح نہ کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ میچ کا نتیجہ آنے کا امکان بھی روشن رہتا ہے، لیکن جب بھی وکٹ میں صرف بلے بازوں کے لئے آسانیاں ہوں تو کرکٹ کا مزہ کرکرا ہوجاتا ہے اور آج کل یہی کچھ ہورہا ہے پاکستان اور انگلستان کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ میچ میں۔

میچ کے ابتدائی دو دن پاکستانی بلے بازوں نے راج کیا اور 8 وکٹوں کے نقصان پر 523 رنز بنالیے جس میں خاص بات شعیب ملک کے 245 رنز کی تھی۔

اگر متحدہ عرب امارات میں پاکستان کی گیند بازی کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے خیال تھا کہ شاید پاکستان کے گیند باز اِس ہدف کا دفاع کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہوجائیں گے، مگر سعید اجمل، عبد الرحمان اور اب یاسر شاہ کی غیر موجودگی نے پاکستان کے اسپن اٹیک کی کمر توڑ کر رکھ دی اور اِس بات کی تصدیق کرتی ہے انگلستان کی بلے بازی۔

انگلستان نے کپتان الیسٹر کک کی 28ویں سنچری کی بدولت نہ صرف پورا دن بلے بازی کی بلکہ پاکستان کی برتری کو بھی 233 تک محدود کردیا، اور گمان ہورہا ہے کہ اگر کل کا دن بھی وکٹ نے بلے بازوں کا ساتھ دیا تو پھر یقینی طور پر ابوظہبی ٹیسٹ ڈرا کی جانب گامزن ہوجائے گا۔

تیسرے دن کے کھیل کا آغاز ہوا تو انگلستان نے 56 رنز بغیر کوئی آوٹ ہوئے اپنی اننگ کا ساتھ دیا۔ تجربہ کار الیسٹر کک کے ساتھ بلے بازی کررہے تھے معین علی جو اپنی کیرئیر میں پہلی مرتبہ اوپننگ کے لیے آئے تھے۔

1984 سے اب تک انگلستان کی جانب سے کک اور معین علی اوپننگ کرنے والی 57ویں جوڑی ہے۔ مگر اب تک تین ہی جوڑیاں گزری ہیں جنہوں نے اپنی پہلی ہی اننگ میں سنچری کی شراکت داری قائم کی ہو۔ اِس سے پہلے یہ کارنامہ مائیکل اتھرٹن اور ایلیک اسٹیورٹ جبکہ مارکوس ٹریسکوتھک اور انڈریو اسٹراس سرانجام دے چکے ہیں۔

دونوں بلے باز پُراعتماد طریقے سے بلے بازی کررہے تھے کہ 41ویں اوور میں عمران خان کی باہر جاتی گیند پر معین علی کا بیٹ لگا اور وکٹ کیپر سرفراز نواز نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے کیچ کو تھام لیا یوں پاکستان کو پہلی کامیابی نصیب ہوئی۔

مگر دن کے آخری لمحات تک یہ پاکستان کے لیے واحد خوشی تھی کیونکہ نئے آنے والے ای این بیل نے کک کے ساتھ 165 رنز کی شاندار شراکت دار قائم کی۔ اِس دوران کپتان مصباح الحق نے اپنے صفحہ اول کے گیند بازوں کے علاوہ اسد شفیق اور شعیب ملک کو بھی گیند بازی کا موقع دیا کہ شاید کوئی کامیابی مل جائے مگر ایسا نہ ہوا۔

لیکن جب دن کا کھیل تقریباً اپنے اختتام کو تھا تو وہاب ریاض نے ٹیم میں جان ڈالنے کے لیے جان لگائی اور اُس کا نتیجہ بھی ملا۔ میچ ختم ہونے سے محض 4 اوور پہلے ای این بیل کو شکار بنایا اور پھر اگلے ہی اوور میں نائت واچ مین کی ذمہ داری ادا کرنے والے مارک ووڈ کو پویلین کی جانب چلتا کیا۔

میچ کے حوالے سے انگلستان کے سابق کپتان اور مشہور کومینتیٹر نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انگلستان کے بلے باز کل کا دن بھی مکمل بلے بازی کرتے ہیں تو یقینی طور پر وہ سبقت لینے میں کامیاب ہوجائیں گے اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر پانچویں دن پاکستانی بلے بازوں کو آوٹ کرکے انگلستان میچ اپنے نام کرسکتا ہے۔

اگر ابوظہبی کے گراوئنڈ کے حوالے سے بات کی جائے تو گزشتہ 9 میچوں میں 4 میچ ڈرا ہوئے ہیں۔ اور یہ ریکارڈ چیخ چیخ کر بتارہے ہیں کہ میچ کا نتیجہ نکلنا مشکل ہی ہے۔

 

Facebook Comments