’افغانستان کا انضمام‘، آج بھی کامیابی کی ضمانت

یہ شاید افغانوں کے خون میں شامل ہے کہ جب وہ کچھ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو کر کے دکھاتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ یہی پڑھا اور سنا ہے کہ اس سرزمین کے لوگ صرف ایک شخص کی سنتے ہیں، اور وہ خود ان کی ذات ہوتی ہے۔ دنیا کی دو بڑی سپر طاقتوں کو صرف اس لیے شکست ہوئی کہ وہ اپنی من مانی کی خواہاں تھیں۔ بہرحال، صرف اپنے دل کی بات سننے کا نقصان افغانوں کو بھی ہوا، ان کی کئی نسلی جنگ در جنگ کو دیکھتے دیکھتے کوچ کرگئیں، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ لیکن افغان صرف لڑتے نہیں ہیں بلکہ کرکٹ جیسے کھیل کو بھی جنون کی حد تک چاہتے ہیں۔ طالبان عہد میں یہی وہ واحد کھیل تھا، جس کو صرف ایک شرط پر کھیلنے کی مکمل اجازت تھی، نماز کی پابندی۔ مختلف عالمی ٹورنامنٹس میں افغانستان کے کھلاڑی کارنامے دکھا چکے ہیں اور یوں میدان جنگ کے علاوہ افغانستان میدان کرکٹ میں بھی حریف کو پچھاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

افغانستان کا کرکٹ سفر دلچسپ ہے۔ 2004ء میں مقامی ٹورنامنٹس سے آغاز، کبھی کامیابی تو کبھی ناکامی، وسائل کی کمی کا سامنا تو کبھی حالات کی سختی کا، غرضیکہ تمام تر مشکلات ان کے سامنے تھیں لیکن ہمت نہیں ہاری اور گرتے پڑتے صرف ایک دہائی میں اس مقام پر پہنچ گئے کہ 2015ء کے عالمی کپ میں شرکت کے بعد بار پہلی مکمل سیریز کھیلنے کا موقع مل گیا۔

افغانستان نے آج اپنا دورۂ زمبابوے مکمل کیا ہے۔ پہلے 5 ایک روزہ مقابلے کھیلے، پھر دو ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز۔ جب مقابلوں کا آغاز ہوا تھا تو کرکٹ کی معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا بھی زمبابوے کی جیت پر لبیک کہہ رہا تھا۔ وجہ؟ اس لیے کہ تجربے کی بنیاد پر دونوں ٹیموں کے درمیان کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ یہ ایسا ہی جیسے ایک جوان اور توانا شخص کا مقابلہ نومولود کے ساتھ کیا جائے۔ یہ وہی زمبابوے جس نے اینڈی فلاور، گرانٹ فلاور، ہیتھ اسٹریک اور برینڈن ٹیلر جیسے بڑے کھلاڑی دنیائے کرکٹ کو دیے۔ مگر بدقسمتی دیکھیں کہ تمام بڑے ناموں کے باوجود زمبابوے خود کو ثابت نہیں کرسکا۔ کہنے کو تجربہ بھی ہے اور چند بہت اچھے کھیلنے والے بھی لیکن جس میدان میں جس لگن، جوش اور ولولے کی ضرورت ہوتی ہے، اس کا ہمیشہ فقدان دکھائی دیا ہے اور جب بات جوش و جذبے کی ہو، تو افغانوں کو کون پیچھے چھوڑ سکتا ہے؟

گو کہ افغان-زمبابوے سیریز کے لیے کیمرے اس طرح متحرک نہیں تھے، جیسے ایک بین الاقوامی سیریز کے لیے ہونے چاہئیں اور نہ ہی سیریز شائقین کرکٹ کی توجہ بہت زیادہ اپنی جانب مبذول کرا پائی لیکن جب نتائج آنے شروع ہوئے تو کانوں اور آنکھوں کو یقین نہیں آیا، افغانستان نے زمبابوے کو ایک روزہ سیریز تین-دو سے اور ٹی ٹوئنٹی میں دو-صفر سے شکست دی۔

