پاکستان کرکٹ کی ساکھ عرب امارات میں خطرے سے دوچار

دورِ جدید میں کوئی پروڈکٹ کسی بھی صورت میں ہو، کوئی تقریب، ٹیلی وژن پروگرام یا فلم، اس کی پیشکش اور نمائش کا معیار بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر تائیوان کی مشہور موبائل بنانے والی کمپنی ایچ ٹی سی کوریا کے ادارے سام سنگ سے بہتر معیار کے اسمارٹ فون بناتی ہے لیکن اُس کی پیشکش اور نمائش کا معیار سام سنگ سے کہیں پیچھے ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج سام سنگ کہاں کھڑا ہے اورایچ ٹی سی کہاں ہے۔

پاکستان اور انگلستان کے درمیان جاری سیریز بھی بین الاقوامی کرکٹ کی بہت اہم پروڈکٹ ہے۔ عالمی درجہ بندی میں تیسرے اور چوتھے نمبر کی دو ٹیموں کی معرکہ آرائی طے کرے گی کہ جنوبی افریقہ کے بعد دنیا کی دوسری بہترین ٹیم کون بنے گا؟ لیکن، میدان میں الّو بول رہے ہیں۔ اتنے کم تماشائی تو شاید پاکستان کے کسی کلب مقابلے میں ہوتے ہوں گے۔ 20 ہزار تماشائیوں کی گنجائش رکھنے والے خوبصورت شیخ زاید اسٹیڈیم کو خالی دیکھنا پاکستان کرکٹ کے پرستاروں کے لیے کسی ذہنی تشدد سے کم نہیں تھا اور دوسری طرف یہ منظر پاکستان کرکٹ ٹیم کے برانڈ کے لیے بھی زہر قاتل ہے۔

اس وقت دنیا کرکٹ میں تین بڑے نام ہیں جنہیں “بگ تھری”کہتے ہیں، بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان۔ ان میں سے کسی کے ساتھ بھی پاکستان کا مقابلہ ہوگا تو وہ اہم ترین موقع کہلائے گا، اگر انگریزی میں کہیں تو پریمیئر ایونٹ۔ جب بھی ایونٹ پریمیئر ہوگا تو اس کی نمائش چاہے وہ کھیل کے میدان میں ہو یا ٹی وی اسکرین پر، سوشل میڈیا پر ہو یا ڈیجیٹل وڈیو اور فوٹوگرافی سے، اس کا معیار بھی پریمیئم ہونا چاہیے۔ آسٹریلیا اور انگلستان کی ایشیز سیریز، بھارت اور آسٹریلیا کی بارڈر-گاوسکر ٹرافی یا بھارت و انگلستان کے باہمی مقابلے، ان کو اعلیٰ ترین معیار کا بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی یعنی اونچی دکان ہے تو اس کے شایانِ شان میٹھا پکوان بھی ہے۔ بالخصوص آسٹریلیا اور انگلستان کی ایشیزسیریز دیکھیں تو انتہائی بور مقابلہ بھی دیکھنے میں ضرور اچھا لگتا ہے۔ یہ دونوں ملک مارکیٹنگ کے لحاظ سے اپنی ٹیموں کے برانڈ کی اہمیت کا خاص خیال رکھتے ہیں اور کرکٹ کے میدان سے لے کر ریڈیو، ٹیلی وژن اور آن لائن کوریج تک اس پر بہت توجہ دی جاتی ہے۔

