اجاڑ میدان اور امید کی کرن

قدیم روم میں، جہاں کھیل کا مطلب موت کا کھیل ہوتا تھا، وحشیانہ لڑائیوں کو دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ دنیا کے سب سے بڑے اکھاڑے کا رخ کرتے تھے۔ ایک ایسا کھیل جسے کوئی سلیم الفطرت اور ذی شعور فرد برداشت نہیں کرسکتا، اسے دیکھنے کے لیے عوام کا جم غفیر اکٹھا ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ کھیل چاہے جیسے بھی ہوں، عوام ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور آج جدید دور میں بھی یہ مثال اسی طرح صادق آتی ہے۔ گزشتہ سال نومبر میں آسٹریلیا اور انگلستان کا ملبورن میں کھیلا گیا ٹیسٹ مقابلہ ایک دن میں 91 ہزار سے تماشائیوں نے دیکھا لیکن اس کے بالکل برعکس پاکستان اور انگلستان کی سیریز کے دو کہیں زیادہ دلچسپ اور یادگار مقابلے دیکھنے والے افراد کی تعداد بہت بلکہ بہت ہی کم رہی۔ صحرائے عرب کے مشرقی کنارے پر واقع ابوظہبی اور دبئی کے میدان، سبز صحرا کا منظر ہی پیش کرتے رہے۔ ویران، اجاڑ، بیابان اور تاحد نگاہ سنسان!

بلاشبہ ٹیسٹ اتنے مقبول نہیں ہیں جتنی محدود طرز کی کرکٹ، لیکن اب غیر مقبولیت کی سطح اتنی کم بھی نہیں۔ چلیں، 10 فیصد بھی قبول کرلیں تو 30 ہزار تماشائیوں کی گنجائش والے میدان میں 3 ہزار افراد تو ہونے چاہئيں۔ گو کہ یہ تعداد بھی شرمناک ہے لیکن 54 سے تو کہیں زیادہ ہے۔ دبئی میں انتہائی سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہونے کے بعد بھی میدان میں اتنی خاموشی تھی کہ افسوس ہو رہا تھا۔ اس وقت سوائے آسٹریلیا اور انگلستان کے شاید ہی کوئی ایسا ملک ہے جہاں ٹیسٹ کے دوران اتنے تماشائی موجود ہوں، جتنے کوئی ٹی ٹوئنٹی میچ دیکھنے کے لیے آئیں۔

دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ 'مارکیٹ' بھی اس سے محفوظ نہیں۔ اگر آپ کو یقین نہیں تو ابھی جنوبی افریقہ اور بھارت کی ٹیسٹ سیریز دیکھ لیجیے گا۔ ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ مقابلوں میں میدان میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ بہرحال، پاکستان کا معاملہ کچھ مختلف بھی ہے۔ ایک تو گزشتہ چھ سالوں سے ملک میں کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا گیا۔ ورنہ اتنے دلچسپ مرحلے میں داخل ہونے کے بعد تو تماشائیوں کی اتنی تعداد تو میدان میں آ ہی جاتی، جو یادگار لمحات کا جشن منانے کے لیے کافی ہوتی۔ پھر متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی آبادی کی اکثریت مزدور پیشہ ہے جو عام دنوں میں کسی صورت میدان کا رخ نہیں کرسکتی۔ آئندہ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں انہی میدانوں میں تماشائیوں کی آمد سے اندازہ ہوجائے گا کہ مسئلہ ٹیسٹ کی عدم مقبولیت کا بھی ہے۔

شاید یہی چیز کھیل کے کرتا دھرتا حلقوں کو تشویش میں مبتلا کررہی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کو دلچسپ بنانے اور تماشائیوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ہی ڈے/نائٹ ٹیسٹ کو عملی صورت دی جا رہی ہے۔ اگلے ماہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ایک ایسا ٹیسٹ کھیل رہے ہیں جو دوپہر کو شروع ہوگا اور رات تک جاری رہے گا۔ گو کہ آسٹریلیا میں ویسے بھی تماشائیوں کی تعداد دیگر ممالک میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے، اس کے باوجود اگر تماشائیوں کی آمد میں کافی زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا تو امید ہے کہ اس سے ٹیسٹ کرکٹ کو ایک نیا سہارا ملے گا۔

day-night-test

Facebook Comments