گال کی وکٹ گیند بازوں کا ساتھ بھی دینے لگی

سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کو یاد کریں تو ایسا معلوم ہورہا تھا کہ وکٹ میں گیند بازوں کے لیے کچھ ہے ہی نہیں اور اگر میچ ایسے ہی چلتا رہا تو نتیجہ آنے کے امکان معدوم ہوجائیں گے، مگر دوسرے دن کے کھیل نے سارے خدشات دور کردیے، ساتھ ہی ساتھ یہ اُمید بھی پیدا کردی کہ اگر گیند باز ٹھیک طرح سے گیند بازی کریں تو میچ کا نتیجہ ضرور آئے گا۔

سری لنکا نے نے دوسرے دن کے کھیل کا آغاز 250 رنز دو وکٹ کے نقصان پر کیا۔ دیموتھ کارانوراتنے اور دنیش چندیمل پہلے سیشن میں چھائے رہے مگر کھانے کے وقفے سے ایک ہی اوور پہلے کارانوراتنے 186رنز بنانے کے بعد مارلن سیمیولز کی آسان گیند کا شکار ہوگئے۔ تیسری وکٹ کے لیے دونوں بلے بازوں نے 238 رنز کی شاندار شراکت داری قائم کی۔

جس کے بعد چندیمل اور کپتان اینجیلو میتھیوز نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ ابھی دونوں نے 86 رنز کی شراکت داری جمائی ہی تھی کہ جیروم ٹیلر نے چندیمل کے قصے کو تمام کیا، اُنہوں نے 151 رنز بنائے تھے۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ ٹیلر نے اپنے اگلے ہی اوور میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے میلندا سیری وردنا کو محض ایک رن پر آوٹ کرنے کے بعد مایوس ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں جان ڈال دی۔

بس اِس کے بعد وکٹیں گرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ تھم نہ سکا اور پوری سری لنکن ٹیم 484 رنز بناکر آوٹ ہوگئی۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب 339 رنز پر صرف 3 کھلاڑی آوٹ ہوئے تھے یعنی بقیہ سات کھلاڑی 145 رنز ہی بناسکے۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے دویندرا بیشو نے سب سے زیادہ 4 کھلاڑیوں کی وکٹیں لیں۔

ویسٹ انڈیز کی اننگ کا آغاز ہوا تو سری لنکن کپتان نے پہلے تیز گیند بازوں سے باولنگ کروائی مگر وکٹوں سے روشنائی کے سبب فوری طور پر رنگانا ہیراتھ کو گیند بازی پر لانے کا ٖفیصلہ کیا گیا جو بالکل تھیک ثابت ہوا اور جب ٹیم کا اسکور 33 تک پہنچا تو کریگ بریتھ ویٹ کی صورت ویسٹ انڈیز کو پہلے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اُنہوں نے 19 رنز بنائے تھے۔

مگر قصہ ابھی تمام نہیں ہوا کہ صرف 16 رنز بعد ہی ہیراتھ نے 23 رنز بنانے والے شائی ہوپ کو آوٹ کرکے ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

اب کل کیا ہوتا ہے یہ تو میچ دیکھنے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا لیکن اگر ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے محتاط انداز میں نہ کھیلا تو لگ یہی رہا ہے کہ ہیراتھ بہت پریشانی کھڑی کرسکتے ہیں۔

 

Facebook Comments