”ذمہ داری قبول کروں گا“، کیا اظہر علی نے شکست تسلیم کرلی؟

کیا پاکستان کے کپتان اظہر علی نے آخری اور فیصلہ کن مقابلے سے قبل ہی شکست تسلیم کرلی ہے؟ کیا انہوں نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے کہ انگلستان کے خلاف ہارنے کی صورت میں انہیں قیادت سے محروم کردیا جائے گا؟ اُن کے تازہ ترین بیانات تو یہی ظاہر کررہے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ سیریز میں شکست کی صورت میں وہ ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہوں گے۔ کہیں یہ اس امر کا اعلان تو نہیں کہ اگر قیادت چھوڑنے کا کہا گیا تو وہ کسی دوسرے کھلاڑی کی کپتانی میں بھی کھیلنے کو تیار ہوں گے؟

پاک-انگلستان سیریز کا چوتھا و آخری ایک روزہ کل دبئی میں کھیلا جائے گا۔ حتمی معرکے سے قبل پاکستان نے محض پہلا مقابلہ جیتا تھا لیکن گزشتہ دونوں میچز میں اسے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب پاکستان سیریز جیت تو نہیں سکتا، لیکن شکست سے بچنے کے لیے آخری مقابلے میں لازمی کامیابی کی ضرورت ہے۔ کپتان اظہر علی کہتے ہیں کہ آخری ون ڈے بہت اہمیت کا حامل ہوگا، اور سب کھلاڑی اس کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ہمیں یہ مقابلہ لازمی جیتنا ہے لیکن یہ آسان نہیں ہوگا۔ انگلستان نے آخری دونوں میچز میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور کامیابی حاصل کی ہے۔ اب ہماری باری ہے کہ ہم پورا زور لگائیں اور کامیابی حاصل کریں۔ اظہر علی کہتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ اگر اپنی صلاحیتوں کے مطابق کھیلے تو لازمی جیتیں گے۔

پاکستان نے عالمی کپ 2015ء میں مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد قیادت کے لیے اظہر علی کا انتخاب کیا تھا۔ یعنی وہی پرانا اصول اپنایا گیا کہ جس کھلاڑی کی ٹیم میں جگہ ہی نہ ہو اسے قیادت سونپی جائے۔ اس سے پہلے مصباح الحق کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی، جو کئی سالوں سے قومی دستے سے ہی باہر تھے اور پھر اظہر علی کو۔ جو تقریباً ڈھائی سال سے ایک روزہ اسکواڈ سے باہر تھے، اور جب واپس آئے تو کپتان کی حیثیت سے۔ گو کہ بحیثیت کپتان 16 مقابلوں میں سے 7 ہی جیت پائے لیکن 45 سے زیادہ کے اوسط کے ساتھ دو سنچریاں اور تین نصف سنچریاں بنا کر اظہر نے کافی حد تک خود کو ثابت کیا ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف اپنے پہلے امتحان میں ناکامی کے بعد اظہر نے زمبابوے اور سری لنکا کے خلاف تین سیریز جیتیں اور اب انہیں محض چھ ماہ میں قیادت کا سنگھاسن ڈولتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ "مستقبل کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جو ہماری دسترس میں نہیں ہے، اس پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ اس لیے بہتر یہی ہے جو گرفت میں ہے اس پر توجہ رکھی جائے۔ مجھے کچھ کھونے کا خوف نہیں ہے، میں نے اپنی ذمہ داری ایمانداری کے ساتھ نبھائی ہے۔ اس لیے جو بھی نتیجہ آیا، اسے کھلے دل کے ساتھ قبول کروں گا۔"

تیسرے ایک روزہ میں مایوس کن شکست کے حوالے سے اظہر علی نے کہا کہ "ہم ایک بڑے مجموعے تک پہنچ سکتے تھے لیکن ناکام رہے۔ پچ اتنی آسان نہیں تھی، اگر انگلینڈ کی اننگز کے دوران ہم ایک، دو اور وکٹیں حاصل کرلیتے تو شاید 208 رنز بھی حریف کے لیے آسان ثابت نہ ہوتے۔ بہرحال، پرستاروں کی طرح تمام کھلاڑیوں کو بھی سخت مایوسی ہوئی۔"

Facebook Comments