”دل خوش کردیا“، شاشنک منوہر بگ تھری کے بڑے مخالف

بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر، اور اسی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چیئرمین، شاشنک منوہر ہی "بگ تھری" کی بدنام زمانہ ترامیم اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم توازن کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ "بدمعاشی" ہے۔

بھارت کے معروف اخبار 'دی ہندو' سے گفتگو کرتے ہوئے منوہر نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے معاملات میں چند خامیاں ہیں، اور وہ چیئرمین کی حیثیت سے اپنے عہدے میں انہیں ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ "میں تین بڑے ملکوں کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو آنکھیں دکھانے کے عمل کو بہتر نہیں سمجھتا۔ یہ میری ذاتی رائے ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ادارے کو افراد کے مقابلے میں ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔ بین الاقوامی کرکٹ کے معاملات ہمیشہ اہلیت رکھنے والے فرد کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں چاہے ان کا تعلق زمبابوے یا ویسٹ انڈیز سے بلکہ ایسوسی ایٹ ممالک ہی سے کیوں نہ ہوں لیکن عہدہ اس شخص کو ملنا چاہیے جو آئی سی سی کے مفادات کا تحفظ کرے اور اسے پروان چڑھائے۔ اس وقت آئی سی سی کا دستور کہتا ہے کہ ادارے کی تمام بڑی کمیٹیوں میں بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان موجود ہوں گے اور تمام مالیاتی و کمرشل معاملات اور ایگزیکٹو کمیٹی ان تین ممالک کے نمائندوں کے کنٹرول میں ہوگی، جو غلط ہے۔"

جون 2016ء تک بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی صدارت پر موجود منوہر گزشتہ ہفتے دبئی میں تھے۔ اس دوران انہوں نے آئی سی سی کے امور سے آگہی حاصل کی کیونکہ این شری نواسن کے اخراج کے بعد بھارت نے انہیں بین الاقوامی کرکٹ کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے۔ شری نواسن ہی اصل میں "بگ تھری" منصوبے کے اصل معمار تھے جس کی منظوری فروری میں دی گئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ آئی سی سی کے بورڈ اراکین کو گزشتہ سال ہونے والے فیصلے رد کرنے کی تجویز دیں گے؟ منوہر نے کہا کہ "یہ بات میں نے انفرادی حیثیت میں کہی ہے، آئی سی سی کے عہدیدار کی حیثیت سے نہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔ البتہ ان تمام معاملات پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے سربراہ جائلز کلارک سے بات کی ہے اور انہوں نے مجھ سے اتفاق کیا ہے۔"

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت بھارت کو آئی سی سی کا چیئرمین، آسٹریلیا کو پانچ رکنی ایگزیکٹو کمیٹی کا سربراہ اور انگلستان کو مالیات و کمرشل معاملات کی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا اور یہ ہمیشہ ان عہدوں پر رہیں گے۔ یوں عالمی کرکٹ کے تمام اہم فیصلے ان تینوں ممالک کی گرفت میں ہیں۔ جس میں سب سے اہم مالی معاملات ہیں۔ منوہر نے بین الاقوامی کرکٹ کی آمدنی کے تقسیم کے مروجہ فارمولے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میں اس سے متفق نہیں، حالانکہ کہنے میں تو اچھا لگتا ہے کہ بھارت کو آئی سی سی کی کل آمدنی کا 22 فیصد ملے گا، لیکن اس طرح امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جائے گا۔"

حال ہی میں بی سی سی آئی کا اہم عہدہ سنبھالنے والے منوہر کہتے ہیں کہ "ایک اور اہم پہلو جس پر غور نہیں کیا گیا وہ یہ ہے کہ بھارت پیسہ کماتا ہے جب دوسرے ممالک یہاں کا دورہ کرتے ہیں اور کھیلتے ہیں۔ اگر زبردست مقابلہ دیکھنے کو نہ ملنے تو نشریات پیش کرنے والے اور اسپانسرز دونوں مقابلوں میں دلچسپی نہیں لیں گے۔ تو باہمی سیریز سے آپ جو کچھ کماتے ہیں وہ اس لیے کہ آپ کے خلاف اچھی ٹیمیں کھیلتی ہیں۔ اگر تمام ٹیمیں نویں یا دسویں نمبر کی ہوں اور بھارت ایک اچھی ٹیم ہو تو آپ کو کون ادائیگی کرے گا؟ اگر ہمیشہ یکطرفہ مقابلہ ہی ہو تو تماشائیوں کی دلچسپی کا کیا سامان باقی بچے گا؟ اب اس نئے نظام کے تحت تو آپ دیگر ممالک کی کرکٹ میں ترقی کو روک رہے ہیں، اس لیے آئی سی سی کو اس پہلو سے بھی غور کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں آئی سی سی کی سطح پر خامیاں ہیں جنہیں مجھے ٹھیک کرنا ہے۔"

