گلابی گیند خطرناک ثابت ہوگی، آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کو خدشہ

طویل انتظار کے بعد بالآخر ٹیسٹ میں بھی ہمیں ڈے/نائٹ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے، اور اگلے ماہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جانے والا ایڈیلیڈ ٹیسٹ ایک تاریخی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ اس مقابلے میں گلابی رنگ کی گیند کا استعمال کیا جائے گا لیکن آسٹریلیا کے تیز گیندباز جوش ہیزل ووڈ نے اس پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دن کی روشنی ڈھلنے کے بعد فیلڈرز کے لیے گلابی گیند نظر آنا مشکل ہوگا۔

ہیزل ووڈ کا کہنا ہے کہ کھیل کے دوران گلابی گیند کا رویہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا ایک روزہ میں سفید گیند دکھاتی ہے، اور یہ ٹیسٹ کرکٹ کی روایتی لال گیند سے مختلف ہے۔ وہ اور نیو ساؤتھ ویلز میں ان کے دیگر ساتھیوں نے گزشتہ منگل کو گلابی گیند کے ساتھ ایک پریکٹس سیشن میں حصہ لیا تھا جبکہ گزشتہ روز شروع ہونے والے نیوزی لینڈ کے پہلے ٹور مقابلے میں بھی گلابی گیند کا استعمال کیا جا رہا ہے جو دارالحکومت کینبرا کے منوکا اوول میں ہو رہا ہے۔

نوجوان تیز باؤلر ہیزل ووڈ کا کہنا ہے کہ خاص طور پر فیلڈرز کے لیے کچھ مسائل نظر آئے ہیں، پوائنٹ اور اسکوائر لیگ پر کھڑے فیلڈرز کے لیے یہ گیند دیکھنا کچھ دشوار تھا۔ بہرحال، ہم جتنا اس گیند کو استعمال کریں گے، اتنا عادی ہوتے جائیں گے یعنی ابھی وقت لگے گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "شام ڈھلے ہو سکتا ہے کہ تماشائیوں کو بھی یہ گیند نظر آنے میں دشواری ہو۔ پھر بھی حقیقی میدان میں اس گیند کو استعمال ہوتے دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ اس کا رویہ سفید گیند جیسا ہی لگتا ہے خاص طور پر ابتدائی اوورز میں اور 40 سے 50 اوورز کے درمیان۔

پہلا ڈے/نائٹ ٹیسٹ مقابلہ 27 نومبر سے ایڈیلیڈ میں شروع ہوگا اور اس تاریخی لمحے کے لیے سالہا سال تحقیق اور مختلف سطح پر گلابی گيندوں کا استعمال کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

وہ یہ شکایت کرنے والے اکیلے نہیں ہیں۔ پرائم منسٹرز الیون کی جانب سے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹور میچ میں شریک ایڈم ووجس بھی نوحہ کناں ہيں۔ ان کا کہنا ہے کہ میچ کے خاتمے تک اس میں گلابی پن بھی ختم ہوگیا تھا، سوئنگ نامی کوئی چیز نہیں، ریورس بھی نہیں ہو رہی تھی لیکن جیسے جیسے گیند پرانی ہو رہی تھی اسے دیکھنا آسان ہوتا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ "ابتدائی 10 اوورز بڑا چیلنج تھے، جس کے بعد گیند نے سوئنگ ہونا بند کردیا۔" انہوں نے میچ میں 55 رنز بنائے تھے۔ ایک اور تجربہ کار گیندباز پیٹر سڈل کہتے ہیں کہ گلابی رنگ بہت جلدی ختم ہوگیا ۔ اسے چمکا کر رکھنا بھی بڑا مشکل ہے اور یہ روایتی سرخ گیند سے قطعی مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے یہاں کنڈیشنز مختلف ہوں اور جب ہم ملبورن یا گابا میں جائیں تویہ گیند کچھ بہتر رویہ دکھائے لیکن یہاں، منوکا میں، تو مزا نہیں آیا۔

Facebook Comments