پاک-انگلستان کرکٹ سیریز میں شراب کے اشتہارات

پاکستان اور انگلستان کے مابین کرکٹ سیریز میزبان کے لیے مایوس کن نتائج کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔ ٹیسٹ میں پاکستان نے جہاں شاندار فتوحات حاصل کیں، وہی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مراحل میں بری طرح شکست کھائی۔ ایک روزہ میں انگلستان نے تین-ایک اور ٹی ٹوئنٹی میں تین-صفر سے شکست کھائی اور یوں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے صرف چار ماہ قبل پاکستان کی تیاریوں کو زبردست دھچکا پہنچا ہے لیکن اس سے بڑا دھچکا ہمیں پاکستان کی سیریز میں شراب کے اشتہارات دیکھ کر ہوا ہے۔ جی ہاں، وسط اکتوبر سے اب نومبر کے اختتام تک جاری رہنے والی ڈیڑھ ماہ پر مشتمل سیریز کے ہر مقابلے میں ایک معروف شراب ساز ادارے کا اشتہار مقابلوں میں جگمگاتا رہا۔

متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والی اس سیریز کا میزبان پاکستان تھا اور تعاون کرنے والے تمام اداروں کا براہ راست تعلق پاکستان کے ساتھ تھا اس لیے بھارت کے معروف شراب بنانے والے ادارے "رائل اسٹیگ" (Royal Stag) کے اشتہارات کا معاملہ بھی ضرور "اپنے بندے" نے ہی طے کیا ہوگا۔

قانوناً پاکستان میں شراب کا استعمال اور تشہیر جرم ہے۔ صرف لائسنس یافتہ ادارے اور دکانیں ہی اسے فروخت کرنے کی مجاز ہیں، وہ بھی صرف غیر مسلموں کو۔ وہ الگ بات کہ درحقیقت "مسلمانوں" ہی کی بڑی تعداد شراب خریدتی اور پیتی ہے لیکن قانوناً وہ جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور گرفتاری اور سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے میں شراب کی کھلے عام فروخت و کھپت نہیں دکھائی دیتی۔

لیکن پاک-انگلستان سیریز میں ایسا لگا کہ اشتہارات کے حصول کے لیے تمام تر اخلاقی و قانونی پابندیوں کو توڑ دیا گیا ہے۔ پہلے 'ٹائٹل اسپانسر' ایک ادارہ ہوتا تھا، پھر اسے دو کیا گیا، اب تو چار، چار اداروں کے اشتہارات میدان کے وسط میں زمین پر پھیلے نظر آتے ہیں۔جو کسر رہ گئی تھی وہ بجلی کی مدد سے چلنے والے اشتہارات سے پوری ہوگئی ہے۔ ہر چند سیکنڈ کے بعد بدلنے والا اشتہار میزبان بورڈز کے لیے ایک "نعمت" سے کم نہیں۔ اب وہ مخصوص اشتہار لگانے اور اسی کو دکھانے کے پابند نہیں بلکہ ایک ہی جگہ پر کئی اشتہارات چلا سکتے ہیں۔ انہی اشتہارات میں ہمیں رائل اسٹیگ کا اشتہار کئی بار نظر آیا ہے۔ 1995ء میں قائم ہونے والا یہ بھارتی ادارہ پڑوسی ملک کے بڑے شراب سازوں میں سے ایک ہے۔

یہ وہی ادارہ ہے جس کے لیے کام کرنے پر سابق کپتان وسیم اکرم کو 2004ء میں جرمانے اور معافی مانگنے کی سزائیں دی گئی تھیں۔ یہ اشتہار کبھی منظر عام پر تو نہیں آیا لیکن اسی سال رائل اسٹیگ کی مہم میں ہربھجن سنگھ، جونٹی رہوڈز اور گلین میک گرا سمیت مختلف کرکٹ کھلاڑی اشتہارات میں نمودار ہوئے تو ممکن ہے کہ انہوں نے وسیم اکرم کے لیے بھی ایک اشتہار بنایا ہو۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے کھلاڑی انفرادی سطح پر، بلکہ دوسرے ممالک سے کھیلنے والے مسلمان کھلاڑی بھی، شراب کے اشتہارات سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس کی عملی مثالیں اظہر محمود، فواد احمد، عثمان خواجہ، ہاشم آملا، عمران طاہراور فرحان بہاردین کی صورت میں موجود ہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ کا خود اس قبیح فعل کا مرتکب ہونا ناقابل معافی جرم ہے۔ اس پر ارباب اختیار کو کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

آپ ذیل میں پاک-انگلستان سیریز کے مختلف مراحل پر کھیل کے پس منظر میں رائل اسٹیگ کا اشتہار دیکھ سکتے ہیں۔

Alastair-Cook Sarfraz-Ahmed Eoin-Margan Mohammad-Hafeez

Facebook Comments