گلابی گیند نے آسٹریلیا میں نیا ہنگامہ کھڑا کردیا

آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے، کرکٹ آسٹریلیا اگلے ماہ نیوزی لینڈ کے خلاف ڈے/ٹیسٹ کے انعقاد اور گلابی گیند کا استعمال ترک کرنے کا اعلان کردے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان تاریخ کا پہلا ڈے/نائٹ ٹیسٹ اگلے ماہ ایڈیلیڈ کے میدان پر کھیلا
جائے گا جسے کرکٹ کے تاریخی لمحات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے لیکن گلابی گیند پر چند حلقوں کی جانب سے تحفظات نے "رنگ میں بھنگ" ڈال دیا ہے۔

آسٹریلیا کے تیز گیند باز جوش ہیزل ووڈ نے چند روز قبل کہا تھا کہ مخصوص فیلڈنگ پوزیشنوں پر اس گیند کو دیکھنے میں دشواری ہو رہی ہے جبکہ گزشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹور مقابلے میں شرکت کرنے والے ایڈم ووجس نے رنگ بہت جلد خراب ہونے کی شکایت کی تھی۔

اب رواں ہفتے شیلڈ میچز کا ابتدائی مرحلہ شروع ہوگا، جہاں ڈے/نائٹ مقابلوں میں گلابی گیند کا استعمال ہوگا۔ اگر کھلاڑیوں کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا اور منفی ردعمل سامنے آیا تو ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں تاریخی ٹیسٹ کا انعقاد مشکل ہوجائے گا۔ آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن نے تو ابھی سے مطالبہ کردیا ہے کہ یہ ٹیسٹ روایتی انداز میں صرف دن میں اور سرخ گیند سے کھیلا جائے لیکن کرکٹ آسٹریلیا کا شیڈول میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں۔

کھلاڑیوں کے اس اتحاد کے سینئر ترین عہدیدار گریگ ڈائیر کہتے ہیں کہ ڈے/نائٹ ٹیسٹ کا انعقاد کھیل کو ناکام بنا سکتا ہے اور جب تک ہمیں 100 فیصد کامیابی کا یقین نہ ہو، تب تک یہ قدم نہیں اٹھانا چاہیے۔ "ہم نے دورۂ بنگلہ دیش سے بھی آخری وقت میں انکار کیا تھا ناں؟ میرے خیال میں اس معاملے پر بھی بہتر یہی ہوگا کہ حتمی فیصلہ کرلیا جائے۔"

آسٹریلیا-نیوزی لینڈ ٹیسٹ میں صرف ایک مہینہ بچا ہے اور کرکٹ آسٹریلیا اور ٹی وی نشریات کاروں کے لیے اس موقع پر کوئی بھی تبدیلی بڑا مسئلہ ہوگی لیکن ڈائیر کہتے ہیں کہ اگر آپ کو معلوم ہو کہ یہ تجربہ ناکام ہوگا، تو پھر چاہے کتنی بھی تاخیر ہوجائے، قدم اٹھا لینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ہمیں احتیاط کرنی چاہیے، کھلاڑیوں کی بات سننی چاہیے اور اس امر کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ یہ جدت کام بھی کرے گی یا نہیں۔ اگر نہیں تو ہمیں کھیل کو روایتی انداز سے دن میں اور سرخ گیند کے ساتھ ہی کھیلنا چاہیے۔

دوسری جانب گلابی گیند تیار کرنے والے ادارے نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹور مقابلے میں گیند خراب ہونے کی وجہ سے پچ تھی۔ کینبرا کے منوکا اوول میں ہونے والے اس مقابلے کے بعد پیٹر سڈل اور ایڈم ووجس دونوں نے شکایت کی تھی کہ گلابی گیند کا رنگ بہت جلد تبدیل ہوگیا تھا۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے "کوکابرا" نے کہا ہے کہ گلابی گیند خراب ہونے میں اتنا ہی وقت لیتی ہے، جتنا سرخ۔ یہ بالکل اسی طرح 80 اوورز تک چلے گی جیسے عام گیند چلتی ہے۔

اب کرکٹ آسٹریلیا سمیت سب کی نظریں آئندہ شیلڈ مقابلوں پر ہیں، جہاں سے سامنے آنے والا ردعمل فیصلہ کرے گا کہ اگلے ماہ کرکٹ ڈے/نائٹ ٹیسٹ کا تاریخی لمحہ دیکھے گی یا یہ منصوبہ "بن کھلے مرجھا" جائے گا۔

Facebook Comments