چوتھے ایک روزہ میچ میں بھارت کی جیت نے سیریز کو دلچسپ بنادیا

بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان چوتھے ایک روزہ میچ میں جس نتیجے کی اُمید تھی ہوا کچھ ویسا ہی۔ یہ میچ بھارت کے لیے لڑو اور مرو کے مترادف تھا اور آج کل بھارت میں جو کچھ ہورہا ہے اُن حالات میں کسی بھی غلطی کے نتیجے میں سنگین نتائج نکل سکتے تھے، لیکن کوہلی کی سنچری رنگ لے آئی اور مہمان ٹیم کو 35 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پہلے اور تیسرے میچ میں ہدف کے تعاقب میں ناکامی کے بعد اِس بار بھارت کپتان دھونی نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔  اگرچہ بھارتی آغاز اچھا نہ ہوا اور 35 رنز پر دونوں اوپننگ بلے باز پویلین لوٹ گئے مگر اِن مشکل حالات میں نائب کپتان ویرات کوہلی اور اجنکیا رہانے نے ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ دونوں نے ٹیم کا اسکور 139 پہنچایا مگر اِس موقع پر جنوبی افریقی کپتان اے بی ڈیویلئیرز نے اپنے سب سے بھروسے مند گیند بازی ڈیل اسٹین کو بلایا اور وہ کپتان کی اُمیدوں پر پورا اُترے اور رہانے کو چلتا کیا، اُنہوں نے 45 رنز بنائے تھے۔

رہانے کی جگہ بلے بازی کے لیے آئے سریش رائنا۔ اُنہوں نے بھی اپنی ذمہ داری احساس کی اور کوہلی کے ہمراہ ٹیم کو بڑے ہدف کی جانب لے جانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ دونوں نے ٹیم کا اسکور 45ویں اوور تک 266 رنز تک پہنچادیا تھا مگر اِس موقع پر ایک بار پھر اسٹین نے انٹری ماری اور رائنا کو 53 رنز پر آوٹ کیا۔

اب وکٹ پر کپتان دھونی آئے اور اِس موقع پر اُمید تو تھی کہ کوہلی اور دھونی مل کر بڑا ہدف دینے میں کامیاب ہوجائیں گے مگر جنوبی افریقہ کی جانب سے اچھی گیند بازی کے سبب بھارت محض 299 تک ہی محدود ہوگیا۔

بھارت بلے بازی کی سب سے اہم بات ویرات کوہلی کی سنچری تھی۔ اُنہوں نے 140 گیندوں پر 138 رنز بناکر اپنی ٹیم کو ایسے ہدف تک پہنچادیا جہاں مقابلہ کرنا نسبتاً آسان تھا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ڈیل اسٹین اور کگیسو رباڈا نے تین تین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا جبکہ کرس مورس نے ایک وکٹ لی۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ایک بار پھر کوئنٹن ڈی کوک نے جارحانہ آغاز کیا مگر اِس بار بھی ہاشم آملہ ناکام ہوئے اور محض 7 رنز بنانے کے بعد ہی موہت شرما کا شکار ہوگئے۔ اِس وقت جنوبی افریقہ کا اسکور موہت شرما کا شکار ہوگئے۔ اِس وقت جنوبی افریقہ کا اسکور 35 تھا۔

اگلے آنے والے بلے باز فاف ڈوپلیزز فارم میں نہ دکھائی دیے اور یہی وجہ ہے کہ رنز کی رفتار کچھ سست سی ہوگئی مگر دوسرے اینڈ پر موجود کوک مسلسل جارحانہ کھیل کھیل رہے تھے یہاں تک کہ وہ محض 35 گیندوں پر 43 رنز بناکر ہربھجن سنگھ کی گیند پر آوٹ ہوگئے۔ اِس وقت جنوبی افریقہ کا اسکور 67 تھا۔ مگر صرف 12 رنز بعد ہی ڈوپلیزز کو اکشر پٹیل نے پویلین کی راہ دکھائی۔

اِس مشکل وقت میں کپتان ڈی ویلئیرز اور ڈیوڈ ملر وکٹ پر موجود تھے مگر ملر صرف 6 رنز بناکر ہی کپتان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ اب یوں لگ رہا تھا کہ بھارت یہ میچ باآسانی جیت جائے گا مگر ڈی ویلئیرز نے شاہد ہار ماننے سے انکار کردیا تھا۔ اگرچہ دوسرے اینڈ سے مسلسل وکٹیں گر رہی تھیں مگر ڈی ویلئیرز نے مقابلے کا عہد کرلیا تھا اور ایسا مقابلہ کیا کہ ٹیم کو 44ویں اوور میں 233 رنز تک پہنچادیا۔ اگر ڈی ویلئیرز اننگ کے آخر تک کھڑے رہتے تو شاید یہ بنا بنایا میچ بھی بھارت کے ہاتھ سے نکل جاتا مگر بھوونیشور کمار نے بھارت کو بڑی وکٹ دلاکر میچ میں واپسی کا اعلان کیا۔ ڈی ویلئیرز 107 گیندوں پر شاندار 112 رنز بنائے، لیکن اُن کے آوٹ ہونے کے بعد کوئی بھی بھارتی گیند بازوں کا مقابلہ نہ کرسکا اور یوں بھارت کو مقابلہ نہ کرسکا اور یوں بھارت کو 35 رنز سے کامیابی حاصل ہوئی۔

بھارت کی جانب سے بھوونیشور کمار نے تین اور ہربھجن سنگھ نے دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جبکہ اکشر پٹیل، موہت شرما اور امیت مشرا نے ایک ایک کھلاڑیوں کی وکٹ لی۔

شاندار سنچری کرنے پر ویرات کوہلی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

دونوں ممالک کے درمیان پانچواں اور فیصلہ کن ایک روزہ میچ اتوار کو ممبئی میں کھیلا جائے گا۔

 

 

 

Facebook Comments