mohammad-irfan

اب ‘بگ تھری’ کے بعد مارکیٹ حجم کے اعتبار سے پہلا نام بلاشبہ پاکستان کا ہوگا۔ ایسا ممکن تو نہیں ہے کہ پاکستان کے کرکٹ میچز اور نمائش کا معیار بھی آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسا ہوجائے۔ یہ ممالک مضبوط ڈھانچہ بھی رکھتے ہیں اور ان کی معاشی حالت بھی پاکستان سے کئی گنا بہتر ہے۔ پاک-انگلستان کرکٹ پروڈکٹ مارکیٹنگ کے لحاظ سے قدر و قیمت رکھتی ہے بلکہ بیش قیمت ہے لیکن ہیرے کی قیمت جوہری کی جانتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامی نااہلی نے ملک میں کرکٹ کو مصنوعی سہارے کے بغیر چلنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ زیادہ سے زیادہ جو پی سی بی کی توجہ ہوتی ہے کہ کسی طرح بگ تھری میں سے کسی کے ساتھ مقابلہ ہوجائے تاکہ ٹیلی وژن کی مد میں جو رقم ملتی ہے اس کے ذریعے جیسے جیسے پاکستان ٹیم کو چلایا جائے۔ اب موجودہ صورتحال میں بورڈ انتظامیہ کی کارکردگی کا معیار یہ بن رہا ہے کہ بھارت سے سیریز کرانے میں کامیاب ہوتی ہے یا ناکام۔ حالانکہ بھارت سےایک سیریز کے انعقاد سے پی سی بی کے مالی مسائل ہمیشہ کے لیے تو ختم نہیں ہوجائیں گے۔ بس ‘ڈنگ ٹپاؤ’ معاملہ ہے۔

ابوظہبی اور دبئی میں میزبانی سے پاکستان کے برانڈ کو جو نقصان پہنچا رہا ہے، اس کی کسی کو پروا نہیں ہے۔ پاک-انگلستان پہلا ٹیسٹ دیکھیں، میدان کی ویرانی دیکھ کر ایک ٹیس سی اٹھتی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ مقابلوں کا انعقاد نہ صرف پاکستان بلکہ بحیثیت مجموعی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے بھی نقصان دہ دکھائی دیتا ہے۔ چند درجن تماشائیوں کے ساتھ کون کھیلنا چاہے گا؟

اس صورت حال کا حل کیا ہے؟ اس کا بہتر جواب تو مارکیٹنگ ماہرین کے پاس ہوگا لیکن ماضی کے تجربات کی بنیاد پر کچھ تجاویز ضرور ہیں۔ 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے پاکستان پر بند ہیں۔ افسوس ناک واقعے کے فوراً بعد پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف ‘ہوم سیریز’ وہیں جا کر کھیلی اور پھر 2010ء میں آسٹریلیا کے خلاف طے شدہ ٹیسٹ سیریز انگلستان میں منعقد کی۔ یہ دونوں سیریز کئی لحاظ سے کامیاب اور یادگار تھیں اور متحدہ عرب امارات میں بالخصوص ٹیسٹ مقابلوں میں تماشائیوں کی تعداد دیکھتے ہوئے تو یہی بہتر لگتا ہے کہ پاکستان اپنے مقابلے انگلستان اور نیوزی لینڈ جیسے دور دراز علاقوں میں نہ سہی بنگلہ دیش میں ہی کھیل لے، جہاں تماشائیوں کی بڑی تعداد تمام مقابلوں میں جوق در جوق آتی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ گزشتہ کئی سالوں سے سخت مالی بحران کا شکار ہے۔ ملک میں حالات کی خرابی کی وجہ سے میزبان کی حیثیت سے سیریز کو دوسرے ملک میں منعقد کرنا اخراجات میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے۔ اس پربھی اگر تماشائی میدان میں ڈھونڈنے سے نہ ملیں تو اس سے پاکستان کرکٹ کے برانڈ کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ خالی اور اجاڑ میدانوں میں پاکستان ٹیسٹ کھیلتا رہا تو اس سے نہ صرف قومی کرکٹ ٹیم کا گلیمر کم ہوگا بلکہ ٹیسٹ کی جانب رحجان میں مزید کمی دیکھنے کو ملے گی۔ ایک مرتبہ عوامی رحجان میں کمی آ جائے تو پھر اسے بحال کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے اور ہمارے پاس قومی ہاکی کی صورت میں ایک زندہ مثال موجود ہے۔

ویسے تماشائیوں کی تعداد دیکھتے ہوئے انگلستان سے بھی ہمدردی ہو رہی ہے۔ گزشتہ ایشیز میں ہونے والے ملبورن ٹیسٹ میں ایک دن تماشائیوں کی تعداد 90 ہزار سے تجاوز کرگئی تھیں اور اب بمشکل 90 دکھائی دے رہی ہے۔

Facebook Comments