مصباح الحق، پاکستان کرکٹ کا ”گاڈ فادر“

دبئی میں جاری پاک-انگلستان دوسرے ٹیسٹ کے دوران پاکستان کے کپتان مصباح الحق کی سنچری پر برطانیہ کے معروف لکھاری کرس اسٹوکس کی لکھی گئی تحریر کا ترجمہ و تلخیص

مصباح الحق 41 سال کے ہیں، یعنی کیٹ موس، روبی ولیمز اور ایلانس موری سیٹ کے ہم عمر۔ دوسرے ٹیسٹ کے پہلے ہی دن پاکستانی قائد نے میدان میں موجود افراد کو ایک زبردست اننگز کا لطف اٹھانے کا موقع دیا۔ ایک ایسی اننگز جو انگلستان کو اچھی طرح یاد رہے گی۔

ٹیسٹ کرکٹ میں گزشتہ 37 سالوں میں کتنے معمر کھلاڑیوں نے سنچری بنائی ہے؟ آخری بار جنوری 1978ء میں باب سمپسن نے بھارت کے خلاف ایڈیلیڈ اوول پر تہرے ہندسے کی اننگز کھیلی تھی۔ دبئی کا یہ مقام تو جنوبی آسٹریلیا کے خوبصورت دارالحکومت ایڈیلیڈ سے کافی مختلف ہے، دریائے ٹورنس کے کنارے اگے ہوئے سبزے کے بجائے یہاں تاحد نظر صحرا ہے، جو آسٹریلیا کے لق و دق میدان نالربور سے بھی زیادہ سخت علاقہ ہے۔

یہ وہ صورت حال تھی جس میں مصباح کھیلے، اور کیا خوب کھیلے کہ اپنی نویں ٹیسٹ سنچری کے ذریعے پہلے دن ہی پاکستان کو چار وکٹوں پر 282 رنز کے محفوظ مقام تک پہنچا دیا۔ ہو سکتا ہے یہ اننگز سیریز کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہو۔

انگلستان نے ٹاس ہارنے کے بعد گیندبازی تو اچھی کی لیکن میلہ مصباح نے لوٹا۔ وہ کیا خوبی سے تہرے ہندسے میں داخل ہوئے، دن کے آخری اوور میں معین علی سے 15 رنز لوٹ کر۔ جس میں دو بلند و بالا چھکے بھی شامل تھے اور ان کا روایتی ریورس سویپ بھی، جس پر انہوں نے دو رنز حاصل کیے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان سپر لیگ: شکر خورے اور ذیابیطس

مصباح کی عمر کے زیادہ تر افراد گھر کے معمولی کام کاج کے علاوہ گالف میں وقت گزارتے ہیں۔ ہو سکتا ہے اپنے فارغ اوقات میں مصباح بھی یہی کچھ کرتے ہوں لیکن یہاں، دبئی میں، وہ حریف کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں جو ہو سکتا ہے کہ ان کے بین الاقوامی کیریئر کی آخری سیریز ہو۔

مصباح الحق 1974ء میں اس وقت پیدا ہوئے تھے جب ہالی ووڈ کی ایک شاہکار فلم دنیا کے سامنے آئی تھی "دی گاڈ فادرII"۔ شاید ہی کسی کے علم میں ہو کہ ایک دن مصباح الحق پاکستان کرکٹ کے "گاڈ فادر" بن جائیں گے۔

Facebook Comments