دنیا کے 10 خطرناک ترین بلے باز

کرکٹ پر ایک دور ایسا گزرا ہے جب طویل اننگز کی صلاحیت رکھنے والے کو بڑا کھلاڑی سمجھا جاتا تھا۔ پھر وقت نے کروٹ لی، مصروفیت کا زمانہ آیا تو ٹیسٹ کے بجائے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی شناخت بنتا جا رہا ہے اور اب صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ کرکٹ کے چاہنے والے یہ نہیں دیکھتے کہ کس نے کتنی طویل اننگز کھیلی، بلکہ زیادہ دیر تک وکٹ پر رہنے والوں کو’’سست‘‘ کہہ کر مسترد کردیا جاتا ہے۔ اب تو اُسی بلے باز کا دلوں پر راج ہوتا ہے، جو اندھادھند بلے بازی قائل ہو اور بے رحمانہ انداز میں بیٹنگ کرے۔

ٹی ٹوئنٹی عہد کے آغاز سے اب تک ایسے کتنے بلے باز رہے ہیں؟ بہت سارے لیکن بہترین کون سے ہیں؟ انہی کی فہرست یہاں پیش کی جا رہی ہے یعنی وہ بلے باز جو اپنے جارحانہ مزاج اور انداز کی وجہ سے پوری دنیا میں مقبول ہوئے۔

کیون پیٹرسن

kevin-pietersen

جب کیون پیٹرسن نے بین الاقوامی کرکٹ کے لیے پرواز کی کوشش کی تو قومی ٹیم میں جگہ کا حصول مشکل دکھائی دیتا تھا مگر ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انگلستان نے اپنے تجربہ کار بلے باز گراہم تھارپ کو بٹھانے کا مشکل ترین فیصلہ کیا جسے پیٹرسن نے ٹھیک ثابت کیا۔ اگر کہا جائے کہ 2005ء کی تاریخی ایشیز سیریز میں انگلستان کی کامیابی میں پیٹرسن کا کردار انتہائی اہم تھا، تو غلط نہیں ہوگا۔ اپنے جاندار شاٹس اور بہترین بلے بازی کے ذریعے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے کے بعد وہ نہ صرف جارح مزاج بلکہ فتح گر کھلاڑی بھی بن گئے۔

پیٹرسن دنیائے کرکٹ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل ہونے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے۔ ہر طرز کی کرکٹ میں مزید کامیابیاں دلانے کی قوت ان کے پاس تھی اور انہوں نے 2010ء میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی صورت میں انگلستان کو تاریخ کا واحد بڑا ٹورنامنٹ جتوا کر یہ بات ثابت بھی کی۔ مگر کھلاڑیوں کے ساتھ اختلاف رائے اور نظم و ضبط کے مسائل نے ان پر دروازے ہمیشہ کے لیے بند کردیے۔ گرچہ پیٹرسن کے لیے یہ فیصلہ بہت بڑے صدمے کی حیثیت رکھتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اب مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز میں اپنے جوہر دکھا رہے ہیں۔

کیرون پولارڈ

kieron-pollard

ویسٹ انڈیز کے کیرون پولارڈ کتنے خطرناک بلے باز ہیں، یہ بتانے کی شاید ہمیں ضرورت نہیں کیونکہ ٹی ٹوئنٹی میں 142.33 کا اسٹرائیک ریٹ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پولارڈ بلاشبہ اس وقت دنیا کے برق رفتار ترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں اور اننگز کے آخری اوورز میں تو ان کی بلے بازی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

طویل قامت پولارڈ گیند کو باآسانی میدان سے باہر پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جس دن بلے کے ساتھ ان کا نصیب بھی چل رہا ہو تو سامنے دنیا کا کوئی باؤلر نہیں ٹک سکتا۔ پولارڈ کو جو چیز دیگر تمام جارح مزاج بلے بازوں پر فوقیت دیتی ہے وہ ان کی زبردست باؤلنگ اور شاندار فیلڈنگ کی اضافی صلاحیت بھی ہے۔

برینڈن میک کولم

brendon-mccullum

یہ برینڈن میک کولم کا جنگجویانہ مزاج تھا کہ نیوزی لینڈ تاریخ میں پہلی بار عالمی کپ کے فائنل تک پہنچا۔ جب سے میک کولم کپتان بنے ہیں، انہوں نے ٹیم میں نئی روح پھونک دی ہے۔ گرچہ وہ وکٹ کیپر بھی ہیں، اور قیادت بھی کررہے ہیں لیکن دنیا بھر میں جس شناخت کی وجہ سے وہ معروف ہیں وہ ان کی جارح مزاجی ہے۔