afghanistan-cricket-team

جوش اور ولولہ ایک طرف لیکن اس تاریخی کامیابی میں اگر کوئی ایک بڑا عنصر ہے تو وہ نئے کوچ انضمام الحق کا ہے۔ جن کو یہ نام پڑھ کر حیرت ہو رہی ہے ان کے لیے اطلاعاً عرض ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے عظیم بلے باز انضمام نے اس سیریز سے قبل ہی ہیڈ کوچ کی حیثیت سے افغانستان کا رخ کیا تھا۔ انضمام سے قبل پاکستان کے دو بڑے نام ماضی میں افغانستان کی قومی ٹیم کی کوچنگ کر چکے ہیں، راشد لطیف اور کبیر خان۔ مگر جن نتائج کے حصول کے لیے ان کو ذمہ داری سونپی گئی تھی، وہ بہت حد تک پورے نہیں ہوئے۔ لیکن انضمام اپنے پہلے ہی امتحان میں سرخرو ثابت ہوئے اور افغانستان کو ایک یادگار فتح دلا کر دنیا کو بتا دیا ہے کہ یہ ٹیم اگلے کچھ عرصے میں خطرناک روپ دھار لے گی اور اپنے کھیل کی وجہ سے جانی اور پہچانی جائے گی۔

کچھ ایسے ہی خیالات سابق کوچ راشد لطیف کے بھی رہے ہیں، جنہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر کہا تھا کہ افغان جس محنت اور جذبے کے ساتھ کھیلتے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگلے چند سالوں میں افغانستان دنیائے کرکٹ کی ایک موثر قوت بن کر ابھرے گا۔

پاکستان اور افغانستان دو برادر اسلامی ملک ہیں اور ان کے درمیان ہمیشہ بہت قریبی تعلق رہا ہے۔ روس کے حملے کے بعد پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی۔ انہی مہاجرین نے یہاں کرکٹ کا کھیل پہلی بار دیکھا اور کھیلا۔ ملک میں امن کے بعد وہ اپنے شہروں کو واپس گئے اور پاکستان سے لایا گیا کرکٹ کا تحفہ ساتھ لے گئے۔ پاکستان نے پھر بھی انہیں نہ بھلایا اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ افغانستان دنیائے کرکٹ میں آج جس مقام پر کھڑا ہے، اس میں پاکستان کا اہم ترین کردار ہے۔ افغانستان کے لیے کھیلنے والے تقریباً تمام ہی اہم کھلاڑیوں کا کرکٹ سے پہلا تعارف پاکستان میں مہاجر کیمپوں میں ہوا۔ جنگ زدہ افغان اپنی زندگی کی گاڑی کھینچنے کی کوشش کررہے تھے اور انہی خیمہ بستیوں میں انہیں پاکستان کے عالمی چیمپئن بننے کی خبر ملی۔ کرکٹ کے جنون نے پورے ملک کو لپیٹ لیا اور افغان مہاجرین بھی اس کی زد میں آئے۔ جنہوں نے بچپن میں پاکستان کے عالمی چیمپئن بننے کی خبریں سنی تھیں، وہی آسٹریلیا کی اسی سرزمین پر رواں سال افغانستان کی نمائندگی کرتے دکھائی دیے۔

یہی نہیں بلکہ ایک ایک قدم پر پاکستان نے افغان کھلاڑیوں کو مدد فراہم کی، جس کا خود افغانستان بھی معترف ہے۔ ان کے لیے بین الاقوامی سہولیات کی دستیابی، میدانوں کی فراہمی، مقامی اور قومی سطح پر اہم ٹورنامنٹس میں افغان کھلاڑیوں کو شرکت کی اجازت، پھر پاکستان کے اہم ترین کوچنگ دماغ کو افغانستان کی تربیت کی اجازت۔ یہ ایسے اقدامات ہیں، جنہوں نے افغان کرکٹ کو ایک ہی دہائی میں عالمی منظرنامے پر نمایاں کردیا۔

انضمام نے افغانستان کے لیے باقاعدہ خدمات فراہم کرنے سے پہلے طویل عرصہ صرف اس انتظار میں گزارا تھا کہ شاید انہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے منتخب کرلیا جائے۔ مگر ایسا نہیں ہوا تو بالآخر انضمام نے افغانستان کا انتخاب کرلیا۔ اب 'انضی' کے پاس موقع ہے کہ وہ افغانستان کی کارکردگی کر بہتر سے بہترین بناتے ہوئے ثابت کردیں کہ وہ آج بھی پہلے کی طرح بااعتماد ہیں، اور جو لوگ انضمام کے پاکستان کے بیٹنگ کوچ بننے کی راہ میں رکاوٹ رہے، ان کو بھی احساس ہو کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر بیٹھے ہیں۔

Mirwais-Ashraf

Facebook Comments