کرکٹ کو متوازن کھیل بنانے کے لیے اہم سفارشات

کرکٹ قوانین کے رکھوالے میریلبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کی ورلڈ کرکٹ کمیٹی نے گیندباز کی نو-بال میں مدد فراہم کرنے والی نئی ٹیکنالوجی کا خیرمقدم کیا ہے اور ساتھ ہی امپائر کے فیصلے پر نظر ثانی (ریویو) کے سلسلے میں اہم سفارش کرنے کے ساتھ ساتھ گیند اور بلّے کے درمیان توازن قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

ورلڈ کرکٹ کمیٹی سابق کرکٹ کھلاڑیوں پر ایک آزاد فکر گاہ (تھنک ٹینک) ہے، جس نے چھ سال قبل ڈے/نائٹ ٹیسٹ کرکٹ پر سنجیدگی سے غور کرنے کی تجویز دی تھی۔ آج جبکہ ایڈیلیڈ میں یہ تاریخی مقابلہ آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کے مابین جاری ہے، موجودہ کمیٹی نے کرکٹ میں ٹیکنالوجی کو موضوع بحث بنایا ہے۔

مائیک بریئرلی کی زیر قیادت اس کمیٹی کو معروف سابق امپائر سائمن ٹوفل کی جانب سے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے جس میں گیندبازوں کی جانب سے کی جانے والی نو-بالز پر نظر رکھنے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں بتایا گيا ہے، جس پر تیسرے امپائر کی نظر ہوگی۔ کمیٹی نے ایسی نو-بالز کے لیے ایک تیز اور خودکار نظام کو ضروری قرار دیا گیا اور کہا کہ کھیل کو بہتر بنانے میں اس ٹیکنالوجی کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

کمیٹی نے جس اہم ترین معاملے پر غور کیا وہ یہ تھا کہ ایل بی ڈبلیو کے کسی بھی فیصلے میں جب معاملہ 'امپائرز کال' پر جائے تو اس صورت میں فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کا ریویو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ یعنی اگر فیلڈ امپائر نے بلے باز کو ناٹ آؤٹ دیا ہے اور گیند کا نصف اندرونی حصہ اسٹمپ کے نصف باہری حصے سے زیادہ باہر جا رہا ہے تو ایسی صورت میں اس وقت نہ صرف یہ کہ بلے باز کو ناٹ آؤٹ دے دیا جاتا ہے بلکہ فیلڈنگ ٹیم کو ایک قیمتی ریویو سے محروم بھی کر دیا جاتا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس صورت میں کہ جب گیند وکٹ کو چھو رہی ہو، فیلڈنگ ٹیم کو چھوٹ دی جانی چاہیے۔ البتہ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس صورت میں ہر 80 اوورز کے بعد دوبارہ 2 ریویوز دینے کا سلسلہ ختم کیا جا سکے گا۔

سب سے اہمیت کی حامل گفتگو وہ تھی جس میں کمیٹی نے کرکٹ بیٹ کی موٹائی کو محدود کرنے کی بات کی۔ اس کا کہنا ہے کہ بلے کی پیمائش اور معیار کھیل کے حسن کو گہنا رہا ہے۔ البتہ کمیٹی نے باؤنڈری کی طوالت، شاٹس کے انتخاب، کھلاڑیوں کی فٹنس، پچ کے معیار اور گیند کے رویے کو بھی اس ضمن میں اہم کردار کے طور پر تسلیم کیا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کرکٹ کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے مزید مشاورت کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں ایک رپورٹ ترتیب دینے اور جولائی 2016ء میں لارڈز میں اگلے اجلاس میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں ایک تجربے کا اعلان کیا ہے جس میں مہمان کو کاؤنٹی مقابلے میں پہلے گیندبازی کا موقع دیا جائے گا اور ٹاس صرف اسی صورت میں ہوگا جب مہمان ٹیم انکار کرے گی۔ ایسی کوئی بھی تبدیلی اگر ٹیسٹ میں کی جاتی ہے یہ ہوم گراؤنڈ پر ملنے والی برتری پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس وقت میزبان کو بہت زیادہ آسانی حاصل ہے بلکہ اسے 'ہوم ایڈوانٹیج' پر خاصی تشویش ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں 70 فیصد ٹیسٹ مقابلوں میں میزبان نے فتوحات حاصل کی ہیں۔ اس رحجان میں دیگر عوامل نے بھی حصہ ڈالا جیسا کہ مختصر دورے اور مقامی حالات سے مانوسیت پانے کے لیے مناسب وقت کی کمی، لیکن زیادہ تر اشارے پچ کی طرف جاتے ہیں، جو ایسی تیار کی جا رہی ہیں کہ مقامی ٹیم کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ملے۔ درحقیقت میدان کی انتظامیہ کو مکمل طور پر خود اختیار ہونا چاہیے کہ وہ مقامی حالات کی درست ترین عکاسی کرنے والی وکٹ بنائے جو گیند اور بلے کا حقیقی توازن پیش کرے۔

آخر میں کمیٹی نے ایک مرتبہ پھر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے انعقاد کی شدید خواہش بھی ظاہر کی۔ کمیٹی نے کھیل کے ان تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی ضرورت پر زور دیا۔

جاتے جاتے ذرا مندرجہ بالا تصویر کا احوال بھی سنتے جائیں۔ یہ جنوبی افریقہ کے عظیم کھلاڑی بیری رچرڈز ہیں۔ جن کے ایک ہاتھ میں وہ بلّا ہے جس سے انہوں نے نومبر 1970ء میں جنوبی آسٹریلیا کی جانب سے مغربی آسٹریلیا کے خلاف 325 رنز بنائے جبکہ دوسرے ہاتھ میں ڈیوڈ وارنر کا وہ بیٹ ہے جو اس وقت وہ ایڈیلیڈ اوول میں جاری آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کے تاریخی ٹیسٹ میں استعمال کر رہے ہیں۔

حیرت بلکہ خوف کے آثار بیری رچرڈز کے چہرے پر نمایاں ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ ایسے بیٹ کسی کھلاڑی کو زخمی بھی کر سکتے ہیں۔ "اسے بس کوئی ہتھیار نہیں سمجھتا۔ اس پرانے اور نئے بیٹ میں صرف دو ہی چیزیں مشترک ہیں، یہ لکڑی سے بنے ہیں اور دونوں میں 'گرپ' موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس سے کوئی بری طرح زخمی ہوگا کیونکہ گیند ان بلّوں سے ٹکرا کر بہت تیزی سے واپس پلٹتی ہے اور جب تک کوئی زخمی نہ ہوگا تب تک ایسے بیٹ بنانے کے رحجان میں مزید اضافہ ہی دیکھنے کو ملے گا۔"

کرکٹ بیٹ بنانے کے طریقوں میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے اور حیران کن امر دیکھیں کہ بیری رچرڈز کا یہ بلّا 2 پونڈز 7 اونس وزنی تھا جبکہ وارنر کا یہ بلّا جو دیکھنے میں اس سے بہت بڑا لگتا ہے محض 2 پونڈز 10 اونس کا ہی ہے۔

رچرڈز کہتے ہیں کہ بیٹ کے حجم کو محدود کرنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح وکٹ کی لمبائی، باؤنڈری کی کم از کم طوالت اور اسی طرح کے دیگر قوانین موجود ہیں۔

ایم سی سی کی ورلڈ کرکٹ کمیٹی کی جانب سے ان کے بیان کی حمایت نے معاملے کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے۔

Facebook Comments