شکست سے بچنے پر وقار یونس مطمئن، بھرپور جوابی حملے کے لیے پرعزم

پاکستان پہلے ٹیسٹ میں شکست سے بال بال بچا ہے، جب انگلستان کو صرف 25 رنز کی ضرورت تھی اس وقت امپائروں نے مقابلے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو بڑی ہزیمت سے بچا لیا جس پر ہیڈ کوچ وقار یونس نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے اور ساتھ ہی امید بھی ظاہر کی ہے کہ پاکستان اگلے مقابلے سے سیریز میں بھرپور واپسی کرے گا۔ وہ شکست سے بچنے پر مطمئن بھی دکھائی دیے اور ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر فخر کا اظہار بھی کیا۔

متحدہ عرب امارات میں پاکستان کی حالیہ کارکردگی کی وجہ سے ماہرین میزبان کو مضبوط امیدوار قرار دے رہے تھے، اور پاکستان نے بلاشبہ مقابلے پر برتری حاصل کی تھی جب اس نے پہلی اننگز میں 523 رنز بنائے لیکن انگلش کپتان ایلسٹر کک کی 263 رنز کی ڈبل سنچری اننگز اور 598 رنز نے مقابلے کو برابری کی سطح پر کھڑا کردیا لیکن پاکستانی بلے بازوں کی سنگین غلطیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگلستان کو آخری روز صرف 99 رنز کا ہدف ملا اور پھر امپائروں نے "عزت سادات" بچا لی۔

وقار یونس کہتے ہیں کہ گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کی ٹیسٹ کارکردگی بہت عمدہ ہے اور انہیں اس پر فخر ہے لیکن ابوظہبی میں مقابلہ ہرگز اتنے سخت مرحلے میں داخل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ دوسری اننگز میں بیٹسمینوں کی کارکردگی ناقابل قبول تھی۔

سابق تیز گیندباز نے کہا کہ پہلا ٹیسٹ سادہ طریقے سے ڈرا ہونا چاہیے تھا لیکن ہمارے بلے بازوں نے خطرے سے دوچار کیا ورنہ وہ ہمیں شکست دینے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔ اب ہمیں دسرے ٹیسٹ کے لیے سخت محنت کرنا پڑے گی۔

پاکستان گزشتہ ایک سال میں کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہارا۔ گزشتہ سال انہی ایام میں آسٹریلیا کو دو-صفر سے شکست دینے کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز ایک-ایک سے برابر کھیلی۔ رواں سال بنگلہ دیش اور سری لنکا کو اُنہی کے میدانوں میں شکست دے کر اب ایک مرتبہ پھر اپنے گھر عرب امارات میں انگلستان کے مقابل ہے۔ حقیقت میں یہ عالمی نمبر دو کی جنگ ہے جو جیتے گا وہ درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر آئے گا۔

پاکستانی کوچ نے پچ پر زیادہ اعتراض نہیں کیا حالانکہ وہ اس وقت دنیا بھر کے ماہرین کی تنقید کا اصل نشانہ ہے، لیکن وقار کہتے ہیں کہ "پچ کسی حد تک ضرور مایوس کن تھی لیکن میں اسے زیادہ قصوروار نہیں ٹھہراؤں گا۔ اگر آپ دیکھیں کہ دونوں ٹیموں نے کتنے کیچ چھوڑے۔ اگر وہ پکڑ لیے جاتے تو میرے خیال میں ٹیسٹ کافی مختلف ہوتا۔"

دوسرا ٹیسٹ 22 اکتوبر سے دبئی میں شروع ہوگا جہاں دونوں ٹیمیں سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔

Facebook Comments