ایک روزہ کرکٹ میں 95.03 کا اسٹرائیک ریٹ تو ایک طرف لیکن تیز ترین فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی میں کئی ریکارڈز برینڈن میک کولم کے پاس ہیں۔ بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ رنز، سب سے زیادہ سنچریاں، سب سے زیادہ نصف سنچریاں، کیریئر میں سب سے زیادہ چھکے اور سب سے زیادہ چوکے یہ سب ریکارڈز میک کولم کے پاس ہیں۔ وہ تن تنہا میچ کا نقشہ بدنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ابتدائی اوورز کے پاور پلے میں ملنے والی سہولت سے فائدہ اٹھا کر حریف میں دباؤ میں لانا خوب جانتے ہیں۔ ان کی اصل خوبی جرات مندی ہے، وہ دنیا کے کسی بھی گیندباز پر حملہ کرنے سے ہچکچاتے نہیں، گو کہ اس کی کبھی کبھار ان کو بھاری قیمت بھی چکانی پڑتی ہے لیکن یہ بہادری ان کا خاصا ہے۔

ایک روزہ کرکٹ میں 95.03 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز اسکور کرنے والے دنیا کے خطرناک ترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں جو کبھی بھی میچ کا نقشہ بدلنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ابتدائی اوورز میں پاور پلے کے ذریعے ملنے والی سہولت سے پورا پورا فائدہ اُٹھاتے ہیں تاکہ شروع میں ہی مخالف ٹیم اُن کے دباو میں آجائے۔ اُن کی اصل خاصیت یہی ہے کہ وہ کسی بھی گیند باز پر حملہ کرنے سے ہچکچاتے نہیں ہیں پھر چاہے وہ تیز گیند باز ہوں یا اسپنرز۔

ایڈم گلکرسٹ

adam-gilchrist

کرکٹ میں بدلتے ہوئے رحجانات کو دیکھا جائے تو یہ تبدیلی گزشتہ چار سے پانچ سالوں میں ہی آئی ہے۔ یعنی جو جتنا تیز کھیلے گا، وہی کامیاب و کامران ہوگا۔ مگر جس دور میں ایڈم گلکرسٹ کھیلا کرتے تھے، اس دور میں سنبھل کر کھیلنے کا رواج تھا مگر گلکرسٹ رواج و روایات کی کہاں پروا کرتے تھے۔ وہ بڑے دل کے کھلاڑی تھے اور دل کھول کر کھیلتے تھے۔ 96.94 کا اسٹرائیک ریٹ رکھنے والے گلکرسٹ کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ جارحانہ بلے بازی کے ابتدائی ستاروں میں سے ایک تھے، تو غلط نہ ہوگا۔ طویل عرصے تک ایک روزہ کرکٹ میں آسٹریلیا کے لیے اوپنر کی ذمہ داری نبھائی بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں رہے۔

ایک روزہ میں ابتدائی اوورز میں بہترین آغاز فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھاتے تو دوسری جانب ٹیسٹ میں چھٹے نمبر پر آ کر اننگز مستحکم کرنے میں مدد دیتے۔ درحقیقت یہ گلکرسٹ ہی تھے جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ اب وہ دور ختم ہوگیا کہ صرف وکٹ کیپنگ کی صلاحیت کی بنیاد پر کسی کو کھلایا جائے، بلکہ وکٹوں کے پیچھے ذمہ داری نبھانے کے ساتھ ساتھ وکٹوں کے سامنے یعنی بیٹنگ میں بھی دم ہونا چاہیے۔ ایسا کرکے ہی کوئی وکٹ کیپر ٹیم میں اپنے مقام کو مضبوط کرسکتا ہے۔

سنتھ جے سوریا

sanath-jayasuriya

90ء کی دہائی میں بلے بازی کے طریقوں کو سرے سے بدلنے والے سری لنکا کے سنتھ جے سوریا تھے۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ ایک روزہ کرکٹ میں ابتدائی 15 اوورز میں فیلڈنگ کی پابندیوں کا کس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ گیندبازوں پر "لاٹھی چارج" کا آغاز دراصل جے سوریا نے ہی اپنے ساتھی رمیش کالووتھارنا کے ساتھ شروع کیا تھا اور اس زمانے میں تیز رفتاری کا کوئی ریکارڈ ایسا نہ تھا جو جے سوریا کے پاس نہ ہو۔ تیز ترین سنچری اور نصف سنچری ان میں سب سے نمایاں تھے۔ ان کی دھواں دار بلے بازی مخالف پر ابتدا ہی میں ایسا دباؤ قائم کرتی کہ وہ پھر اس بوجھ تلے سے نکل نہ پاتا۔

