دبئی میں پاکستان کی بلند پروازی، انگلستان بے حال

پاکستان اور انگلستان کے مابین دبئی میں جاری دوسرا مقابلہ ہرگز پہلے ٹیسٹ سے مماثلت نہیں رکھتا کیونکہ وہاں ہر دن بلے بازوں کا تھا، جبکہ دبئی میں کب کیا ہوجائے؟ کسی کو کچھ خبر نہیں۔ تیسرے دن کا آغاز انگلستان نے 182 رنز اور تین کھلاڑی آؤٹ کے بہترین مقام سے کیا اور خیال یہی تھا کہ پاکستان کے 378رنز کے جواب میں وہ ایک قابل ذکر مجموعہ اکٹھا کرے گا مگر پاکستانی گیندبازوں نے تمام خیالات کو یکسر غلط ثابت کردیا۔ انگلستان کی پہلی اننگز صرف 242 رنز پر تمام ہوئی، جس میں آخری 7 وکٹیں صرف 36 رنز کے اضافے سے گریں۔ اس طرح نہ صرف میچ کے نتیجہ خیز ہونے کے پورے امکانات ہوچکے ہیں بلکہ پچھلے ٹیسٹ کے مقابلے میں دلچسپی کا عنصر بھی کہیں بڑھ گیا ہے۔

تیسرے دن کے کھیل کے آغاز پر ہی وہاب ریاض نے 88 رنز بنا کر خطرناک روپ دھارنے والے جو روٹ کو ٹھکانے لگایا۔ وہاب ریاض نے بہت اچھی باؤلنگ کی اور نہ صرف وکٹیں لیں بلکہ ایسا دباؤ قائم کیا جس کی وجہ سے دوسرے کنارے سے بھی پاکستان کو وکٹیں ملنا شروع ہوئیں۔ بہرحال، روٹ کے آؤٹ ہونے کے وقت اسکور بورڈ پر 206 رنز موجود تھے۔ یہاں وہاب ریاض اور یاسر شاہ کی عمدہ باؤلنگ کے سامنے انگلستان کے ہاتھ پیر بھول گئے۔ کچھ ہی دیر میں اسٹوکس اور پھر جوس بٹلر وہاب ریاض کی وکٹیں بنے اور پاکستان بہت مضبوط پوزیشن پرآ گیا۔

ایک مردہ وکٹ پر شاندار باؤلنگ کے ذریعے وہاب ریاض وکٹیں لے رہے تھے تو بھلا یاسر شاہ کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ انہوں نے بھی عادل رشید کو صفر پر آؤٹ کیا۔ پے در پے وکٹیں گرنے سے انگلستان کے کیمپ میں مایوسی چھا گئی مگر پھر بھی انہیں جانی بیئرسٹو سے امید تھی کہ وہ وکٹ پر قیام کریں گے اور جب تک وہ رہیں گے رنز کے امکانات روشن رہیں گے۔ مگر یاسر شاہ نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا تھا، انہوں نے جلد ہی اس آخری امید کا چراغ بجھا دیا۔ بیئرسٹو کی 46 رنز کی اننگز تمام ہوئی اور کچھ ہی دیر میں مارک ووڈ اور جیمز اینڈرسن کے ساتھ انگلستان کی اننگز اختتام پذیر ہوئی۔ 136 رنز کے بھاری خسارے کے ساتھ۔

وہاب ریاض اور یاسر شاہ دونوں نے چار، چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ عمران خان نے بھی دو وکٹیں لے کر، بلکہ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوایا۔

جب پاکستانی بلے باز میدان میں اترے تو ان کے حوصلے بلند کرنے کے لیے یہی بات کافی تھی کہ بغیر کوئی گیند کھیلے ان کے پاس 136 رنز کی برتری حاصل تھی۔ لیکن شان مسعود اس سے حوصلہ نہ پا سکے اور ایک مرتبہ پھر، یعنی چوتھی اننگز میں چوتھی مرتبہ، جیمز اینڈرسن کا شکار بنے۔ اس وقت پاکستان کا اسکور صرف ایک رن تھا۔ ون ڈاؤن پر ایک مرتبہ پھر شعیب ملک کو بھیجا گیا تو مسلسل تیسری ناکامی ان کا انتظار کررہی تھی۔ ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں سنچری کے بعد شعیب ملک دوبارہ نہیں چلے اور آج ان کی باری صرف 7 رنز کے ساتھ مارک ووڈ کے ہاتھوں تمام ہوئی۔

یہاں یونس خان نے محمد حفیظ کے ساتھ مل کر 67 رنزجوڑے تو پاکستان کا سانس کچھ بحال ہوا۔ حفیظ 51 رنز بنانے کے بعد ووڈ کا دوسرا شکار بنے۔ جس کے بعد 'مرد حق' مصباح الحق آئے اور یونس خان کے ساتھ مل کر ثابت کیا کہ وہ 41 سال کی عمر میں بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔

اس تجربہ کار، مستند اور قابل بھروسہ جوڑی نے دن کے اختتام تک 139 رنز کی شراکت داری جوڑی اور پاکستان کی کل برتری کو 358 رنز تک پہنچا دیا۔ یونس 71 جبکہ مصباح 87 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔ یہ دونوں کھلاڑیوں کی ٹیسٹ میں 14 ویں سنچری شراکت داری ہے جو ابھی مزید آگے جائے گی۔

مصباح کی نظریں چوتھے روز ایک مرتبہ پھر سنچری پر ہوں گی جس کے ساتھ وہ ایک مرتبہ پھر ایک ہی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچری کا اعزاز پائیں گے۔ دوسری جانب یونس خان 9 ہزار ٹیسٹ رنز کا یادگار سنگ میل عبور کرچکے ہیں۔ ان سے قبل پاکستان کا کوئی بلے باز اس مقام تک نہیں پہنچا۔ ساتھ ہی وہ 31 ویں سنچری کے لیے بھی پر تول رہے ہیں۔ اس لیے چوتھے دن کا پہلا سیشن دو یادگار لمحات لا سکتا ہے۔

باقی معاملہ تو انگلستان کی گرفت سے نکل چکا۔ پاکستان کی موجودہ برتری ہی اتنی ہے کہ انگلستان کو ناکوں چنے چبوا دے۔ دیکھتے ہیں پاکستان کے دونوں کھلاڑی انفرادی سطح پر کیا سنگ میل عبور کرتے ہیں اور انگلستان کو جیتنے کے لیے کتنے رنز کا ہدف ملتا ہے۔ اب نظریں چوتھے دن کے کھیل پر ہیں۔

Facebook Comments