بھارت کے ظہیر خان بین الاقوامی کرکٹ چھوڑ گئے

بھارت کے آخری حقیقی و باصلاحیت تیز گیندباز ظہر خان نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا۔ 37 سالہ ظہیر نے بتایا کہ آئندہ سیزن کے لیے تربیت کے دوران اندازہ ہوا کہ اب وہ دن میں تقریباً 18 اوورز پھینکنے کے قابل نہیں رہے اور یہیں معلوم ہوا کہ اب خیرباد کہنے کا وقت آ چکا ہے۔

2000ء میں اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کرنے والے ٹیسٹ میں 311 اور ایک روزہ میں 282 وکٹیں حاصل کیں اور دونوں طرز کی کرکٹ میں بھارت کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندبازوں میں چوتھے نمبر پر رہے۔ عالمی کپ 2011ء میں بھارت کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد آہستہ آہستہ وہ قومی منظرنامے سے غائب ہوتے چلے گئے جس کی بڑی وجہ ان کا بار بار زخمی ہونا تھا۔ 2012ء میں آخری ایک روزہ کھیلنے کے بعد انہیں 2014ء میں نیوزی لینڈ کے دورے میں ٹیسٹ کھیلنے کا آخری موقع ملا، جہاں انہوں نے دوسری اننگز میں 170 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

اب ظہیر خان کہتے ہیں کہ وہ آئندہ سیزن تک ڈومیسٹک کرکٹ جاری رکھیں کے اور اگلے سال انڈین پریمیئر لیگ کے اختتام کے ساتھ ہی تمام طرز کی کرکٹ چھوڑ دیں گے۔ "میری نظریں آئی پی ایل سیزن 9 کے اختتام کے ساتھ حتمی ریٹائرمنٹ پر ہیں۔"

بلاشبہ ظہیر خان کے کیریئر کا سب سے یادگار وقت 2011ء کا عالمی کپ تھا جس میں وہ پاکستان کے شاہد آفریدی کے ہمراہ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندباز رہے اور اس سے بھی اہم بات کہ بھارت کو عالمی چیمپئن بنوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے 2003ء کے عالمی کپ فائنل کا کسی حد تک ازالہ کردیا کہ جہاں انہیں آسٹریلیا کے بلے بازوں کے ہاتھوں صرف 7 اوورز میں 67 رنز کی مار پڑی تھی۔

بہرحال، ٹیسٹ کرکٹ میں وہ انیل کمبلے، کپل دیو اور ہربھجن سنگھ کے بعد جبکہ ایک روزہ میں انیل کمبلے، جواگل سری ناتھ اور اجیت آگرکر کے بعد بھارت کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندباز رہے۔ انہوں نے 92 ٹیسٹ مقابلوں میں 32.94 کے اوسط کے ساتھ 311 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جس میں 87 رنز دے کر 7 وکٹیں ان کی بہترین اننگز کارکردگی رہی۔ میچ میں بہترین کارکردگی 149 رنز دے کر 10 وکٹیں رہی۔ ٹیسٹ کے مقابلے میں ایک روزہ میں ان کے اعداد و شمار زیادہ اچھے ہیں۔ انہوں نے 200 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلزں میں 29.43 کے اوسط سے 282 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس میں 42 رنز دے کر 5 وکٹیں بہترین انفرادی کارکردگی ہے۔

بلاشبہ اگر ظہیر خان کیریئر میں متعدد بار زخمی ہونے کی وجہ سے باہر نہ ہوتے تو کم از کم ایک روزہ میں بھارت کے کامیاب ترین گیندبازہوتے۔

بین الاقوامی کرکٹ میں ظہیر خان کے باؤلنگ اعداد و شمار

مقابلے وکٹیں بہترین باؤلنگ/اننگز بہترین باؤلنگ/میچ اوسط 5 وکٹیں 10 وکٹیں
ٹیسٹ 92 311 7/87 10/149 32.94 11 1
ایک روزہ 200 282 5/42 5/42 29.43 1 0
ٹی ٹوئنٹی 17 17 4/19 4/19 26.35 0 0

 

Article Tags

Facebook Comments