445 ایک روزہ مقابلوں میں 91.20 کے اوسط سے 13430 رنز، اس سے زیادہ شاید کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہ وقت تھا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا تصور بھی نہیں تھا اور سچ کہیں تو شاید جے سوریا کی بلے بازی کو دیکھتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی کی کمی محسوس بھی نہیں ہوتی تھی۔

گلین میکس ویل

glenn-maxwell

آج کی کرکٹ میں چند کھلاڑی ایسے ہیں جو مخالف کے لیے کسی 'بم' سے کم نہیں۔ ان میں سے ایک آسٹریلیا کے گلین میکس ویل ہیں۔ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں کس طرح آئے اور خطرناک ترین بلے بازوں میں شمار ہونے لگے، پتہ ہی نہیں چلا۔ وہ کب کون سا شاٹ کھیلیں گے؟ کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ تیز گیندبازوں کو ریورس اسکوپ کھیل ڈالیں یا سوئچ ہٹ کے ذریعے چھکا مار ڈالیں، وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ان کی کامیابی کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ کوئی بھی خطرہ مول لینے سے نہیں گھبراتے۔

اب تک ایک روزہ کرکٹ میں وہ 55 مقابلے کھیل چکے ہیں، اسٹرائیک ریٹ 126 سے زیادہ اور رنز 1535 ہیں۔ عالمی کپ کی تاریخ میں دوسری تیز ترین سنچری بنانے کا اعزاز بھی انہی کے پاس ہے جب انہوں نے عالمی کپ 2015ء میں سری لنکا کے خلاف صرف 51 گیندوں پر سنچری بنائی اور بعد ازاں عالمی چیمپئن بننے والے کھلاڑیوں میں شامل ہوئے۔

وریندر سہواگ

virender-sehwag

بھارت کے وریندر سہواگ جتنے بڑے کھلاڑی تھے، ان کے بین الاقوامی کیریئر کا اختتام اتنا ہی مایوس کن ہوا۔ ان کے چاہنے والے آج بھی ان کی روانگی پر مایوس ہیں۔ سہواگ بلاشبہ بھارت کی تاریخ کے سب سے خطرناک بلے باز تھے۔ ان کے پاس کھیلنے کا ایک ہی طریقہ تھا، وہ اسی کو ایک روزہ میں اپناتے اور یہاں تک کہ ٹیسٹ میں بھی اسی طریقے سے کھیلتے دکھائی دیتے۔

تقریباً ایک دہائی تک وہ بھارت کے اوپننگ بلے باز رہے۔ ان کی بنیادی کوشش یہ ہوتی کہ ایک تیز آغاز فراہم کرکے آنے والے بلے بازوں کی مشکلات ختم کی جائیں اور اکثر وہ اپنی کوششوں میں کامیاب رہتے۔ گیندبازوں کے لیے وہ خطرے کی علامت تھے تو مقابلہ دیکھنے والوں کے لیے بھرپور لطف کا سامان ان کے پاس ہوتا تھا۔ ایک روزہ میں 104.33 کا اوسط تو ان کا تھا ہی ٹیسٹ میں جہاں شاید ہی کوئی بلے باز 50 یا 60 کے اسٹرائیک ریٹ سے کھیل پاتا ہو، سہواگ نے ہر 100 گیندوں پر 83 سے زیادہ رنز بنائے۔

کرس گیل

chris-gayle

ان سے بھلا کون واقف نہیں؟ یہ دنیائے کرکٹ کے "جن" ہیں۔ طویل قامت اور بازوؤں میں طاقت اتنی کہ گیند بلے کو چھوتے ہی میدان سے باہر جا کر دم لے۔ جس دن وہ چل جائیں، دنیا کی کوئی طاقت ان کی ٹیم کو جیتنے سے نہیں روک سکتی۔ گو کہ ویسٹ انڈیز میں اب پہلے والا دم نہیں لیکن گیل کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ "کالی آندھی" کیا چیز ہوتی ہوگی۔

ٹی ٹوئنٹی میں ان کی "سفاکیت" کا اندازہ ان کے اسٹرائیک ریٹ سے لگایا جا سکتا ہے جو 142.59 ہے جبکہ دیگر طرز کی بین الاقوامی کرکٹ میں بھی ان میں "رحم" کا کوئی جذبہ نہیں پایا جاتا۔ گیل نے انڈین پریمیئر لیگ 2013ء میں بنگلور کی جانب سے کھیلتے ہوئے صرف 30 گیندوں پر سنچری بنائی تھی جو پروفیشنل کرکٹ میں کسی بھی بلے باز کی تیز ترین سنچری ہے۔

