سچن کے ایک پرستار کا کپل دیو کے نام کھلا خط

سچن تنڈولکر کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ بھارت میں جتنی مقبولیت انہیں ملی ہے شاید ہی کسی دوسرے کھلاڑی کو ملی ہو۔ بلکہ شائقین کرکٹ کی ایک بہت بڑی تعداد سچن کو “کرکٹ کا بھگوان” کہتی ہے۔ اب جب “بھگوان” پر تنقید ہوگی تو بھلا کوئی کیسے برداشت کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کپل دیو کی جانب سے چند روز قبل سچن کے بارے میں ادا کیے گئے کلمات کا جواب آج تنڈولکر کے ایک چاہنے والے کی جانب سے آیا ہے۔ چندن نامی یہ صاحب کیا کہتے ہیں، آپ بھی اس کھلے خط میں پڑھیے۔

جناب محترم کپل دیو،

آپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ "مجھے غلط نہ سمجھا جائے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سچن تنڈولکر کے پاس جو صلاحیتیں تھیں، انہوں نے اُس کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ میں ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ سچن ان سے کہیں بہتر ریکارڈ قائم کرسکتے تھے جو اُنہوں نے اب تک قائم کیے۔" میں سمجھتا ہوں، صرف میں ہی نہیں بلکہ بھارت میں کرکٹ سے محبت کرنے والے تمام ہی لوگ خدا کا شکر ادا کریں گے کہ سچن نے ہماری اُمیدوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں سے انصاف نہیں کیا کیونکہ ایسا کرنے سے سچن وہ سچن نہیں رہتے جن سے دنیا محبت کرتی ہے۔

اِس کے علاوہ آپ نے کہا کہ سچن نے خود کو ممبئی کی کرکٹ تک محدود کردیا تھا اور عالمی کرکٹ کے معیار تک پہنچنے کے لیے جن تقاضوں کی ضرورت تھی، انہیں پورا نہ کرسکے۔ مگر میں معذرت چاہتا ہوں کہ اِس سے مضحکہ خیز بیان میں نے آج تک کسی بھی سچن ناقد سے نہ ہی سنا، نہ دیکھا اور نہ پڑھا۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ سچن دنیائے کرکٹ کا وہ واحد کھلاڑی ہے جس نے اپنے کیریئر میں کئی بار بلے بازی کے طریقے کو تبدیل کیا۔ اُس نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور جارحانہ بلے باز کیا، پھر بتدریج وہ رنز کی مشین بن گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ سچن نے دونوں خوبیوں کو اپنا لیا۔

سچن سے یہ اُمید کرنا کہ وہ وریندر سہواگ کی طرح کھیلیں، یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ وسیم اکرم سے یہ اُمید کی جائے تو وہ وقار یونس کی طرح گیند بازی کریں۔ دونوں کھلاڑی مختلف نمبرز پر بلے بازی کرتے تھے، صرف یہی نہیں بلکہ اُن کی ذمہ داریاں بھی مختلف تھیں۔ یقیناً سہواگ نے ٹیسٹ کرکٹ میں بلے بازی کے طور طریقوں کو ہی بدل دیا مگر وہ اپنی کرکٹ کو بدلتے وقت کے ساتھ تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اگر سہواگ نے سچن کی طرح کرکٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کیا ہوتا تو اُن کے کیریئر میں تین سے چار برس کا اضافہ ہوسکتا تھا۔

مجھے آپ کے اِس بیان پر بھی حیرت ہوئی کہ سچن کے پاس ڈبل سنچری کو ٹرپل سنچری میں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ آج کی تاریخ تک صرف 28 ایسے کھلاڑی گزرے ہیں جنہوں نے ایک اننگ میں 300 سے زائد رنز بنائے ہوں، چلیں اگر وہ ایسا نہیں کرسکے تو ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ اُنہوں نے یہ کمی اپنے کیریئر میں 6 بار ایک اننگ میں 200 سے زائد رنز بناکر پوری کردی۔ سچن سب سے زیادہ ڈبل سنچری بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں چھٹے نمبر پر ہیں۔ دنیائے کرکٹ کے عظیم بلے باز ویو رچرڈز محض تین بار یہ کارنامہ سرانجام دے سکے۔ ایسی صورت میں بھلا یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے کہ ویو رچرڈز کو تو بڑا اسکور کرنا آتا تھا، مگر سچن کو نہیں۔

