عمر اکمل پراسرار انداز میں ٹی ٹوئنٹی دستے سے باہر

پاکستان انگلستان کے خلاف آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے اپنے دستے کا اعلان کردیا ہے جس میں حیران کن طور پر عمر اکمل شامل نہیں ہیں۔ پاکستان نے جب ستمبر میں اپنا آخری ٹی ٹوئنٹی کھیلا تھا تو عمر اکمل میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے لیکن اب اگلے میچ کے لیے وہ دستے میں ہی شامل نہیں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ ان کے اخراج کی وجہ کارکردگی نہیں بلکہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہے۔

عمر اکمل پر الزام ہے کہ انہیں چند روز قبل قائد اعظم ٹرافی کے ایک مقابلے کے لیے حیدرآباد میں قیام کے دوران پولیس نے ایک نازیبا محفل سے گرفتار کیا تھا۔ گو کہ پولیس نے اب تک نہ ان کی گرفتاری ظاہر کی ہے اور نہ ہی ان کا معاملہ طشت از بام کیا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہمیشہ کی طرح کھلاڑیوں کے نجی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ جس طرح ماضی میں انتخاب عالم شعیب اختر کے خفیہ مرض کو سرعام کہتے پائے گئے، بلکہ اسی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر ہارون رشید نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمر اکمل کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے اور انہیں پاکستان کرکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ عمر اکمل قائد اعظم ٹرافی میں کھیلے گئے مقابلے میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی نمائندگی کررہے ہیں اور آج ہی ان کی ٹیم نے حیدرآباد کے خلاف کامیابی بھی حاصل کی ہے لیکن یہ معاملہ ان کے کیریئر کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے۔

بہرحال، اس معاملے کو ایک طرف رکھ دیں تو ہمیں دستے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دکھائی دیتی، سوائے رفعت اللہ مہمند کی شمولیت کے۔39 سال کے تجربہ کار اور فرسٹ کلاس کے مایہ ناز بلے باز رفعت پاکستان کے ان بدقسمت کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں، جنہیں کبھی ملک کی نمائندگی کا موقع نہیں ملا۔ وہ اس حد تک مایوس ہوئے کہ افغانستان تک منتقل ہونے کی کوشش کی کہ وہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے ہی بین الاقوامی کرکٹ کھیل سکیں لیکن وہ ایسا کرنے کے لیے درکار معیارات پر پورا نہیں اترے اور ان کے پاس ڈومیسٹک کھیلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ بچا۔ لیکن اب کیریئر کے بالکل اختتامی مرحلے میں انہیں یہ اعزاز مل رہا ہے اور غالباً ان کی اہم کوشش یہ ہوگی کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی2016ء کے لیے خود کو ثابت کریں۔

پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کے علاوہ باقی ایک روزہ مقابلوں کے لیے بھی افتخار احمد کو طلب کیا ہے جو اچانک ریٹائر ہونے والے یونس خان کی جگہ کھیلیں گے۔ ایک روزہ کھیلنے سے محروم عماد وسیم فٹ ہونے کی صورت میں ہی ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کر پائیں گے۔ایسا نہ ہونے کی صورت میں بلال آصف پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

تین ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی سیریز 26 نومبر سے شروع ہوگی۔ جس کے لیے اعلان کردہ دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

شاہد آفریدی (کپتان)، احمد شہزاد، افتخار احمد، انور علی، رفعت اللہ مہمند، سرفراز احمد، سہیل تنویر، شعیب ملک، صہیب مقصود، عامر یامین، عماد وسیم، عمران خان، محمد حفیظ، محمد رضوان، محمد عرفان اور وہاب ریاض۔

Facebook Comments