سیکورٹی خدشات بھی بنگلہ دیش کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے

ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا ہے کہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے پہلے جنوبی افریقہ نے اپنی خواتین ٹیم کو اور پھر آسٹریلیا کے مردوں نے بنگلہ دیش کے دورے سے انکار کیا۔ مگر صورت حال یکدم تبدیل ہو گئی ہے اور اب معاملہ یہ ہے کہ سیکورٹی "خدشات" بھی بنگلہ دیش کو ایشیا کپ کی میزبانی سے نہیں روک پائیں گے۔

رواں ہفتے سنگاپور میں ایشیائی کرکٹ کونسل کے اجلاس میں طے پایا ہے کہ بنگلہ دیش کو لگاتا تیسری مرتبہ ایشیا کپ کی میزبانی کا موقع دیا جانا چاہیے جو اگلے سال 24 فروری سے 6 مارچ تک کھیلا جائے گا۔ کیونکہ اگلے برس مارچ میں بھارت میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلا جانا ہے، اس لیے اس بار ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلا جائے گا تاکہ کھلاڑی زیادہ بہتر مشق کرسکیں۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر نظم الحسن نے ذرائع ابلاغ کے بتایا کہ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے تجویز پیش کی گئی تھی کہ ایشیا کپ کی میزبانی بنگلہ دیش کو دی جائے، جس پر تمام ممالک نے اتفاق کیا۔

نظم الحسن نے مزید کہا کہ ٹیسٹ کھیلنے والے چاروں ممالک یعنی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا براہ راست کھیلیں گے جبکہ پانچویں مقام کے لیے افغانستان، عمان، ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات نومبر کے اختتام پر ایک کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلیں گے جو متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائے گا۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش 2012ء اور 2014ء میں بھی ایشیا کپ کی میزبانی کرچکا ہے اور اب لگاتار تیسری مرتبہ 2016ء میں بھی کرے گا۔ مجموعی طور پر یہ بنگلہ دیش میں کھیلا جانے والا پانچواں ایشیا کپ ہوگا، جو اس سے قبل 1988ء اور 2000ء میں بھی میزبانی کے فرائض انجام دے چکا ہے۔

Facebook Comments