شاہد آفریدی

shahid-afridi

جب دنیا سنتھ جے سوریا کو دنیا کا تیز ترین بلے باز تصور کرتی تھی، تب ایک نوجوان نے جارح مزاجی کی نئی تعریف پیش کی، وہ بھی اپنی پہلی ایک روزہ اننگز میں۔ صرف 37 گیندوں پر سنچری کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی آمد کا اعلان کرنے والے شاہد خان آفریدی اپنی دھواں دار بیٹنگ کی وجہ سے "بوم بوم" کہلاتے ہیں۔ ایک روزہ کرکٹ میں ایک عرصے تک تیز ترین سنچری کا ریکارڈ ان کے پاس رہا ہے اور آج بھی وہ سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ وہ شاید بین الاقوامی کرکٹ کے واحد کھلاڑی ہوں گے، جن کے "طریقہ واردات" میں پہلے دن سے لے کر آج تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کی بیٹنگ کا "موڈ" ایک ہی ہے، آتے ہی گیندبازوں کا بھرکس نکالنا اور پھر اپنی راہ لینا۔ اس پر انہیں بہت تنقید کا بھی سامنا رہتا ہے کہ بطور سینئر کھلاڑی انہیں ذمہ داری سنبھالنی چاہیے لیکن وہ آفریدی ہی کیا جو کسی کی بات سن لے۔

چاہے وہ ایک گیند کو میدان سے باہر پھینک دیں، تب بھی وہ بغیر توقف کیے اگلی گیند کو بھی باہر پھینکنے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں۔ قسمت بھی ان پر خوب مہربان ہے۔ پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان ان کی شاندار کارکردگی کی بدولت فائنل تک پہنچا، لیکن بھارت سے شکست کھائی البتہ 2009ء میں اگلے ہی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں انہوں نے پاکستان کو تاریخی کامیابی دلائی اور ورلڈ چیمپئن بنایا۔ پھر ایشیا کپ 2014ء میں روایتی حریف بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف ان کی دو یادگار اننگز کو کون بھول سکتا ہے؟ آفریدی ٹیسٹ اور اب ایک روزہ بھی کرکٹ چھوڑ چکے ہیں اور محض ٹی ٹوئنٹی میں طبع آزمائی کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے کھیل کے منفرد انداز کی وجہ سے عرصے تک یاد کیے جائیں گے۔

ابراہم ڈی ولیئرز

ab-de-villiers

ایک کرکٹ کھلاڑی کے پاس کیا کیا صلاحیتیں ہونی چاہئیں؟ ان تمام کا مکمل پیکیج ہیں جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز۔ ایک ذمہ دار قائد، بہترین وکٹ کیپر، ایک پھرتیلے فیلڈر اور جو صورت حال اس کے حساب سے بلے بازی کرنے کا فن جاننے والے بیٹسمین۔ دور جدید میں شاید ہی کوئی بلے باز ہو جو ان خصوصیات میں ڈی ولیئرز کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

شاٹس میں جدت اور چاروں طرف کھیلنے کی صلاحیت کی وجہ سے انہیں "’’مسٹر 360‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے پاس ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری کا اعزاز بھی ہے، جو انہوں نے محض 31 گیندوں پر بنائی۔ ساتھ ساتھ تیز ترین نصف سنچری اور تیز ترین 150 رنز کے ریکارڈز بھی انہی کے قبضے میں ہیں۔

ڈی ولیئرز تمام طرز کی کرکٹ میں یکساں کارگر ہیں۔ ٹیسٹ میں تقریباً 52 کا اوسط، ایک روزہ میں 54 سے زیادہ کا اوسط اور 100 کا اسٹرائیک ریٹ اور ٹی ٹوئنٹی میں 126 کا اسٹرائیک ریٹ اور 23 کا اوسط، ایسا ہمہ جہت کھلاڑی کسی کے پاس نہ ہوگا۔ خاص طور پر ایک روزہ میں 100 سے زیادہ کا اسٹرائیک ریٹ اور 50 سے زیادہ کا اوسط رکھنے والے وہ تاریخ کے واحد بلے باز ہیں۔ ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کو کبھی کوئی عالمی اعزاز نہیں جتوا سکے اور اب ان کی نظریں آئندہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی پر ہیں جو اگلے مارچ میں بھارت میں کھیلا جائے گا، کیا اس مرتبہ وہ بدنصیبی سے جان چھڑا پائیں گے؟ یہ وقت بتائے گا۔

Facebook Comments