یونس خان، پاکستان کرکٹ کا ’سپرمین‘

2015ء پاکستان کرکٹ کے لیے ایک لحاظ سے غم کا سال ہے۔ عالمی کپ کے کوارٹر فائنل مرحلے میں شکست کے ساتھ ہی دو بڑے نام شاہد خان آفریدی اور مصباح الحق ایک روزہ کرکٹ کو خیرباد کہہ گئے اور اب سال کے آخری ایام میں یونس خان بھی ممکنہ طور پر ون ڈے کرکٹ چھوڑ دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ کے ‘سپرمین’ کے بین الاقوامی کیریئر کا ایک باب مزید بند ہوجائے گا۔ وہ 2009ء میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے ساتھ ہی مختصر ترین طرز کی کرکٹ کوچھوڑ گئے تھے اور اب انگلستان کے خلاف یادگار کامیابی کے ذریعے ایک روزہ کو بھی الوداع کہنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

یونس خان، پاکستان کے مایہ ناز لیکن بدقسمت ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ سالہا سال قومی کرکٹ ٹیم کے لیے خدمات انجام دینے کے باوجود انہیں وہ مقام نہیں ملا، جس کے وہ حقدار تھے۔ ہو سکتا ہے آنے والی نسلیں انہیں ایک عظیم بلے باز کے طور پر دیکھیں، فی الحال تو ایسا نہیں دکھائی دیتا۔ بہرحال، جب جب پاکستان کو ان کے کرشمے کی ضرورت پڑی ہے وہ میدان میں قلعہ کے نگہبان کے طور پر اترتے ہیں۔ ان کا پرجوش رویہ اورغیر معمولی رتبہ پاکستان کو بدترین مراحل سے بھی کھینچ لاتا۔ چاہے صورت حال کچھ بھی ہو، یونس ہمیشہ اپنا فطری کھیل کھیلتے ہیں اور پاکستان کو ایک محفوظ مقام تک پہنچاتے ہیں۔ چاہے وہ زمبابوے کے خلاف تیسری اننگز میں فاتحانہ ڈبل سنچری ہو یا سری لنکا کے خلاف ہدف کے تعاقب میں 171 رنز کی ناٹ آؤٹ باری، یونس کو ہمیشہ بہتر سے بہتر کی جستجو رہی ہے۔

سال گزشتہ میں آسٹریلیا کے خلاف یکے بعد دیگرے دو سنچریاں بنانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ یونس کو دوسرے کنارے پر جو بھی ساتھی میسر آیا، ان کے ساتھ وہ آگے بڑھتے رہے اور پاکستان کو شکست سے بچاتے رہے۔ مختصر طرز کی کرکٹ میں وہ بہترین کھلاڑی نہیں لیکن بلاشبہ یونس پاکستان کی تاریخ کے بہترین اور عظیم کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ہم ان کی ٹکر کے لیے سچن تنڈولکر یا کمار سنگاکارا کا نام تو نہیں لیں گے، لیکن یونس نے چند ایسے سنگ ہائے میل ضرور عبور کیے ہیں، جو اب تک کسی نے نہیں کیے۔ ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں چار سنچریاں ان کا ایسا کارنامہ ہے جو کبھی عظیم سچن نے بھی انجام نہیں دیا۔

یونس خان کا کھیلنے کا انداز کچھ مختلف ہے۔ اسپن گیندبازوں کے خلاف بڑے بڑے سویپ، بلے کو ترچھا کرکے گیند کو ٹہوکا دینا اور ایک، دو رنز دوڑنا یونس کی علامت ہے۔ وہ جاوید میانداد اور انضمام الحق جیسے عظیم پاکستانی بازوں سے قطعی مختصر ہیں۔ وہ اسپنرز کے خلاف آگے بڑھ کر گیند کو ہوا کی سیر کرانے میں بھی کبھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ وہ سب کچھ کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے گیندباز ان کے مقابلے میں اپنے ارادے پورے نہ کرسکے۔

یونس نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ انگلستان اور آسٹریلیا میں سیریز جیتنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کی خواہش ہے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا میں سنچری بنائیں۔ اگر انہیں موقع ملا تو واقعی وہ اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

انگلستان کے خلاف حالیہ سیریز میں انہوں نے جاوید میانداد کا 30 سال پرانا ریکارڈ توڑا اور پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے بلے باز بن گئے۔ 37 سال اور 102 ٹیسٹ مقابلوں میں انہوں نے 8832 رنز کا تاریخی ہندسہ عبور کیا، وہ بھی ایک شاندار چھکے کے ساتھ۔

یونس ٹیم پاکستان کے لیے امید کی ایک کرن ہیں، اور ایک گم گشتہ ہیرو بھی۔ امید ہے کہ وہ اپنے ایک روزہ کیریئر کا اختتام بھی شایانِ شان انداز میں کریں گے۔

Facebook Comments