بلے بازوں کے بعد آسٹریلوی گیند باز بھی چھا گئے

وقت بدل گیا مگر نہ آسٹریلوی ٹیم کے رویے میں تبدیلی آئی اور نہ ہی نیوزی لینڈ نے خود کو بہتر کرنے کی کوشش کی، کیونکہ ابتداء سے ہی آسٹریلیا نے کبھی نیوزی لینڈ کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا، اور یہی معاملہ برسبین میں جاری پہلے ٹیسٹ میچ میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں ابتدائی ڈیڑھ دن بلے بازوں نے راج کیا اور محض چار وکٹوں پر 556 رنز بناکر آسٹریلوی کپتان اسٹیو اسمتھ نے ٹیم ڈیکلئیر کردی، وہ چاہتے تو مزید رنز بناسکتے تھے مگر شاید اُن کو اپنے گیند بازوں پر کچھ زیادہ ہی بھروسہ تھا، اور گیند بازوں نے کپتان کے بھروسے کو اُس وقت ٹھیک ثابت کیا جب مہمان ٹیم کے پانچ کھلاڑیوں کو محض 157 رنز پر پویلین بھیج دیا۔

جب آسٹریلیا نے دوسرے دن کا آغاز کیا تو اُس کے 389 پر دو کھلاڑی آوٹ تھے، جبکہ کپتان اسمتھ اور عثمان خواجہ وکٹ پر موجود تھے۔ کھانے کے وقفے سے پہلے صرف ایک وکٹ گری جب کپتان 48 رنز بناکر پویلین لوٹے۔ خواجہ جنہوں نے پہلے دن 102 رنز بنائے تھے، نئے آنے والے بلے باز ایڈم ووگز کے ساتھ 157 رنز کی شراکت داری قائم کی مگر پھر سوئپ کھیلنے کے چکر میں جز وقتی کین ولیمسن کی گیند پر 174 رنز بناکر آوٹ ہوگئے۔ جب وہ آوٹ ہوئے تو کپتان اسمتھ نے مزید بلے بازی کرنے کے بجائے نیوزی لینڈ کو بلے بازی دینے کا فیصلہ کیا حالانکہ ایڈم ووگز اُس وقت وکٹ پر 84 رنز پر موجود تھے مگر اُن کی سینچری تک کا بھی انتظار نہیں کیا گیا۔

جب نیوزی لینڈ کی بلے بازی آئی تو مارٹن گپٹل اور ٹام لیٹھم چائے کے وقفے تک موجود رہے۔ مگر وقفے کے بعد گپٹل زیادہ مزاحمت نہ کرسکے اور 23 رنز بنانے کے بعد جوش ہیزلووڈ کی گیند پر تھرڈ سلپ پر ڈیوڈ وارنر کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوگئے۔ گپٹل کے آوٹ ہونے کے بعد نیوزی لینڈ کے سب سے ذمہ دار بلے باز کین ولیمسن میدان میں اُترے اور اُنہوں نے لیتھم کے ساتھ مل کر 46 رنز کی شراکت داری قائم کی مگر جب ٹیم کا اسکور 102 تک پہنچا تو مچل اسٹارک کی گیند پر لیتھم 47 رنز بنانے کے بعد آوٹ ہوگئے۔

ابھی تک نیوزی لینڈ کی صورتحال بہت زیادہ خراب نہیں تھی مگر صورتحال اُس وقت خراب ہوئی جب اگلے پانچ اوورز میں محض 16 رنز پر نیوزی لینڈ کی مزید تین وکٹیں گرگئی۔ آوٹ ہونے والوں میں کپتان برینڈن مکولم، تجربہ کار روس ٹیلر بھی اور جیمز نیشام شامل تھے۔ اگر یوں کہا جائے کہ اِن پانچ اوورز میں نیوزی لینڈ کی کمر ٹوٹ گئی تو ہرگز غلط نہیں ہوگا۔

جب دن کا اختتام ہوا تو نیوزی لینڈ نے پانچ وکٹوں پر 157 رنز بنالیے تھے جبکہ فالو آن سے بچنے کے لیے اُسے مزید 199 رنز کی ضرورت ہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک اور مچل جانسن نے دو، دو وکٹیں لیں جبکہ جوش ہیزلووڈ کے حصے میں ایک وکٹ آئی۔

اب تک برسبین ٹیسٹ میں کھیلے جانے والے چھ سیشنز میں سے پانچ سیشن بلے بازوں کے نام رہے ہیں، لیکن اگر اِس میدان کے رویے کی بات کی جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گیند بازوں کو بذریعہ اسپیڈ اور باونس مدد ملتی رہتی ہے، جبکہ یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ 1988 سے اب تک میزبان آسٹریلیا ایک میچ بھی نہیں ہارا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آسٹریلیا کی جانب سے پہلے ٹیسٹ میں برتری حاصل رہتی ہے یا پھر نیوزی لینڈ کے کھلاڑی ہوش کے ناخن لیتے ہوئے میچ میں اپنی موجودگی کا احساس دلائیں گے۔

اب تک دونوں ٹیمیں 53 ٹیسٹ میچوں میں 53 بار آمنے سامنے آچکی ہیں جس میں آسٹریلیا 27 بار سرخرو ہوا ہے جبکہ نیوزی لینڈ کے حصے میں فتح کی خوش خبری صرف 8 بار ہی آئی ہے، بقیہ 17 میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔

Facebook Comments