یونس خان کا اچانک ایک روزہ کرکٹ چھوڑنے کا اعلان

پاکستان کے عظیم بلے باز یونس خان عرصے سے ایک روزہ دستے میں عدم شمولیت پر برہم ہوتے رہے ہیں لیکن جب پاکستان نے ٹیسٹ میں نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر انہیں انگلستان کے خلاف ایک روزہ سیریز میں شامل کیا تو انہوں نے اچانک پہلے مقابلے سے قبل ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ انگلستان کے خلاف ابوظہبی میں کھیلا گیا سیریز کے پہلے ون ڈے کے ساتھ ہی یونس خان کے محدود اوورز کے کیریئر کا خاتمہ ہوگیا۔

ایک روزہ کے 15 سالہ طویل کیریئر میں یونس خان نے کل 265 مقابلے کھیلے اور 7249 رنز بنائے اور یوں پاکستان کے لیے سب سے زيادہ رنز بنانے والوں پانچویں نمبر پر رہے۔ ایک طرف جہاں ٹیسٹ میں وہ سب سے زیادہ رنز بنا کر کئی ریکارڈ توڑ چکے ہیں، محدود اوورز کی کرکٹ میں اتنے نمایاں نہیں تھے۔ ان کا ایک روزہ اوسط محض 31.24، سنچریاں صرف سات اور نصف سنچریاں 48 تھیں۔ گزشتہ کم از کم چھ سال سے کارکردگی یونس کے شایانِ شان نہیں تھی۔ 2009ء سے اب تک انہوں نے 83 اننگز میں صرف 29.94 کے اوسط سے رنز بنائے تھے، جس میں صرف ایک سنچری شامل تھی۔ حالانکہ 2006ء سے 2008ء کے دوران 54 اننگز میں انہوں نے 42.79 کے اوسط اور پانچ سنچریوں کی مدد سے رنز بنائے تھے۔ البتہ ایک روزہ میں یونس خان پاکستان کے نمایاں اور ریکارڈ ساز فیلڈر ضرور رہے حتیٰ کہ آخری دن بھی انہوں نے ایک نہایت عمدہ کیچ تھاما۔

یونس خان نے ایک روزہ کو خیرباد کہتے ہوئے کہا کہ "مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ میں ایک روزہ کرکٹ کو چھوڑ رہا ہے۔ میں نے یہ فیصلہ اپنے اہل خانہ، اہلیہ اور قریبی دوستوں کے مشورے سے کیا ہے اور اب مطمئن بھی ہوں اور اللہ کا شکر گزار بھی کہ اس نے مجھ پر اتنے کرم اور مہربانیاں فرمائیں۔ ٹی ٹوئنٹی کی طرح ایک روزہ کرکٹ چھوڑنے کا بھی فیصلہ میں نے خود کیا ہے۔ اپنے 15 سالہ دور میں میں نے کپتان اور کھلاڑی دونوں کی حیثیت سے مثبت کھیل پیش کرنے کی کوشش کی لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ ایک روزہ کرکٹ چھوڑنے کا وقت آ چکا ہے۔"

ماضی میں پاکستان کے کپتان رہنے والے یونس خان نے مزید کہا کہ "مجھے امید ہے کہ نوجوان کھلاڑی اسی جذبے کے ساتھ کارکردگی پیش کریں گے، جس طرح نے میں نے اپنا کھیل پیش کیا اور نظم و ضبط اور فٹنس کا خیال رکھیں گے۔" انہوں نے کہا کہ "میں پاکستان کرکٹ بورڈ، سلیکشن کمیٹی اور اپنے تمام ساتھی کھلاڑیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے عزت دی اور میری حوصلہ افزائی کی۔ ایک روزہ کرکٹ چھوڑنا مشکل ضرور ہے لیکن میں کھیل کے ساتھ ایمانداری اور دیانت پر یقین رکھتا ہوں۔ پاکستان کرکٹ کا مستقبل روشن ہے، ہم اس کھیل میں چیمپئن بھی رہ چکے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم میں دوبارہ چیمپئن بننے کی پوری صلاحیت ہے۔"

یونس خان اب مصباح الحق کی طرح صرف ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ رواں سال مصباح الحق اور شاہد آفریدی کے بعد یونس خان کے ایک روزہ چھوڑنے کے بعد کہ اب پاکستان کرکٹ ایک نئے عہد میں داخل ہو گئی ہے کیونکہ معاملات اب مکمل طور پر نوجوان کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں ہیں اور انہوں نے ہی قومی کرکٹ کو آگے لے جانا ہے۔

Article Tags

Facebook Comments