ابوظہبی، قصہ پانچ سالوں کا!

ابوظہبی کا شیخ زاید اسٹیڈیم، نومبر 2010ء میں پہلی بار ٹیسٹ کی میزبانی کرنے والا میدان بنا اور پہلے ہی مقابلے میں یہاں رنز کے انبار لگ گئے۔ پاکستان کے خلاف گو کہ جنوبی افریقہ نے صرف 33 رنز پر تین وکٹیں گنوا دی تھیں لیکن اس کے بعد ابراہم ڈی ولیئرز کی ناقابل شکست 278 رنز کی اننگز مہمان کو 584 رنز تک پہنچا گئی۔ جواب میں پاکستان نے بھی 434 رنز بنائے اور جنوبی افریقہ نے 203 رنز پر دوسری اننگز چھوڑ کر پاکستان کو آخری روز 354 رنز کا ہدف دیا۔ پاکستان مقابلے کے اختتام تک 153 رنز ہی بنا سکا اور یوں پہلا مقابلہ ’بری طرح‘ ڈرا ہوا اور یوں انگریزی مقولے کے بعد ’پہلا، لیکن دیرپا‘ تاثر قائم ہوا۔

اس ’بیزار کن‘ مقابلے کے بعد سے اب تک پاکستان نے یہاں 6 مزید مقابلے کھیلے، 4 جیتے اور صرف دو ڈرا ہوئے۔ نتیجے تک نہ پہنچنے والے ان دو مقابلوں میں بھی بہت اچھی معرکہ آرائی دیکھنے کو ملی لیکن انگلستان کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کا پہلا مقابلہ تو لگتا ہے کہ 2010ء والی وکٹ پر ہی کھیلا جا رہا ہے۔ 4 دن میں 1092 رنز بن چکے ہیں اور صرف 16 وکٹیں گری ہیں۔ اسے ’باؤلرز کا قبرستان‘ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

پہلے پاکستان کی جانب سے شعیب ملک نے اپنی پہلی ڈبل سنچری اننگز کھیلی، جس کی بدولت 523 رنز بنے، پھر انگلستان نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ کپتان ایلسٹر کک کے شاندار 263 رنز نے انگلستان کو 569 رنز تک پہنچا دیا ہے اور ابھی اس کی دو وکٹیں باقی ہیں۔ یعنی صرف ایک دن کا کھیل بچا ہے اور ابھی دونوں ٹیموں کی ایک، ایک اننگز بھی مکمل نہیں ہوئی۔ اب آخری دن کوئی معجزہ ہی اس میچ کو نتیجہ خیز بنا سکتا ہے۔

ویسے متحدہ عرب امارات میں آج تک کل 8 ڈبل سنچریاں بنی ہیں، جن میں سے 6 اسی شیخ زاید اسٹیڈیم پر بنائی گئی ہیں بلکہ سرفہرست چاروں بہترین اننگز اسی میدان پر رہیں۔ ابراہم ڈی ولیئرز کی 278 ناٹ آؤٹ، اس کے بعد کک کی تازہ ترین 263 رنز کی اننگز اور اسی مقابلے میں شعیب ملک کے 245 رنز اور 2011ء میں توفیق عمر کی سری لنکا کے خلاف 236 رنز کی باری۔ اس کے علاوہ چار مواقع ایسے ہیں جن میں امارتی میدانوں پر ڈبل سنچریاں بنیں۔ انمیں یونس خان کی گزشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف یادگار ڈبل سنچری اور کمار سنگاکارا کی 2011ء میں پاکستان کے خلاف 211 رنز کی میچ بچاؤ اننگز ابوظہبی میں کھیلی گئیں۔

پاکستان نے پچھلے سال یعنی 2014ء میں اس میدان پر آسٹریلیا کو 356 اور پھر نیوزی لینڈ کو 248 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی تھی لیکن لگتا ہے یہاں مسلسل فتوحات کی ’ہیٹ-ٹرک‘ نہیں ہو سکے گی۔ اگر ایسا ہوا تو گویا انگلستان پہلے مرحلے میں کامیاب ہوجائے گا جو یہاں آخری بار پاکستان کے خلاف صرف 145 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بری طرح ناکام ہوا تھا۔ صرف 72 رنز پر ڈھیر ہوکر انگلستان نے اس میدان سے وابستہ بدترین کارکردگی کو کسی حد تک 2015ء میں دھو ڈالا ہے۔

Facebook Comments