جیتی ہوئی بازی پلٹ گئی، پاکستان ٹی ٹوئنٹی میں بھی ہزیمت کا شکار

پاکستان کی کرکٹ میں "ادھر ڈوبے، ادھر نکلے" رحجان کتنا پایا جاتا ہے، شارجہ کے میدان میں موجود ہزاروں تماشائیوں نے آنکھوں کے سامنے جبکہ کروڑوں کرکٹ شائقین نے کیمرے کی آنکھ سے دیکھا۔ جب آخری پانچ گیندوں پر جیتنے کے لیے 9 رنز کی ضرورت تھی تو دوسری گیند پر سہیل تنویر نے چھکا لگا دیا، اس کے بعد بھلا کیا رہ گیا تھا؟ چار گیندوں پر صرف تین رنز؟ جبکہ دوسرے کنارے پر 75 رنز بنانے والے شعیب ملک بھی موجود تھے۔ لیکن پاکستان شکست کے جبڑے سے فتح کھینچنے کے ساتھ ساتھ فتح کے کنارے سے شکست کی گہرائیوں میں گرنے کا "ہنر" بھی جانتا ہے۔ شعیب ملک کی پانچویں گیند پر فاتحانہ شاٹ لگانے کی ناکام کوشش پاکستان کو بہت مہنگی پڑی۔ آخری گیند پر بائے کا رن دوڑ کر بمشکل مقابلہ ٹائی کیا جا سکا لیکن سپر اوور میں "دماغ کی بتی" کی بجھ گئی۔ کرس جارڈن کے یادگار اوور میں پاکستان کے بلے باز صرف تین رنز بنا سکے اور انگلستان نے جواب میں پانچویں گیند پر ہدف کو جا لیا/ یوں تینوں ٹی ٹوئنٹی جیت کر میزبان نے یادگار کلین سویپ کیا اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے اپنی تیاریوں کا بہترین آغاز بھی کیا۔

سیریز کے ابتدائی دونوں مقابلوں میں بھی سنسنی خیز معرکہ آرائی کے بعد پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن تینوں مقابلے میں ہار سے اسے عالمی درجہ بندی میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ سیریز سے قبل وہ دوسری پوزیشن پر تھا لیکن شکست نے اسے چھٹے نمبر پر لا پھینکا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی صرف چار ماہ کے فاصلے پر ہے، یہ بدترین شکست پاکستان کی تیاری پر فیصلہ کن ضرب لگا سکتی ہے۔

بہرحال، شارجہ کے تاریخی میدان پر انگلستان نے ٹاس جیتا اور ایک مرتبہ پھر بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے عامر یامین کو اپنے ٹی ٹوئنٹی کیریئر کے آغاز کا موقع دیا جنہوں نے پہلا اوور پھینکا اور اولین گیند پر جیسن روئے کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔ انگلستان نے چھٹے اوور تک 48 رنز بنا کر حالات کو سنبھال لیا لیکن شاہد آفریدی کے "دہرے وار" نے اسے ایک مرتبہ پھر سخت مشکل سے دوچار کردیا۔ "لالا" نے اپنے پہلے ہی اوور میں جو روٹ کو کلین بولڈ کیا اور اگلی ہی گیند پر معین علی کے تیز رفتار شاٹ کو پکڑ کر انگلستان کو تین وکٹوں سے محروم کردیا۔ ابھی اننگز اچھی طرح سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ ایون مورگن، جوس بٹلر، اور سیم بلنگز بھی چل دیے۔ انگلستان 13 ویں اوور میں صرف 86 رنز پر کھڑا تھا۔ یہاں جیمز ونس نے 45 گیندوں پر 46 رنز کی ذمہ دارانہ کارکردگی دکھائی اور اپنی پہلی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ثابت کردیا کہ وہ انگلینڈ کی کرکٹ کا مستقبل ہیں۔ ان کا بھرپور ساتھ دیا کرس ووکس نے جنہوں نے 24 گیندوں پر 37 رنز کی بہت ہی عمدہ اننگز کھیلی اور انگلستان کو 154 رنز کے بہترین مجموعے تک پہنچایا۔ ووکس کی اننگز میں تین شاندار چھکے بھی شامل تھے جن میں سے ایک میدان سے باہر جا گرا تھا۔

پاکستان کی جانب سے شاہد آفریدی سب سے کامیاب گیندباز رہے جنہوں نے 4 اوورز میں صرف 19 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ سہیل تنویر نے بھی دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن 36 رنز دے کر۔ ایک، ایک وکٹ عامر یامین، انور علی اور شعیب ملک کو ملی۔

155 رنز کا ہدف پاکستان کے لیے زیادہ تو تھا ہی لیکن پہلے ہی اوور میں احمد شہزاد اور محمد حفیظ کے آؤٹ ہونے سے مزید مشکل بن گیا۔ شہزاد پہلی گیند پر چوکا لگانے کے بعد چار پر ناکامی کے بعد سٹپٹائے اور کلین بولڈ ہوگئے۔ ابھی ذہن سے صہیب مقصود اور عمر اکمل کے رن آؤٹ والا منظر محو ہی نہیں ہوا کہ پاکستان نے آج پھر یہ شرمناک منظر دیکھا۔ رفعت اللہ مہمند اور محمد حفیظ دونوں ایک ہی کنارے پر تھے اور امپائر کو ری پلے کے بعد فیصلہ لینا پڑا کہ کون آؤٹ ہے اور کون نہیں۔ اس مرتبہ قرعہ فال محمد حفیظ کے نام نکلا۔ جن کی اننگز صرف 1 رنز کی محتاج ثابت ہوئی۔

