شکست کے ذمہ دار عادل رشید نہیں، پھر بھی انہیں باہر ہونا چاہیے

یہ تحریر برطانوی روزنامہ 'گارجین' کے صحافی مائیک سیلوی نے پاک-انگلستان دوسرے ٹیسٹ کے بعد لکھی ہے جس میں انہوں نے آخری مقابلے سے قبل انگلستان کی کارکردگی اور آئندہ حکمت عملی پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کا ترجمہ و تلخیص یہاں پیش کی جا رہی ہے

عادل رشید نے آخر ایسا شاٹ کیوں کھیلا؟ 171 گیندوں پر شاندار بلے بازی کی، مکمل پختہ ذہن اور سوجھ بوجھ کے ساتھ میدان سنبھالے رکھا اور پھر 172 ویں گیند پر، جب منزل سامنے نظر آ رہی تھی، وہ یہ کر بیٹھے۔

پاکستان کے سات فیلڈرز ان کے گرد کھڑے تھے، ان کے بلے سے نکلنے والے ایک کیچ کے منتظر تھے، لیکن ان میں سے کسی ایک کے نصیب میں وہ موقع نہیں تھا جو کورز میں کھڑے ذوالفقار بابر کو ملا۔ اس وقت جب صرف 6 اوورز اور 3 گیندوں کا کھیل ہی باقی بچا تھا۔ اپنی آخری گیند سے پہلے تک عادل رشید نے جو کچھ کیا، وہ ان کے لیے قابل فخر تھا لیکن آخری گیند انہیں تاحیات تنگ کرتی رہے گی۔

البتہ شکست کے ذمہ دار اور قصوروار عادل نہیں تھے۔ ایسے حالات میں میچ بچانا، جب آپ کے پاس چائے کے وقفے کے بعد محض دو وکٹیں ہوں، بڑا دل گردے کا کام ہے۔ اتنی زیادہ دیر تک پاکستان کے گیندبازوں کو روکے رکھنا، یہاں تک کہ وہ خوف میں مبتلا ہو جائیں، ایک بڑا کارنامہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انگلستان تیسرے روز صبح کی ناقص بلے بازی کی وجہ سے یہ مقابلہ ہارا۔ دو دن تک میچ پاکستان کی گرفت میں رہا اور صرف 36 رنز کے اضافے پر سات وکٹیں لینے کے بعد اسے غالب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔

وکٹ نے اسپن گیندبازوں کو اتنی مدد فراہم نہیں کی، سوائے اس معمولی سے ٹکڑے کے جو گیندبازوں کے قدموں کے نشان پر بنا تھا، وہ کہیں سے کوئی خاص 'ٹرن' نہیں لے سکے۔ لیکن انگلستان نے خود کو جس صورت حال میں ڈالا، اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔

آخری بار پاکستان سے کھیلنے کے لیے جب انگلستان متحدہ عرب امارات آیا تھا تو اس کے پاس عالمی معیار کے چار گیندباز تھے۔ اس کے باوجود وہ کلین سویپ کی ہزیمت سے دوچار ہوا۔ اب ان میں سے دو گیندباز، گریم سوان اور مونٹی پنیسر، موجود نہیں ہیں لیکن بلے بازی پہلے کے مقابلے میں اپنے قدم جماتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ شاید اس لیے کہ سعید اجمل نہیں ہیں۔

بلے بازوں کی عالمی درجہ بندی میں ترقی کی سیڑھیاں طے کرنے والے ایلسٹر کک اور جو روٹ کی کارکردگی شاندار رہی لیکن انہیں یہ سبق ضرور سیکھنا چاہیے کہ ان حالات میں صبر سب سے زیادہ اثر انگیز چیز ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے پاس دو گیندباز ایسے ہیں جنہوں نے انگلستان کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے، وہاب ریاض اور یاسر شاہ۔ جنہیں عمران خان اور ذوالفقار بابر کا بھرپور ساتھ حاصل ہے۔ اس کے بلے بازوں کی حکمت عملی بھی بالکل واضح ہے۔ انگلستان کے تیز باؤلرز کے خلاف سنبھل کر کھیلنا اور اسپن گیندبازوں کو آڑے ہاتھوں لینا۔ گویا انہوں نے انگلستان کی کمزور کڑی ڈھونڈ نکلی ہے۔ پہلی اننگز میں معین علی اور عادل رشید نے 4.36 کے اوسط سے 476 رنز دیے ہیں۔ پھر پاکستان گو کہ تیز گیندبازوں پر تکیہ نہیں کررہا، اس کے باوجود وہ وکٹیں دلا رہے ہیں۔

ابوظہبی میں انگلستان فتح حاصل کرلیتا، اگر روشنی آڑے نہ آتی، لیکن مقابلے کی سمت کا تعین پہلی اننگز میں ہی کرنا تھا، جو انگلستان نہیں کرسکا تھا۔

انگلستان کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ انہوں نے ایک حکمت عملی طے کرلی ہے اور کھلاڑیوں کو اس کے اندر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالانکہ انہیں کھلاڑیوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق کھلانا چاہیے۔ انگلستان شاید غلط سمت سے حملے کررہا ہے۔

اتوار سے شارجہ میں شروع ہونے والے آخری ٹیسٹ کے لیے انگلستان کو اسپن گیندبازوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی معین یا عادل میں سے کسی ایک کو بٹھا دیں، معین کو تو بٹھایا نہیں جا سکتا اس لیے عادل کو ان کی بہترین بلے بازی کے باوجود باہر کرنا چاہیے۔ کیونکہ جو اصل کام ان کے کرنے کا ہے، اس میں کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔

انگلستان کو عادل کی جگہ لیام پلنکٹ کو کھلانا چاہیے۔ وہ اینڈرسن اور براڈ کے تجربے و مہارت، ووڈ کے جوش و جذبے اور اسٹوکس کی انتھک محنت کے ساتھ مل کر ایک اچھا گٹھ جوڑ بنا سکتے ہیں۔ ان پانچ تیزگیندبازوں کے ساتھ معین اور جو روٹ کو بھی ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انگلستان کو صرف اتنا سوچنا چاہیے کہ پاکستان کون سے باؤلنگ اٹیک کو کھیلنا پسند کرے گا؟ جواب خود ہی اس کے سامنے آ جائے گا۔

Facebook Comments