سیریز کے آخری میچ میں پہلی فتح

عروج اور زوال کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہوا کرتی ہے، جب کوئی اپنے عروج پر ہوتا ہے تو کسی کی مجال نہیں کہ کوئی اُسے آنکھیں دکھائے، مگر جب وہی زوال پزیر ہو تو ماضی کے تمام حساب برابر کرنے کا موقع کوئی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، بس یہی کچھ ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے ساتھ گزشتہ کئی برسوں سے ہورہا ہے۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب اِس ٹیم میں کلائیو لائیڈ، طویل قامت گیند باز جوئیل گارنر، ایلون کالی چرن، میلکم مارشل جیسے عظیم کھلاڑی ہوا کرتے تھے، اُس دور میں خبر تب بنتی تھی جب ویسٹ انڈیز کسی میچ میں شکست سے دوچار ہوجائے، مگر اب سلسلہ یکسر تبدیل ہوگیا ہے، اب ویسٹ انڈیز کے لیے بڑی خبر تب بنتی ہے جب کسی میچ میں اُسے کامیابی حاصل ہوجائے۔ سری لنکا کے دورے پر طویل انتظار کے بعد بالآخر یہ خبر آچکی ہے کہ ویسٹ انڈیز دوسرے ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں ڈیوین براوو کی چار وکٹوں کی بدولت 23 رنز سے کامیابی حاصل کرلی اور یوں دورے کے آخری مقابلے میں پہلی فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان ڈیرن سیمی نے ٹاس جیت پر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا، اور یہ فیصلہ ابتداء سے ہی اُن کے حق میں گیا۔ اوپننگ بلے باز جانسن چارلس اور آندرے فلیچر نے ٹیم کو 62 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا۔ اگرچہ بعد میں آنے والے بلے باز کچھ خاص کارکردگی نہ دکھاسکے اور اگلی تین وکٹیں محض 35 رنز پر گرگئیں۔اِس نازک موقع پر ڈیوین براوو اور وکٹ کیپر دنیش رامدین نے کچھ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور 41 رنز کی شراکت داری قائم کی مگر اِس سے پہلے کہ وہ مزید خطرناک روپ دھارتے سری لنکن کپتان لاستھ مالنگا نے براوو کی وکٹ لے کر اپنی ٹیم کو راحت بخشی۔ پھر اگلے آنے والے کیرون پولارڈ بھی صرف پانچ رنز بناکر مالنگا ہ ہی کی گیند کا شکار ہوگئے۔ یہاں تک کہ مقررہ اوورز میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم 162 رنز ہی بناسکی۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے چارلس اور رام دین 34، 34 اور براوو 31 رنز بناکر کامیاب بلے باز رہے۔اگر سری لنکن گیند بازوں کی کارکردگی کی بات کی جائے تو مالنگا اور ملنڈا سری وردنا نے دو دو وکٹیں لیں۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں سری لنکن کارکردگی کو دیکھ کر خیال تو یہی تھا کہ یہ میچ بھی سری لنکا باآسانی جیت جائے گی، مگر ویسٹ انڈیز کے گیند بازوں کی شاندار کارکردگی کے سامنے سری لنکن بلے بازوں کی ایک نہ چلی اور پوری ٹیم محض 139 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

اگرچہ جیروم ٹیلر کوشال پریرا کو 12 رنز بنانے کے بعد آؤٹ کرنے میں تو کامیاب ہوگئے، مگر تلکارتنے دلشان کے ارادے کچھ اور ہی معلوم ہورہے تھے۔ اُنہوں نے اگلے آنے والے شیہان جے سوریا کے ہمراہ ہدف کا تعاقب شروع کردیا، اور ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ اگر یہ رفاقت مزید کچھ دیر قائم رہی تو میچ ویسٹ انڈیز کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

اِسی پریشانی کے عالم میں ویسٹ انڈیز کے کپتان سیمی نے ڈیوین براوو کو گیند بازی کے لیے بلایا اور جس مقصد کے لیے بلایا تھا، وہ مقصد براوو نے جے سوریا کو 30 رنز آؤٹ کرکے پورا کردیا۔ دلشان اور جے سوریا نے دوسری وکٹ کے لیے 70 رنز کی شراکت داری جوڑی تھی۔

بس اِس نقصان کے بعد سری لنکن ٹیم نہ سنبھل سکی۔ صرف ایک ہی رن بعد روی رامپال نے دنیش چندیمال کو بھی آؤٹ کردیا، یوں 94 رنز پر تین کھلاڑی آؤٹ ہوچکا تھا۔ بات صرف یہی نہیں رکی بلکہ اگلی سات وکٹیں صرف 45 رنز کے اضافے پر گرگئیں اور یوں سری لنکا کو سیریز میں پہلی اور آخری شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ٹی ٹوئنی سیریز 1-1 سے برابر ہوگئی۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے براوو نے شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کیا اور چار اوورز میں 28 رنز دے کر چار وکٹیں لینے میں کامیاب ہوگئے۔ اُن کا ساتھ دیا روی رامپال نے، جنہوں نے چار اوورز میں 20 رنز دیکر تین وکٹیں حاصل کیں۔

واضح رہے کہ سری لنکانے ٹیسٹ سیریز دو۔صفر سے جبکہ ایک روزہ سیریز تین۔صفر جیتی تھی لیکن ٹی ٹوئنٹی میں کامیابی حاصل نہ کرسکا اور برابری پر اکتفا کرنا پڑا۔

Facebook Comments