آسٹریلیا گلابی گیند کے تجربے کی کامیابی کے لیے ہاتھ پیر مارنے لگا

کھلاڑیوں کی کھلے عام اور دبے لفظوں شکایات نے آسٹریلیا کو ایک مصیبت میں مبتلا کردیا ہے۔ اسے محسوس ہو رہا ہے کہ اگلے ماہ کہیں پہلے ڈے/نائٹ ٹیسٹ کے موقع پر گلابی گیند کا استعمال سبکی کی وجہ نہ بن جائے۔ اس لیے کرکٹ آسٹریلیا کی ہر ممکن کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح سب قائل ہوجائیں کہ گلابی گیند ہی بہترین ہے۔

چند روز قبل نیوزی لینڈ کے خلاف ٹور مقابلے میں شریک پرائم منسٹرز الیون کے کھلاڑیوں نے شکایت کی تھی کہ گلابی گیند کا رنگ بہت جلد تبدیل ہوگیا تھا۔ جس پر کم از کم کرکٹ آسٹریلیا میں تو تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ گیند کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ منوکا اوول، کینبرا کی سخت اور کھردری پچ تھی۔ اب کرکٹ آسٹریلیا نے رواں ہفتے شیفیلڈ شیلڈ کے ایک مقابلے کے لیے ایڈیلیڈ میں ایسی وکٹ بنانے کا اشارہ دیا ہے، جس پر گھاس موجود ہو۔ یہی میدان اگلے ماہ پہلے ڈے/نائٹ ٹیسٹ کی میزبانی کرے گا۔ اگر تجربہ کامیاب ہوا تو آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کے تاریخی ٹیسٹ میں بھی ایسی ہی پچ بنائی جائے گی اور یوں ناقدین کے منہ بند کردیے جائیں گے۔

ایسی وکٹ کی بنانے کی صورت میں تيز باؤلرز کو بہت فائدہ ملا ہے اور نرمی کی وجہ سے بعد ازاں اسپن گیندبازوں کو بھی مدد ملے گی۔ یوں بلے بازوں کے لیے ٹکنا بڑا مشکل ہوجائے گا۔

گلابی گیند کے ابھی تک جتنے تجربات ہوئے ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ میدان اور پچ کی حالت اس گیند پر کافی اثرات مرتب کررہی ہے۔ منوکا میں صورت ہی بگڑ گئی لیکن آسٹریلیا آمد سے قبل ہملٹن میں نیوزی لینڈ کے پریکٹس سیشن میں گیند کافی دیر تک اصل شکل و صورت پر برقرار رہی۔

بہرحال، اب شیفیلڈ شیلڈ کے اس مقابلے کو نہ صرف کرکٹ آسٹریلیا اور آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے دیکھیں گے بلکہ نشریات کار چینل نائن بھی اس پر گہری نظر رکھے گا۔ ایڈیلیڈ میں ہونے والی اس 'ریہرسل' کے بعد انہیں ایک ماہ کے اندر اہم مقابلے کی تیاری کرنی ہوگی۔

اس مقابلے میں آسٹریلیا کے اہم کھلاڑی بھی گلابی گیند کو برتیں گے، جن میں کپتان اسٹیون اسمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر بھی شامل ہیں۔

Facebook Comments