بھارتی ٹیم کا اصل امتحان انگلستان میں ہوگا؛ سر این بوتھم

ماضی کے عظیم انگلش آل راؤنڈر این بوتھم نے کہا ہے کہ بھارت نے ٹیسٹ کرکٹ میں پہلا مقام اپنے ہوم گراؤنڈز پر فتوحات کے ذریعے حاصل کی ہے اور انگلستان کے خلاف آنے والی سیریز اس کی صلاحیتوں کا حقیقی اور کٹھن امتحان ہوگی۔

ماضی کے عظیم آل راؤنڈر این بوتھم کے خیال میں انگلستانی ٹیم بھارت کا سخت مقابلے کرے گی

ماضی کے عظیم آل راؤنڈر این بوتھم کے خیال میں انگلستانی ٹیم بھارت کو ناکوں چنے چبوائے گی

برطانیہ کے اخبار ڈیلی مرر میں لکھے گئے اپنے کالم میں این بوتھم نے کہا ہے کہ "بھارت اس وقت دنیا کی نمبر 1 ٹیم ہے اور انہوں نے یہ اعزاز بہت اچھی کرکٹ کھیل کر حاصل کیا ہے، جن میں زیادہ تر اپنے ہی گراؤنڈ پر کھیلی گئی۔ لیکن جب آپ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ انہوں نے اپنے آخری 6 بین الاقوامی دوروں میں صرف بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ ہی کو شکست دی ہے تو آپ کو حقیقت کا علم ہوگا کہ انہیں اس سال موسم گرما میں انگلستان کے خلاف اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ حقیقی نمبر ون ٹیم ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ کے تاج کے لیے جنگ کا آغاز جولائی میں ہوگا جب عالمی نمبر ایک بھارت چار میچز کی سیریز میں عالمی نمبر تین انگلستان سے ٹکرائے گا۔ دورۂ انگلستان میں بھارت چار ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچ کھیلے گا۔ ٹیسٹ سیریز کا آغاز 21 جولائی سے لندن کے تاریخی میدان لارڈز میں ہوگا۔

بوتھم نے آئی سی سی کے عالمی درجہ بندی کے نظام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انگلستان کو اس وقت دنیا کی سب سے بہترین ٹیسٹ ٹیم قرار دیا۔ سابق انگلش کپتان کا اصرار ہے کہ انگلستان کی ٹیم اس وقت دنیائے کرکٹ کی بہترین ٹیم ہے اور وہ بلاشبہ اس موسم گرما میں یہ بات ثابت کر دکھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمپیوٹرز کی مدد سے لوگوں کی تیار کردہ درجہ بندیوں کو بھول جائیے، جو سمجھتے ہیں کہ اعداد و شمار ہمیں بتائیں گے کہ کون زیادہ بہتر کرکٹ کھیلتا ہے، بلکہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں دنیا کی بہترین ٹیم کون سی ہے۔

واضح رہے کہ چند سابقین و ماہرین کرکٹ آئی سی سی کے درجہ بندی کے نظام کو اس حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ اس میں ہوم اور اوے کی بنیاد پر درجہ بندی کے پوائنٹس نہیں دیے جاتے اور نہ ہی اس میں ٹورنامنٹ کی اہمیت کی بنیاد پر کسی ٹیم کو زیادہ پوائنٹس سے نوازا جاتا ہے بلکہ پوائنٹس دینے کا ایک لگا بندھا سا نظام ہے جو ہر صورتحال اور ہر مقام کے لیے یکساں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان گزشتہ 2 سالوں میں اپنی تمام ٹیسٹ سیریز ملک سے باہر کھیلنے کے باوجود درجہ بندی میں آگے نہیں بڑھ پایا جبکہ بھارت زیادہ تر اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیل کر بھی عالمی درجہ بندی میں ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ بالکل اسی طرح ایک روزہ کرکٹ میں سب سے بڑا ٹورنامنٹ ورلڈ کپ جیتنے کے باوجود بھارت ابھی تک آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑ کر نمبر ایک پوزیشن نہیں حاصل کر سکا کیونکہ عالمی درجہ بندی کے نظام کی نظر میں ایک عام میچ اور عالمی کپ کے فائنل میں کوئی فرق نہیں ہے۔

Facebook Comments