شیو سینا کا بھارتی بورڈ کے دفتر پر حملہ، پاک بھارت کرکٹ حکام کی ملاقات ملتوی

بھارت کا یہ انداز بھی ویسے بُرا نہیں، کہ پہلے دسمبر میں طے شدہ سیریز کے معاملات کو حل کرنے کے لیے پاکستانی حکام کو ملاقات کی دعوت دیتا ہے، اور جب وہ وہاں پہنچ جاتے ہیں تو پھر شیو سینا کے بلوائی ملاقات سے کچھ ہی دیر پہلے بھارتی بورڈ کے دفتر پر حملہ کردیتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین شہریار خان کو واپس پاکستان بھیجا جائے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین شہریار خان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایکزیکٹو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی اتوار کو بھارت پہنچے۔ ملاقات کا یک نکاتی ایجنڈا تھا کہ آیا بھارت دسمبر میں طے شدہ سیریز کھیلنا چاہتا ہے یا نہیں۔

یہ ملاقات آج ہونی تھی، مگر ملاقات سے کچھ ہی دیر قبل بھارت شدت پسند جماعت شیو سینا نے بھارتی بورڈ کے دفتر پر ہلہ بول دیا۔ حملہ کرنے والے پاکستان کے خلاف نعرے لگارہے تھے اور اُن کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف سیریز نہیں ہونے دینگے جبکہ اُن کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ پی سی بی کے چئیرمین شہریار خان کو فوری طور پر واپس پاکستان بھیجا جائے۔ حملے کے بعد صورتحال اِس قدر خراب ہوگئی کہ بھارتی بورڈ ملاقات ملتوی کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔

شیو سینا کے حالیہ اقدام کو دونوں ممالک میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئیرمین اعجاز بٹ نے تو شہریار خان کو یہ مشورہ بھی دے دیا کہ وہ بھارت کو پیغام دے کہ جہنم میں جاو، ہمیں تمھارے ساتھ سیریز نہیں کھیلنی۔

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رکن جماعت راجیو شکلہ جو پی سی سی آئی کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں، اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ شیو سینا کی جانب سے پی سی سی آئی کے دفتر پر حملہ قابل مذمت ہے۔ بی سی سی آئی ایک ذمہ دار ادارہ ہے اور کبھی بھی ملکی مفاد کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ کرکٹ کے حق میں یہی ہے کہ بی سی سی آئی کو اپنے فیصلے خود کرنے دیے جائیں۔

معاملہ صرف کرکٹ یا پاکستان تک محدود نہیں بلکہ شیو سینا جو بھارتی حکمراں جماعت کی اتحادی بھی ہے نے گزشتہ روز بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان راجکوٹ میں ہونے والے میچ میں بھی حملے کی دھمکی تھی دی جس کے بعد بھارت نے راجکوٹ کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا تھا۔ گراونڈ کے اوپر ہیلی کاپٹر کی پرواز اور سخت سیکورٹی میں میچ کروانا پڑا۔ جبکہ آج ایک آسٹریلوی شہری کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اِس سے قبل پاکستانی کے لیجنڈری گلوکار غلام علی کو بھی بھارت میں کانسرٹ کرنے سے منع کردیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کچھ دن قبل پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کی کتاب کی رونمائی ہونی تھی مگر جو فرد یہ پروگرام آرگنائز کررہا تھا اُس کے چہرے پر یہ کہہ کر کالک مل دی گئی کہ پروگرام کو رونا جائے ورنہ نتائج اور بھی خطرناک ہونگے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ معاملات یہاں رُک جائیں گے یا مزید خرابی کی جانب گامزن ہونگے اور وہ لمحہ کب آئے گا جب بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اپنے اتحادیوں کو لگام ڈالتے ہیں۔

Facebook Comments