روس ٹیلر، یادگار اننگز کھیلنے والا بدنصیب بلے باز

آسٹریلیا کے شہر پرتھ کا میدان 'واکا'، جس کا نام آتے ہی ذہن میں پہلا تصور یہ ہوتا ہے کہ یہاں تیز گیندبازوں کی گیند وکٹ کیپر اپنے سینے پر اور باؤنسر سر کے اوپر پکڑتے ہیں۔ آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کے دوسرے ٹیسٹ سے قبل یہی سمجھا جا رہا تھا کہ مچل اسٹارک، مچل جانسن، ٹم ساؤتھی، ٹرینٹ بولٹ، ڈوگ بریسویل اور جوش ہیزل ووڈ کو یہاں باؤلنگ کرتے دیکھنا ایک شاندار نظارہ ہوگا لیکن چار دن کے کھیل میں اب تک 1441 رنز بن چکے ہیں اور 21 وکٹیں ہی گری ہیں۔ پہلے آسٹریلیا نے ڈیوڈ وارنر کی شاندار ڈبل سنچری کی بدولت 559 رنز بنائے اور پھر نیوزی لینڈ نے 87 رنز پر 2 وکٹیں گرنے کے بعد کین ولیم سن اور روس ٹیلر کی دلکش باریوں کی بدولت آسٹریلیا کے اس بڑے مجموعے پر بھی برتری حاصل کرلی۔ دونوں بلے بازوں نے 278 رنز کی شراکت داری قائم کی لیکن اہم سنگ ہائے میل سے محروم رہ گئے۔ پہلے ولیم سن 166 رنز پر آؤٹ ہوئے اور کیریئر کی دوسری ڈبل سنچری تک پہنچے بغیر ہی میدان سے لوٹ آئے۔ وہ تو پھر بھی اس مقام سے 34 رنز کے فاصلے پر تھے لیکن روس ٹیلر تو صرف 10 رنز کی کمی سے ٹرپل سنچری جیسے اعزاز سے محروم رہ گئے۔

روس ٹیلر 374 گیندوں پر 34 چوکوں کی مدد سے 290 رنز بنانے کے بعد نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹرپل سنچری بنانے والے دوسرے بلے باز بننے کے قریب تھے کہ ناتھن لیون کے ہاتھوں آؤٹ ہوگئے۔ اس طرح وہ 290 رنز بنانے کے باوجود ٹرپل سنچری نہ بنا پانے والے تاریخ کے محض چند بلے بازوں میں شامل ہوگئے۔ ان سے قبل نیوزی لینڈ کے بلے بازوں میں سے مارٹن کرو تاریخ کے بدنصیب ترین بلے باز بنے جب 299 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے جبکہ بریڈمین 299 رنز پر ناٹ آؤٹ رہ گئے۔

ٹرپل سنچری بین الاقوامی سطح پر کھیلنے والے کسی بھی بلے باز کا ایک خواب ہوتا ہے اور اس کے قریب پہنچنے کا موقع بھی خوش نصیبوں کو ملتا ہے۔ اگر کوئی اس جگہ تک پہنچ جائے کہ یہ اعزاز دسترس میں دکھائی دیے، لیکن اس کے باوجود محروم رہ جائے تو اس کا قلق تمام عمر رہتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو جاوید میانداد سے پوچھ لیں کہ جو زندگی میں محض ایک بار ٹرپل سنچری کے قریب پہنچے، لیکن کپتان عمران خان نے اننگز ڈکلیئر کردی اور وہ تاعمر دوبارہ کبھی یہاں تک نہیں پہنچ پائے۔ لیکن میانداد سے بھی بڑا دکھ مارٹن کرو کا تھا۔ جنوری 1991ء میں سری لنکا کے خلاف ویلنگٹن کے مقام پر وہ 299 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے ۔ 523 گیندوں پر 29 چوکو ں اور 3 چھکوں سے مزین یہ باری گزشتہ سال تک نیوزی لینڈ کے کسی بھی بلے باز کی طویل ترین اننگز تھی یہاں تک کہ اسی میدان پر برینڈن میک کولم نے 302 رنز کے ساتھ بھارت کے خلاف ٹرپل سنچری بنائی اور یہ اعزاز حاصل کرنے والے نیوزی لینڈ کے پہلے بلے باز بن گئے۔

Ross-Taylor

ٹیلر، مایوس تو ضرور ہوں گے لیکن انہوں نے چند ریکارڈز ضرور توڑے ہیں۔ ایک تو آسٹریلیا کی سرزمین پر کسی بھی مہمان بلے باز کی طویل ترین اننگز کا ریکارڈ اپنے نام کیا ہے۔ انگلستان کے ٹپ فوسٹر نے 1903ء میں سڈنی کے مقام پر آسٹریلیا کے خلاف 287 رنز بنائے تھے۔ یوں 111 سال پرانا ریکارڈ اب ٹیلر کے نام سے موسوم ہوگیا ہے۔ وہ آسٹریلیا میں 250 یا اس سے زیادہ رنز بنانے والے محض چار بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔ یہ 1993ء میں برائن لارا کی 277 رنز کی اننگز کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی بیٹسمین نے آسٹریلیا کے گیندبازوں کو انہی کے میدان پر 250 یا اس سے زیادہ رنز مارے ہوں۔

غالب امکان تو یہی ہے کہ اب روس ٹیلر دوبارہ کبھی ٹرپل سنچری کا ایسا سنہرا موقع نہیں پائیں گے کیونکہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی بلے باز پہلی بار 290 رنز تک پہنچا ہو، اور یہاں ٹرپل سنچری کا موقع ضائع کرنے کے بعد دوبارہ کبھی یہ اعزاز حاصل کر پایا ہو۔ بھارت کے وریندر سہواگ ضرور 293 رنز پر آؤٹ ہوئے تھے لیکن وہ اس سے قبل ہی دو مرتبہ ٹرپل سنچری کا مزا چکھ چکے تھے جبکہ عظیم ڈان بریڈمین 1932ء میں کھیلی گئی 299 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز سے قبل بھی ایک ٹرپل سنچری بنا چکے تھے اور اس کے بعد بھی یہ اعزاز حاصل کیا۔ لیکن ویسٹ انڈیز کے ویون رچرڈز انگلستان کے ایلسٹر کک اور ویسٹ انڈیز کے رام نریش سروان ٹرپل سنچری تو کجا دوبارہ کبھی اتنے رنز کے قریب بھی نہ پھٹک سکے۔

290 رنز تک پہنچنے کے باوجود ٹرپل سنچری سے محروم رہ جانے والے بلے باز

بلے باز ملک رنز گیندیں بمقابلہ بمقام بتاریخ
ڈان بریڈمین  آسٹریلیا 299* 559  جنوبی افریقہ ایڈیلیڈ جنوری 1932ء
مارٹن کرو  نیوزی لینڈ 299 523  سری لنکا ویلنگٹن جنوری 1991ء
ایلسٹر کک  انگلستان 294 545  بھارت برمنگھم اگست 2011ء
وریندر سہواگ  بھارت 293 254  سری لنکا ممبئی دسمبر 2009ء
ویوین رچرڈز  ویسٹ انڈیز 291 386  انگلستان اوول اگست 1976ء
رام نریش سروان  ویسٹ انڈیز 291 452  انگلستان برج ٹاؤن فروری 2009ء
روس ٹیلر  نیوزی لینڈ 290 374  آسٹریلیا پرتھ نومبر 2015ء

Facebook Comments