ویسٹ انڈیز کرکٹ کی تباہی کا سبب ٹی ٹوئنٹی

کرکٹ تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈرز میں سے ایک گیری سوبرز نے ویسٹ انڈیز کے زوال کا سبب ابھرتی ہوئی ٹی ٹوئنٹی لیگز کو قرار دیا ہے۔

وہ سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلی جارہی سوبرز-تسیرا ٹرافی کے دوسرے ٹیسٹ کے موقع پر کولمبو میں موجود ہیں، جہاں معروف کرکٹ ویب سائٹ 'کرک انفو' سے گفتگو میں وہ ویسٹ انڈیز کرکٹ کی حالت زار پر کڑھتے ہوئے بھی دکھائی دیے اور ساتھ ہی مستقبل کے لیے امید کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ "درحقیقت نئے کھلاڑیوں میں ویسٹ انڈیز کے لیے کھیلنے کے جذبے اور فخر کے اظہار میں کمی آ گئی ہے۔"

ویسٹ انڈیز اس وقت ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں آٹھویں اور ایک روزہ میں ساتویں نمبر پر ہے۔ بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے دوسرے سب سے بڑے ایک روزہ ٹورنامنٹ چیمپئنز ٹرافی کے لیے بھی کوالیفائی نہیں کرسکا، جو 2017ء میں کھیلی جائے گی کیونکہ وہ مقررہ تاریخ تک دنیا کی 8 بہترین ایک روزہ ٹیموں میں شامل نہیں تھا۔

گیری سوبرز کہتے ہیں کہ "میری پوری وابستگی ویسٹ انڈیز کرکٹ کے ساتھ تھی، میں کبھی اپنی ذات کے لیے نہیں کھیلا، ہمیشہ ویسٹ انڈیز کے لیے جدوجہد کرتا رہا اور اس سے مجھے کتنی خوشی ملتی تھی یہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ ریکارڈز وغیرہ کی کوئی حیثیت نہیں، سب کچھ ٹیم ہی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "میں نہیں سمجھتا کہ آج ہمیں ایسے لوگ میسر ہیں۔ مختلف ملکوں کے لیے کھیلنے والے ایسے بے لوث کھلاڑی ہمیں نظر آ سکتے ہیں، سری لنکا میں، انگلستان میں، آسٹریلیا میں، لیکن میں نہيں سمجھتا کہ ویسٹ انڈیز کرکٹ میں ایسا کوئی بچا بھی ہے جو ملک کے لیے کھیلے اور اپنا سب کچھ دینے کے لیے تیار ہو۔ یہ بہت افسوس ناک صورت حال ہے۔ جب تک ہمیں ایسے افراد نہیں ملتے، جو صرف اور صرف ویسٹ انڈیز کے لیے کھیلے، تب تک ٹیم جدوجہد کرتی رہے گی اور دوسرے ملک ہمیں مزید پیچھے چھوڑتے رہیں گے۔"

93 ٹیسٹ مقابلوں میں ویسٹ انڈیز کے لیے 8 ہزار سے زیادہ رنز اور 235 وکٹیں لینے والے سوبرز کہتے ہیں کہ "اس وقت تو حال یہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کے چند کھلاڑی ٹیسٹ بھی اس لیے کھیلتے ہیں تاکہ انڈین پریمیئر لیگ کے لیے معاہدہ ہوجائے۔" درحقیقت، ایسے کئی مواقع آئے بھی ہیں کہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے ملک کے بجائے لیگ کو ترجیح دی ہو۔ ابھی جنوری میں کرس گیل اور سنیل نرائن نے ویسٹ انڈیز کے لیے کھیلنے کے بجائے ٹی ٹوئنٹی کے لیے دستیابی کو مقدم جانا۔ یہی وجہ ہے کہ سوبرز یہ کہنے میں بجا ہیں کہ "ٹی ٹوئنٹی ویسٹ انڈیز کرکٹ کو تباہ کررہی ہے۔"

سوبرز اس رویے کی وجہ بھی بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ "اگر آپ کھلاڑیوں کے نقطہ نظر سے دیکھیں، خاص طور پر ویسٹ انڈیزکے،ان کا مالی پس منظر کمزور ہوتا ہے۔اس لیے وہ اپنے خاندان کی مدد کے لیے پیسے کمانے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ڈھونڈتے ہیں اوریہ طرز عمل غلط بھی نہیں ہے، آپ ان کو قصوروار بھی نہیں کہہ سکتے، لیکن میرے خیال میں انہیں سمجھ بوجھ سے کام لینا چاہیے اور اس فرق کو سمجھنا چاہیے۔ ٹیسٹ کرکٹ اس کھیل کی سب سے اعلیٰ اور بہترین قسم ہے اور اگر آپ یہ کھیل کھیلتے ہیں تو یہی وہ کرکٹ ہے جسے کھیلنا چاہیے، اس کی خواہش ہونی چاہیے اور اسے مقدم سمجھا جانا چاہیے۔" اس کے باوجود سوبرز سمجھتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز اب بھی باصلاحیت کھلاڑی پیدا کرسکتا ہے جو ویسٹ انڈیز کو ماضی کی شان واپس لوٹا سکتے ہیں۔ "80ء اور 90ء کی دہائی میں ویسٹ انڈیز تقریباً 15 سال تک عالمی چیمپئن رہا۔ میرا نہیں خیال کہ کرکٹ تاریخ میں دوبارہ ایسا دیکھنے کو ملے گا۔ ہم بہت کچھ کھو چکے ہیں کیونکہ ہم نے سستی دکھائی۔ اس وقت کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سب سے زیادہ ویسٹ انڈیز کو متاثر کررہی ہے۔ سب تعمیر نو کے مرحلے سے گزر رہے ہیں لیکن چند زیادہ تیزی سے یہ مرحلہ پار کررہے ہیں اور سبھی ویسٹ انڈیز سے زیادہ تیز ہیں۔"

البتہ وہ امید ظاہر کرتےہیں کہ بہتری آئے گی، "میرے خیال میں اچھے کھلاڑی تو سامنے آ رہے ہیں بس انہیں کچھ وقت دینے کی ضرورت ہے۔ اگروہ معاملات پر اچھی طرح گرفت لے لیں تو مجھے یقین ہےکہ ویسٹ انڈیز دنیائے کرکٹ میں ایک مرتبہ پھر ابھرے گا۔"

Article Tags

Facebook Comments