کپل جی آپ نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ نے سچن کے ساتھ زیادہ کرکٹ کھیلی ہوتی تو آپ اُنہیں کہتے جاؤ، سہواگ کی طرح بلے بازی کرو اور اپنی بلے بازی کا لطف اٹھاؤ۔ لیکن میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ سچن کس طرح بغیر کسی دباؤ کے بلے بازی کرسکتے تھے کیونکہ جب بھی وہ بلے بازی کے لیے میدان میں اُترتے تو اربوں لوگوں کی اُمیدوں کا بوجھ اُن کے کاندھوں پر ہوتا تھا۔

اگر سچن کے ابتدائی کیریئر پر نظر ڈالی جائے تو ہم یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اُن کے پاس سہواگ کی طرح آزادی میسر نہیں تھی، کیونکہ اگر جارحانہ بلے بازی کرتے ہوئے سہواگ جلدی آؤٹ بھی ہوجاتے تھے تو پیچھے چار بلے باز اپنی باری کے منتظر ہوتے تھے جس کی وجہ سے ٹیم کا نقصان کم ہی ہوتا تھا۔ مگر سچن چوتھے نمبر پر بلے بازی کے لیے آتے تھے اور اُن کے بعد صرف لکشمن اور گانگلی کو آنا ہوتا تھا۔ میرے خیال میں سچن نے سب سے بڑھ کر اپنی ذمہ داری کو نبھایا ہے۔ جس میں حالات کے مطابق جارح مزاجی بھی اپناتے تھے اور احتیاط سے بھی کام لیتے تھے، اگر حالات کے مطابق کھیلنے کے بجائے سچن صرف جارحانہ بلے بازی کرتے تو اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے بجائے ٹیم کی مشکلات کا سبب ہی بنتے۔

آپ نے مزید کہا کہ سچن تنڈولکر اُتنے خطرناک نہیں تھے، جتنے ویو رچرڈز تھے۔ مگر میں ایک بار پھر کہنا چاہتا ہوں کہ سچن نے اپنے کھیل کو بالکل اُسی طرح کھیلا جس طرح ٹیم کو ضرورت تھی۔ جب ٹیم کو جارح مزاجی کی ضرورت تھی تو سچن نے بڑے بڑے گیند بازوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلادیا۔ یہ بات ٹھیک ہوسکتی ہے کہ سچن ٹیسٹ کرکٹ میں ویو رچرڈز کی طرح خطرناک اور سہواگ کی طرح بے باک نہ ہوں مگر سچن جب بھی ایک روزہ کرکٹ میں بطور اوپنر بلے بازی کے لیے آئے تو اپنے تمام رنگ دکھائے، اور کسی کو کیا خبر کہ اگر سچن ٹیسٹ میں بھی اوپننگ کرتے تو اِن سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے۔

یہ بات مانی جاسکتی ہے کہ ویو رچرڈز اور وریندر سہواگ زیادہ خطرناک اور جارح مزاج تھے مگر سچن اِن دونوں بلے بازوں کے مقابلے میں زیادہ قابل بھروسہ تھے اور وہ جانتے تھے کہ مشکل صورتحال میں کس طرح ٹیم کی مدد کی جاتی ہے۔ یہی وہ ذمہ داری تھی کہ 200 ٹیسٹ میچز کھیلنے کے باوجود سچن کی اوسط 53.78 تھی جبکہ ویو رچرڈز اور سہواگ کی اوسط 50 کے آس پاس رہی۔

اگر سچن اپنی بلے بازی کے طریقہ کار کو سہواگ کے مطابق تبدیل کرتے تو 2001 ء سے 2010ء تک بھارت کی ٹیم ویسی نہ ہوتی، جسے آج ہم اچھے نام سے یاد رکھتے ہیں۔ پھر بھارتی ٹیم بالکل اُسی طرح ہاتھ پاؤں مارتی رہتی جس طرح آپ کے دور میں مارتی تھی یا ویسی ہی مشکلات سے دوچار ہوتی جیسی آپ کو رچرڈ ہیڈلی کا 431 وکٹوں کا ریکارڈ توڑنے کے لیے درپیش آئیں۔

شکریہ

سچن اور بھارت کرکٹ ٹیم کا ایک چاہنے والا

Facebook Comments