مقابلے سے زیادہ پچ موضوع بحث، جنوبی افریقہ شکست کے دہانے پر

بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ دو ہی دن میں آخری اننگز تک پہنچ گیا ہے۔ دوسرے روز 20 وکٹیں گرنے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناگ پور کی پچ پر کیسی بارودی سرنگیں نصب ہوں گی جس پر بھارت کے اسپن گیند بازوں نے جنوبی افریقہ کو صرف 79 رنز پر ڈھیر کردیا۔ گو کہ مہمان گیندبازوں نے بھارت کو دوسری اننگز میں 173 رنز سے زیادہ نہ بنانے دیے لیکن پہلی اننگز کے بڑے خسارے کی وجہ سے اب انہیں 310 رنز کا بھاری ہدف درپیش ہے اور صرف 32 رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد تو حالات ان کے لیے مزید خراب دکھائی دیتے ہیں۔

ناگ پور میں جاری سیریز کے تیسرے اور اہم ترین ٹیسٹ جنوبی افریقہ نے دن کا آغاز 11 رنز اور دو آؤٹ کے ساتھ کیا لیکن بھارت کے اسپن باؤلرز کو ان کی مزاحمت توڑنے میں صرف 24 مزید اوورز لگے۔ بھارت کے 215 رنز کے جواب میں جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز صرف 79 رنز پر تمام ہوئی جس میں اہم بلے باز ابراہم ڈی ولیئرز کا صفر اور کپتان ہاشم آملا کا صرف ایک رن پر آؤٹ ہونا بھی شامل تھا۔ ژاں پال دومنی نے 35 رنز کے ساتھ کچھ مزاحمت کی۔

روی چندر آشون اور رویندر جدیجا کے سامنے پروٹیز کی ایک نہ چلی، اور جنوبی افریقہ بھارت کے خلاف اپنے کم ترین اسکور پر ڈھیر ہوگیا۔ آشون نے پانچ، جدیجا نے 4 جبکہ باقی ایک بچنے والی وکٹ امیت مشرا نے حاصل کیں۔ یوں تمام وکٹیں اسپنرز کے ہتھے چڑھیں۔

بھارت کو دوسرے روز کھانے کے وقفے سے قبل ہی اپنی دوسری اننگز کی شروعات کا موقع مل گیا یعنی جنوبی افریقہ بمشکل ایک سیشن کا مہمان ثابت ہوا۔ گو کہ بھارت کی دوسری اننگز بھی کوئی اتنی متاثر کن نہیں تھا۔ کوئی بلے باز نصف سنچری تک نہ پہنچا اور پوری ٹیم 47 ویں اوور میں 173 رنز پر آؤٹ ہوگئی لیکن پہلی اننگز کی برتری کو ملائیں تو یہ کل 309 رنز بنتے ہیں جو جنوبی افریقہ کے خلاف تاریخی کامیابی کے لیے کافی ہیں۔شیکھر دھاون 39 اور چیتشور پجارا 31 رنز کے ساتھ نمایاں بلے رہے جبکہ روہیت شرما نے بھی 23 رنز بنائے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے عمران طاہر نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں لیکن اس پر خوش ہونے کے بعد زیادہ پریشان کن بات 310 رنز کا ہدف تھی۔ ستیان وان زیل ایک مرتبہ پھر آشون کے ہتھے چڑھے اور یوں جنوبی افریقہ کی پہلی وکٹ گریں اور میچ کے خاتمے سے قبل 'نائٹ واچ مین' عمران طاہر بھی آؤٹ ہوگئے۔ دوسرے دن کے اختتام پر جنوبی افریقہ دو وکٹوں پر 32 رنز پر کھڑا تھا۔ ڈین ایلگر 10 جبکہ ہاشم آملا 3 رنز پر کھیل رہے تھے۔ اب تیسرے دن جنوبی افریقہ کو کامیابی اور سیریز میں اپنے امکانات زندہ رکھنے کے لیے مزید 278 رنز کی ضرورت ہے، ورنہ "آزادی ٹرافی" بھارت جیت جائے گا، وہ بھی چوتھے اور آخری ٹیسٹ سے پہلے ہی۔

ویسے جو کارکردگی جنوبی افریقہ کے بلے بازوں نے اب تک دکھائی ہے، اس کے بعد جیتنے کا حق تو صرف 'کوہلی الیون' کا ہی ہے لیکن جنوبی افریقہ بہت عرصے سے عالمی نمبر ایک ہے اور اس کے بلے باز اگر جم گئے تو مقابلہ بہت دلچسپ بھی ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ گزشتہ 9 سال سے بیرون ملک کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہارا اور اب اس ریکارڈ کا انحصار ناگ پور ٹیسٹ کے تیسرے روز کے کھیل پر ہے۔ اگر جنوبی افریقہ اسپن جال توڑنے میں کامیاب ہو گیا تو ایک حوصلہ افزا کامیابی اس کی منتظر ہوگی، بصورت دیگر عالمی نمبر ایک کو ایک بڑا دھچکا ضرور پہنچے گا۔

Facebook Comments