دبئی میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے صدر دفاتر کے دورے کے بعد وطن واپس پہنچنے کے بعد اگلے ہی روز اس گفتگو میں منوہر نے آئی سی سی عہدیداران کے دو عہدوں کے معاملے پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہو رہا ہے۔ "موجودہ آئی سی سی دستور کے مطابق چیئرمین کا عہدہ بھارت کے نمائندے کا دیا جائے گا۔ اب سالانہ کانفرنس کے بعد انتخابات ہو رہے ہیں اور چیئرمین کے عہدے پر فائز شخص اسی وقت تک عہدے پر برقرار رہے گا جب تک کہ وہ اپنے ملک کا نمائندہ ہے۔ اب اگر 'الف' چیئرمین بنتا ہے اور 10 دن بعد بورڈ اسے ہٹا دیتا ہے تو اس کی جگہ "ب" آئی سی سی میں بھی نیا چیئرمین بنے گا اور چار ماہ بعد اگر اس کو بھی برخاست کردیا جاتا ہے تو "ج" چیئرمین کا عہدہ حاصل کرے گا۔ لوگ فرد کو ووٹ دیتے ہیں، وہ بورڈ کے رکن کو ووٹ نہیں دیتے۔ آئی سی سی کو چلانے کی صلاحیت کس شخص میں کتنی ہے، یہ بات سب سے اہم ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے ووٹ دیا جاتا ہے۔ لیکن اب جو دستور رائج ہے وہ درست نہیں ہے۔

شاشنک منوہر نے مزید کہا کہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل میں بھارت کے نمائندے کی حیثیت سے میرا اہم ترین کام بی سی سی آئی کے مفادات کا تحفظ ہے، تو میں آئی سی سی کے مفادات کا تحفظ کس طرح کر سکتا ہوں، وہ بھی اس وقت جب میں اس کا چیئرمین بھی ہوں؟ اگر بی سی سی آئی اور آئی سی سی کے مفادات کا تصادم ہو جائے تو مجھے بھارت کے مفادات کا تحفظ کرنا پڑے گا۔ یعنی میں اپنے ایک اہم فریضے کی ادائیگی میں ناکام ہو جاؤں گا کہ میں آئی سی سی کے چیئرمین کا عہدہ بھی رکھوں اور اس کے مفادات کا تحفظ بھی نہ کروں۔" انہوں نے کہا کہ "میرے حساب سے آئی سی سی کے دستور میں کئی خامیاں ہیں، جو "بگ تھری" ترامیم کے بعد آئی ہیں۔ پہلے صدر کا عہدہ ایسے شخص کو پاس ہوتا تھا جس کا کسی ملک کے بورڈ میں مفاد نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے پہلا کام یہ ہے کہ ہم اپنے بورڈ کے تمام عہدوں سے استعفے دیں، اس کے نتیجے میں آئی سی سی کے اجلاس میں وہ شخص بورڈ کے نمائندے کی حیثیت سے شریک نہیں ہوگا۔ ماضی میں ڈیوڈ مورگن، شرد پوار، ایلن آئزک اسی طرح صدر کے عہدوں پر آئے۔ اب انوکھی صورت حال ہے، جو دستوری ترامیم کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں مفادات میں براہ راست تصادم پیدا ہو رہا ہے۔"

واضح رہے کہ بھارت نے آسٹریلیا اور انگلستان کے ساتھ مل کر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے دستور میں ترامیم کروائی تھیں جس کے تحت تمام اہم عہدے ان تینوں ممالک کے پاس ہیں اور گویا وہ کرکٹ کے مختارِ کل ہو گئے ہیں۔ اب بھارت کی جانب سے ایسی معقول اور مدلل بات سامنے آنا ہوا کا ایک تازہ جھونکا ہے اور امید ہے کہ منوہر اس معاملے پر کچھ کر کے دکھائیں گے۔

Facebook Comments