پہلے ہی اوور میں دو کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد جو کسر رہ گئی تھی وہ ڈیوڈ ولی کے اگلے اوور میں رفعت کے صفر پر آؤٹ ہونے سے مکمل ہوگئی۔ پاکستان ایک بدترین شکست کی جانب سے رواں تھا کہ محمد رضوان اور شعیب ملک نے حالات کو سنبھالا۔ دونوں نے 8 اوورز میں مجموعے کو 50 رنز تک پہنچایا۔ یہاں عادل رشید کے ایک ناقابل یقین کیچ نے مقابلے کو انگلستان کے حق میں پلٹانا شروع کیا۔ رضوان کا ایک بھرپور شاٹ جب عادل کے قریب پہنچا تو وہ زمین سے چند انچ کی بلندی پر تھا۔ تیز رفتاری کے باوجود عادل رشید نے اس کی راہ میں ہاتھ ڈالا اور گیند چپک گئی۔ امپائر کو درجنوں بار ری پلے دیکھنے کے بعد رضوان کے خلاف فیصلہ دینا پڑا کیونکہ فیلڈ امپائر شوزاب رضا نے انہیں آؤٹ قرار دیا تھا۔ رضوان اچھا کھیلتے دکھائی دے رہے تھے اور یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ اننگز صرف 24 رنز پر مکمل ہوگئی۔ کچھ ہی دیر میں عمر اکمل ہمیشہ کی طرح باؤنڈری لائن پر کیچ دے گئے، وہ بھی 9 گیندوں پر صرف 4 رنز بنا کر۔ اب تماشائیوں کے شور میں شاہد آفریدی میدان میں اترے۔ پاکستان کو 9 اوورز میں 90 رنز کی ضرورت تھی اور اگر 40 کی بھی ہوتی تو شاید "لالا" ایسے ہی بیٹنگ کرتے۔ تین شاندار چھکے، جن میں ایک میدان سے کہیں باہر جا کر گرا، بھی شامل تھا۔ جب 16 گیندوں پر درکار 27 رنز کے ساتھ پاکستان کی جیت یقینی نظر آتی تھی، ایک ناقص شاٹ کا انتخاب شاہد آفریدی کی اہم اننگز کا خاتمہ کر گیا۔ ڈیوڈ ولی کی ایک دھیمی گیند کو فائن لیگ کی جانب سویپ کرنے کی کوشش ناکام ہوئی۔ گیند لیگ اسٹمپ میں جا لگی۔ شاہد آفریدی 20 گیندوں پر 29 رنز بنا کر میدان سے واپس آئے اور اب تمام تر ذمہ داری شعیب ملک کے کاندھوں پر تھی جو بہت عمدگی سے کھیل رہے تھے۔ آخری اوور کی پہلی گیند پر انہوں نے رن دوڑا اور سہیل تنویر کو اسٹرائیک دی جنہوں نے ایک شاندار چھکا لگا کر مقابلے کا تقریباً خاتمہ ہی کردیا تھا لیکن فاتحانہ چھکا لگانے کی کوشش کا شعیب ملک کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ وہ پانچویں گیند پر لانگ آن پر کیچ دے گئے اور آخری گیند پر سہیل تنویر بائے کا ایک رن ہی دوڑ پائے۔ شعیب ملک نے 54 گیندوں پر 2 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 75 رنز بنائے لیکن صرف ایک آخری شاٹ نے ان کی پوری محنت پر پانی پھیر دیا۔

بہرحال، مقابلہ ٹائی ہوا تھا یعنی سپر اوور کھیلا جانا تھا۔ پاکستان کے کپتان شاہد آفریدی نے عمر اکمل کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ جو بھیانک ثابت ہوا۔ کرس جارڈن نے کیا ہی کمال کی باؤلنگ کی۔ سپر اوور میں اتنی شاندار باؤلنگ شاید ہی کسی نے دیکھی ہو۔ انہوں نے یارکر لینتھ کو پکڑا اور پھر اس کے ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ شاہد آفریدی نے اوور میں تین گیندیں کھیلیں، اور صرف دو پر لیگ بائے کے رن دوڑ پائے۔ عمر اکمل نے بھی تین کھیلیں> صرف ایک رن بنایا اور آخری پر کلین بولڈ ہوئے۔ پاکستان سپر اوور میں صرف اور صرف 3 رنز بنا سکا۔

انگلستان 4 رنز کے حصول کے لیے شاہد آفریدی کے خلاف ابتدائی چار گیندوں پر صرف دو رنز ہی بنا پایا لیکن پانچویں پر انور علی نے تھرو ضائع کیا اور یوں جوس بٹلر کو رن آؤٹ کرنے کا موقع ضائع کیا ورنہ ہو سکتا تھا کہ آخری گیند ضائع ہونے پر سپر اوور میں بھی مقابلہ ٹائی ہو جاتا۔ بہرحال، حق بہ حق دار رسید! انگلستان نے بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں جیسی کارکردگی دکھائی تھی، وہ واقعی تینوں میچز جیتنے کا حقدار تھا۔

پاکستان کی جانب سے انفرادی سطح پر تو چند کھلاڑیوں نے بہت اچھا کھیلا، جیسا کہ شعیب ملک نے اور شاہد آفریدی نے بھی اچھی باؤلنگ کے ساتھ قیمتی رنز بنائے لیکن فیصلہ کن لمحات پر مقابلے کو گرفت میں لینے کا فقدان دکھائی دیا اور وہی شکست کا باعث بنا۔

ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد انگلستان نے جس طرح محدود اوورز کی دونوں سیریز جیتی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میں ابھی کافی محنت کی ضرورت ہے۔

آخر میں شعیب ملک کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا جبکہ مین آف دی سیریز کے لیے انگلستان کے جیمز ونس کے نام کا اعلان کیا گیا۔

Facebook Comments