”شین وارن خوش ہوا!“

پاک-انگلستان سیریز کے پہلے دو مقابلوں کے بعد حتمی معرکہ شارجہ کے میدان میں کھیلا جانا تھا۔ پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ پہلے ٹیسٹ میں یاسر شاہ کی خدمات سے محروم ہونے کے بعد اسے آخری دونوں میچز کے لیے اپنا اہم اسپنر دستیاب تھا۔ لیکن پہلے دونوں مقابلوں کے انتہائی سنسنی خیز ثابت ہونے کے بعد انگلستان کے حوصلے بھی بلند تھے اور پاکستان کو کسی خاص کارکردگی کی ضرورت تھی۔

فیصلہ کن معرکے سے پہلے تاریخ کے عظیم ترین لیگ اسپن گیندباز شین وارن نے یاسر شاہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے یاسر شاہ کی خوب تعریف بھی کی اور انہیں چند مفید مشورے بھی دیے۔ شاید وارن کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ یاسر اتنا سیکھ جائیں گے۔ شارجہ میں یاسر کی ایک گیند نے گویا وارن کی یاد تازہ کردی۔ پہلی اننگز میں جب پاکستان صرف 234 رنز پر آؤٹ ہوگیا تھا اور انگلستان صرف 4 وکٹوں کے نقصان پر 228 رنز تک آ گیا تھا تو پاکستان سخت مشکل میں تھا۔ یہاں گیندبازوں نے مقابلے میں واپسی کی اور 57 رنز کے اضافے سے 3 وکٹیں حاصل کیں لیکن برتری کے جلد از جلد خاتمے کی ضرورت تھی اور انگلستان کی آخری مزاحمت کو بھی ختم کرنے کی۔ ایک ایسی گیند کے ذریعے جو تہلکہ مچا دے اور یہ گیند پھینکی یاسر شاہ نے۔ سمیت پٹیل 80 گیندوں پر 42 رنز کی عمدہ اننگز کھیل چکے تھے اور کریز پر جمے ہوئے تھے جب یاسر شاہ کی آؤٹ سائیڈ لیگ پڑنے والی گیند نے انہیں زندگی کا سب سے بڑا دھوکا دیا۔ گیند "وارن" انداز میں گھومی اور سمیت کی آف اسٹمپ میں جا گھسی۔

shane-warne

1993ء کی ایشیز سیریز میں شین وارن نے مائیک گیٹنگ کو اسی طرح بولڈ کیا تھا۔ جسے آج ہم "صدی کی بہترین گیند" کہتے ہیں۔ تو کیا وارن کے 'شاگرد' کی گیند کو نئی صدی کی بہترین گیند سمجھنا چاہیے؟ آپ کیا کہتے ہیں؟

(وڈیو 1:48 منٹ پر ہے، اس سے پہلے یاسر شاہ کی دیگر وکٹیں ہیں جو انہوں نے شارجہ ٹیسٹ کے تیسرے دن حاصل کی تھیں)

Yasir Shah picks 3 wickets (PAK vs ENG 2015, T3 Day 3)

Yasir Shah picks 3 wickets (PAK vs ENG 2015, T3 Day 3)

Posted by CricNama on Tuesday, November 3, 2015

Facebook Comments