آسٹریلیا ایک بار پھر نیوزی لینڈ کو پچھاڑنے میں کامیاب

یہ پانچواں دن تھا جب اسٹیو اسمتھ کل وقتی کپتان بننے کے بعد اپنی پہلی فتح کا خواب لیے میدان میں اُتر رہے تھے، اُنہیں یقین تھا کہ گیند باز اُن کو فتح دلانے میں کامیاب ہوجائیں گے، اور جیسا اُنہوں نے سوچا میچ کے آخری دن ویسا ہی ہوا کہ آسٹریلیا 208 رنز سے نیوزی لیںڈ کو شکست دینے میں کامیاب ہوگیا۔

جب آخری دن کا آغاز ہوا تو نیوزی لیںڈ کے تین کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے اور کپتان بریڈن مکولم اور تجربہ کار روس ٹیلر وکٹ پر موجود تھے۔ کھیل کے آغاز سے ہی مکولم اپنے روائتی انداز میں نظر آئے اور جارحانہ انداز اپنا کر مخالف ٹیم پر دباو بڑھانے میں بہت حد تک کامیاب رہے تھے مگر دوسری طرف سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

آخری دن کی پہلی وکٹ جوش ہیزلووڈ نے اُس وقت لی جب روس ٹیلر 26 رنز بنانے کے بعد اوپر آتی گیند کو نہ سمجھ سکے اور گلووز کو بال چھوتے ہوئی دوسری سلپ پر گئی جہاں کپتان اسمتھ نے باآسانی کیچ پکڑا۔ اِس وقت ٹیم کا اسکور 165 تھا۔

اِس اہم وکٹ گرنے کے باوجود مکولم نے اپنے طریقے کو تبدیل نہیں کیا اور مسلسل تیزی سے رنز بناتے رہے، ابھی ٹیم کا اسکور 205 تک پہنچا تو مچل جانسن نے جیمز نیشان کو محض تین رنز پر چلتا کیا۔ اگلے آنے والے بلے باز بی جے واٹلنگ تھے۔ اُنہوں نے کپتان کا تھوڑا بہت تو ساتھ دیا مگر جب ٹیم کا اسکور 242 تک پہنچا تو نیشام 13 رنز بنانے کے بعد وہ اسپنر نیتھن لیون کا شکار ہوگئے۔

ایک طرف کیوی کپتان آسٹریلوی گیند بازوں کا مسلسل دلیری سے مقابلے کررہے تھے تو دوسری طرف سے تمام ذمہ دار بلے بازی پویلین لوٹ چکے تھے، آسٹریلیا کو میچ جیتنے کے لیے مکولم کی وکٹ کی اشد ضرورت تھی، اور اِسی اہم ترین وکٹ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے مچل مارش، جن کی گیند پر مکولم 80 رنز بنانے کے بعد اسٹیو اسمتھ کے ہاتھوں دوسری سلپ پر کیچ آوٹ ہوگئے۔ اِن مشکل حالات میں ڈاگ بریسویل بلے بازی کے لیے آئے، لیکن نیوزی لینڈ کی پریشانیوں میں مزید اضافہ اُس وقت ہوا جب وہ بغیر کوئی رن بنائے پہلی ہی وکٹ پر مارش کا ایک اور شکار ہوگئے، یوں صرف ایک رن پر نیوزی لینڈ کی تین وکٹیں گریں، جس نے میچ پر آسٹریلیا کی گرفت اور مضبوط کردی۔

وکٹ پر موجود مارک کریگ کا ساتھ نبھانے ٹم ساوتھی آئے، اور صرف پانچ رنز بنانے کے بعد ہیزلووڈ کی تیز گیند بازی کا مقابلہ نہ کرسکے اور چلتے بنے۔ اب نیوزی لینڈ کے پاس میچ بچانے کا تو کوئی امکان نہیں تھا، اور صرف یہی ہوسکتا تھا کہ کم سے کم رنز سے شکست ہو، اور اِس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے مارک کریگ کا ساتھ آخری نمبر پر آنے والے ٹرینٹ بولٹ نے خوب نبھایا۔ دونوں نے آخری وکٹ کے لیے شراکت داری قائم کی۔ اِس موقع پر مچل اسٹارک کو گیند بازی کے لیے لایا گیا جنہوں نے بولٹ کو 15 رنز پر آوٹ کرکے آسٹریلیا کو 208 رنز سے فتحیاب کروایا۔

دونوں اننگز میں سنچری اسکور کرنے والے آسٹریلوی اوپننگ بلے باز ڈیوڈ وارنر کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ 13 نومبر سے پرتھ کے میدان میں شروع ہوگا۔

Facebook Comments